’یہ کرکٹ تو محمد بن قاسم نے شروع کی تھی؟‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

سوشل میڈیا پر پاکستان میں بھی دنیا بھر کی طرح ویلنٹائن ڈے منایا گیا۔ سماجی رابطوں ویب سائٹس پر بہت سے صارفین نے اس دن کے حوالے سے اپنے پیاروں کو پیغامات بھی دیے۔

کچھ لوگوں نے اس دن کی نسبت سے اپنے ملک سے بھی محبت کا اظہار کیا۔

حمزہ نامی ایک صارف نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں لکھا ’ اگر ویلنٹائن کا مطلب اگر سچی محبت ہے تو پاکستان میرا ویلنٹائن ہے۔‘

پاکستان میں ہر سال کی طرح اس بار بھی ویلنٹائن ڈے کی آمد سے قبل یہ بحث شروع ہو چکی تھی کہ آیا اس دن کو منانا 'جائز' ہے یا نہیں۔

ویلنٹائن ڈے سے ایک روز قبل ایک شہری کی درخواست اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج شوکت عزیز صدیقی نے حکم دیا کہ عوامی مقامات پر ویلنٹائن ڈے نہ منانے دیا جائِے۔

عدالت کے علاوہ سوشل میڈیا پر بھی اس حوالے سے لوگ اپنا اپنا مقدمہ بھرپور انداز میں پیش کر رہے ہیں۔

سوشل میڈیا پر بہت سے لوگ ویلنٹائن ڈے کو منانا مغربی ثقافت کی بے جا تلقید قرار دے رہے ہیں تو بہت سے ایسے بھی ہیں جن کا کہنا ہے کہ اسے محبت کے ایک تہوار کے طور پر دیکھا جائے نہ کہ کسی مذہبی تہوار کے طور پر۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

پاکستان کے امریکہ میں سابق سفیر حسین حقانی نے اس حوالے سے ایک ٹوئٹ کی جس سے سوشل میڈیا پر خوب بحث چھڑ گئی۔

حسین حقانی نے ویلنٹائن ڈے منانے کو مغرب کی بےجا تقلید قرار دینے والوں پر طنز کرتے ہوئے ٹوئٹر پر اپنے ایک پیغام میں کہا کہ 'ویلنٹائن ڈے اور بسنت ہندوؤں اور گوروں کے تہوار ہیں، اور یہ کرکٹ تو محمد بن قاسم نے شروع کی تھی۔'

حسین حقانی کی اس ٹویٹ کے جواب میں اب تک سینکڑوں ٹویٹس ہو چکی ہیں۔

ایک صارف یاسمین نے حسین حقانی کو کو جواب دیتے ہوئے ٹوئٹر پر لکھا کہ 'حسین حقانی صاحب آپ غلط تقابل کر رہے ہیں۔ ایک کھیل اور بیرونی ثقافت کو پاکستان پر تھونپنے کا موازنہ نہیں کیا جا سکتا۔'

حسین حقانی کی اس ٹویٹ کو جہاں بہت سے لوگوں نے تنقید کا نشانہ بنایا وہی بہت سے لوگوں نے اسے سہرایا بھی اور اب تک یہ پانچ سو سے زیادہ بار ری ٹویٹ ہو چکی ہے۔