’حملہ آور کا ساتھی بھی دھماکے کی جگہ موجود تھا‘

رانا ثنا اللہ
Image caption پنجاب کے وزیرِ قانون کا کہنا تھا کہ ابتدائی شواہد اکٹھے کر کے انھیں تحقیقات کا حصہ بنایا جا رہا ہے

پنجاب کے وزیرِ قانون رانا ثنا اللہ کا کہنا ہے کہ پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں پیر کی شب ہونے والے خودکش حملے میں ایک سے زیادہ افراد ملوث تھے۔

پاکستانی ذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے وزیرِ قانون نے کہا کہ خودکش حملے کا ہدف پولیس ہی تھی اور حملے کے وقت حملہ آور شدت پسند کا ایک ساتھی بھی وہاں موجود تھا۔

لاہور دھماکے پر پنجاب میں سوگ، تحقیقات جاری

لاہور میں خودکش حملہ: کب کیا ہوا

لاہور ایک بار پھر نشانہ

لاہور کی مال روڈ دہشت گردوں کا نشانہ

رانا ثنا اللہ کے مطابق سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو ہائی کورٹ کی طرف سے مال روڈ یعنی جائے وقوع کی طرف جاتے دیکھا جا سکتا ہے۔

ان کا کا کہنا تھا کہ ان میں سے ایک شخص جس کی عمر 30 سے 35 سال کے لگ بھگ ہے، ممکنہ طور پر خودکش بمبار کا ہینڈلر معلوم ہوتا ہے جبکہ دوسرا شخص جس کی عمر 17 سے 18 سال کے درمیان لگتی ہے خودکش بمبار ہو سکتا ہے۔'

رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ حملہ آور پولیس کو نشانہ بنانا چاہتا تھا اور اسی لیے وہ مظاہرین کو چھوڑ کر پولیس اہلکاروں کی طرف بڑھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption دھماکے کی تحقیقاتی ٹیم نے منگل کو جائے وقوع کا دورہ کر کے مزید شواہد بھی اکھٹے کیے

پنجاب کے وزیرِ قانون کا مزید کہنا تھا کہ ابتدائی شواہد اکٹھے کر کے انھیں تحقیقات کا حصہ بنایا جا رہا ہے۔

مال روڈ پر چیئرنگ کراس کے مقام پر ہونے والے خودکش حملے میں سات پولیس اہلکاروں سمیت 13 افراد ہلاک اور 80 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔

بی بی سی کے نامہ نگار عمر دراز ننگیانہ کے مطابق واقعے کے ایف آئی آر منگل کو انسدادِ دہشت گردی ڈپارٹمنٹ کے تھانے میں درج کی گئی جس میں کہا گیا ہے کہ حملے میں مبینہ طور پر چار افراد ملوث تھے جن کو مشکوک جان کر موقع پر موجود پولیس اہلکاروں نے رکنے کا اشارہ کیا۔ ان میں سے ایک شخص بھاگ کر لوگوں کے ہجوم میں داخل ہوگیا جبکہ اس کے باقی تین ساتھی فرار ہو گئے۔

پولیس کے مطابق سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے بھی حملہ کرنے والے اور اس کے ساتھیوں کی نشاندہی کر لی گئی ہے۔

اس دھماکے کی ذمہ داری کالعدم جماعت الاحرار نے قبول کی ہے اور تنظیم نے خودکش حملہ آور کی تصویر بھی جاری کی ہے۔

دھماکے کی تحقیقاتی ٹیم نے منگل کو جائے وقوع کا دورہ کر کے مزید شواہد بھی اکھٹے کیے جس کے بعد چیئرنگ کراس کے علاقے کو ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption مال روڈ پر چیئرنگ کراس کے مقام پر ہونے والے خودکش حملے میں سات پولیس اہلکاروں سمیت 13 افراد ہلاک اور 80 سے زائد زخمی ہوئے

اسی بارے میں