’پہلے چند منٹ تک حواس میں نہیں تھا‘

پیرکی شام لاہور کی مال روڈ پر ہونے والے دھماکے کے بعد شہر بھر کے ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔

اس دھماکے میں زخمی ہونے والے بیشتر افراد کو سر گنگا رام ہسپتال اور لاہور کے میو ہسپتال بھی لے جایا گیا۔

گنگا رام ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر نعمان مطلوب نے بی بی سی کو بتایا کہ ان میں سے سات سے آٹھ زخمی افراد کی حالت خطرے میں تھی جن کو فوری طور پر آپریشن تھیئٹر منتقل کیا گیا۔

ڈاکٹر نعمان مطلوب کا کہنا تھا کہ دھماکہ خودکش معلوم ہوتا ہے کیونکہ زخمیوں کے جسموں پر پیلٹس کے نشانات تھے۔ یاد رہے کہ ایسے پیلٹس خودکش جیکٹس کے بنانے میں استعمال کیے جاتے ہیں۔

دھماکے کی خبر پھیلتے ہی لوگوں نے اپنے پیاروں کی تلاش میں سر گنگا رام ہسپتال کا رخ کیا۔ زخمیوں کے لواحقین کو معلومات فراہم کرنے کے لیے ہسپتال انتظامیہ نے ہیلپ ڈیسک تو قائم کر رکھا تھا تاہم افرا تفری کے عالم میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد ہسپتال کے میڈیکل وارڈز کے باہر جمع ہو گئی جس کی وجہ سے ہسپتال کے عملے کو مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑا۔

لوگوں کا زیادہ رش آپریشن تھیئٹر کے باہر نظر آیا جہاں اپنے پیاروں کی خیریت کی خبر کا انتظار کرنے والے بے چین نظر آئے۔

دھماکے کے عینی شاہد آج ٹی وی کے اہلکار عون علی جعفری نے بی بی سی کو بتایا کہ دھماکے سے چند لمحے قبل ہی وہ اپنی ڈی ایس این جی وین کا دروازہ کھول کر نیچے اترے تھے جب ان کی گاڑی کے عقب سے زوردار دھماکے کی آواز آئی۔

خوش قسمتی سے وہ معمولی ہی زخمی ہوئے کیونکہ وہ وین کی دوسری جانب کھڑے تھے۔

عون علی جعفری کے مطابق دھماکے کے بعد ابتدائی چند منٹ وہ اپنے حواس میں نہیں تھے۔

جیسے ہی ان کو واقعے کی نوعیت کا اندازہ ہوا تو قریب ہی کھڑی اپنی گاڑی سے اپنا کیمرہ نکال کر لائے اور جائے وقوع کی تصاویر بنانے میں مصروف ہو گئے۔

دھماکے کے فوراً بعد مختلف اداروں کی ایمبولینسیں جائے وقوع پر پہنچ گئیں۔

دھماکے کے بعد سر گنگا رام ہسپتال میں مرکزی دروازے پر پولیس اور رینجرز کی نفری کو تعینات کر کے اسے عام لوگوں کے داخلے کے لیے بند کر دیا گیا۔

ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر نعمان مطلوب کے مطابق ہسپتال کے اضافی عملے کو بھی ڈیوٹی پر بلا لیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کا ہسپتال ایسی ایمرجنسی سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار تھا اور ان کے پاس کسی قسم کی ادویات یا عملے کی کوئی کمی نہیں۔

مال روڈ پر ہونے والے دھماکے کے وقت پنجاب بھر کی کیمسٹ ایسوسی ایشن کے نمائندے ڈرگ ایکٹ 2017 کے خلاف سڑک کو بند کر کے احتجاج کر رہے تھے اور انھوں نے صوبے بھر میں ہڑتال کا اعلان بھی کر رکھا تھا۔

احتجاج کے موقعے پر پولیس کے ایک بڑی نفری بھی تعینات تھی۔ پولیس کے مطابق دھماکے میں ہلاک ہونے والوں میں سات پولیس اہلکار شامل تھے جن میں ڈی آئی جی ٹریفک کیپٹن احمد مبین اور ایس ایس پی آپریشن زاہد گوندل بھی شامل ہیں۔

اسی بارے میں