’ہم نے ایک بہترین پولیس افسر کھو دیا‘

کیپٹن مبین تصویر کے کاپی رائٹ FACEBOOK
Image caption وہ محکمے میں اپنی خوش اخلاقی اور نرم طبیعت کی باعث خاصے مقبول تھے

لاہور میں پیر کی شب پنجاب اسمبلی کے باہر ہونے والے دھماکے میں ہلاک ہونے والوں میں چیف ٹریفک پولیس افسر کیپٹن (ر) سید احمد مبین بھی شامل تھے۔

منگل کو بیدیاں پولیس ٹریننگ سینٹر میں نمازِ جنارہ کے بعد جب انھیں کیولری گراؤنڈ کے قبرستان میں سرکاری اعزاز کے ساتھ دفنایا گیا تو اس موقع پر ہر آنکھ اشک بار تھی۔

کیپٹن ریٹائرڈ سید احمد مبین کے سوگواران میں ایک بیوہ، ایک بیٹا اور تین بیٹیاں شامل ہیں۔

کوئٹہ میں پیدا ہونے والے سید احمد مبین نے ابتدائی تعلیم مستونگ کیڈٹ کالج سے حاصل کی تھی اور 1996 میں وہ سول سروس کا امتحان پاس کرنے کے بعد فوج سے پولیس میں آئے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Facebook
Image caption کوئٹہ میں پیدا ہونے والے سید احمد مبین نے ابتدائی تعلیم مستونگ کیڈٹ کالج سے حاصل کی تھی

بلوچستان اور پنجاب میں دہشت گردی کے خلاف آپریشنز میں اہم کردار ادا کرنے والے احمد مبین کو ان کے ساتھی افسران اور ان کے ماتحت ایک نرم دل اور خوش اخلاق پولیس افسر کے طور پر یاد کرتے ہیں۔

ان کے ساتھی ایڈیشنل آئی جی پنجاب ہائی وے پٹرول، امجد جاوید نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ احمد مبین ایک مثالی پولیس افسر اور نیک دل ساتھی تھے۔

' کبھی ایسا نہیں ہوا کہ مشکل وقت ہو اور مبین ادھر نہ ہوں۔ ہم نے ہمیشہ ان کو اپنے ساتھ پایاـ وہ ہر وقت کام کرتا رہتا تھا، جب تک زندہ رہا، جاب پر تھا۔ 24 گھنٹے اپنے کام کو عبادت سمجھ کر کرتا رہا ، ہم نے اپنا بہترین پولیس افسر کھو دیا ہے۔'

احمد مبین اپنے کریئر کے دوران ڈی پی او قصور، ڈی آئی جی انویسٹی گیشن کوئٹہ ، ایس پی ماڈل ٹاؤن لاہور اور سی ٹی او لاہور کے عہدوں پر تعینات رہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ LAHORE CITY POLICE
Image caption منگل کو بیدیاں پولیس ٹریننگ سینٹر میں سید احمد مبین کی نماز جنازہ ادا کی گئی

دھماکے کے دن بھی وہ احتجاجی مظاہرین کی جانب سے بند کی گئی سڑک کھلوانے کے لیے مذاکرات کرنے ہی چیئرنگ کراس پہنچے تھے اور اپنے آخری لمحات میں بھی وہ چہرے پر مسکراہٹ سجائے لوگوں کو سمجھاتے نظر آئے۔

احمد مبین کو ان کی پیشہ وارانہ خدمات کے علاوہ انسان دوستی کے لیے بھی یاد کیا جاتا ہے۔

سنہ 2011 میں ان کی ہدایت پر ایک پولیس اہلکار کا علاج کرنے والے ڈاکٹر زمان خان نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 'ایک ماتحت وارڈن کے لیے وہ اس قدر پریشان تھے جیسے کوئی قریبی رشتہ دار ہو۔۔۔ میں نے اپنے پورے کریئر میں کیپٹن مبین جیسا افسر آج تک نہیں دیکھا۔'

اسی بارے میں