پشاور اور مہمند میں خودکش حملوں میں سکیورٹی اہلکاروں سمیت چھ ہلاک

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
پشاور میں ججوں کی وین پر حملہ

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور اور قبائلی علاقے مہمند ایحنسی میں شدت پسندی کے دو واقعات میں تین اہلکاروں سمیت کم از کم چھ افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔

حکام کے مطابق ان دونوں واقعات میں خودکش حملہ آوروں نے ایک سرکاری گاڑی اور ایجنسی ہیڈکوارٹر کو نشانہ بنایا۔

مہمند ایجنسی میں دہشت گردوں کا حملہ، دو ایف سی اہلکار ہلاک

پشاور میں خودکش حملہ بدھ کی دوپہر حیات آباد کے علاقے میں ہوا جہاں ججوں کو لے جانے والی گاڑی کو نشانہ بنایا گیا۔

اس سے قبل بدھ کی صبح غلنئی میں ایجنسی ہیڈکوارٹر کے مرکزی گیٹ پر بھی خودکش حملہ ہوا۔

پشاور پولیس کے ایس ایس پی سجاد خان نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ حیات آباد میں موٹرسائیکل پر سوار خودکش حملہ آور نے سرکاری ویگن کو نشانہ بنایا۔

ان کے مطابق اس حملے ویگن کا ڈرائیور ہلاک اور تین خواتین سمیت چار افراد زخمی ہوئے ہیں جنھیں ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

مہمند ایجنسی میں ہونے والے حملے کی تفصیل بتاتے ہوئے پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ نے کہا ہے کہ غلنئی میں ہونے والے خودکش حملے میں تین خاصہ داروں سمیت پانچ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

آئی ایس پی آر کے مطابق سکیورٹی اہلکاروں نے ایک خودکش حملہ آور کو بھی گولی مار کر ہلاک کیا ہے۔

مہمند ایجنسی کے پولیٹکل تحصیلدار عصمت اللہ وزیر نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ حملہ بدھ کی صبح ایجنسی کے صدر مقام میں واقع ایجنسی ہیڈکوارٹر کے مرکزی گیٹ پر ہوا۔

انھوں نے بتایا دو مبینہ خود کش حملہ آور ہیڈ کوارٹر کے احاطے میں واقع سرکاری دفاتر کی جانب جانے کی کوشش کر رہے تھے کہ اس دوران وہاں گیٹ پر موجود سکیورٹی اہلکاروں نے انھیں روکنے کی کوشش کی۔

عصمت اللہ وزیر کے مطابق اس دوران ایک حملہ آور نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا جب کہ دوسرے کو سکیورٹی فورسز نے فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا۔

ایجنسی ہیڈکوارٹر ہپستال میں موجود مقامی صحافیوں نے بتایا کہ دو شدید زخمی افراد کو پشاور منتقل کردیا گیا ہے۔

فوج کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ سکیورٹی اداروں کو افغانستان سے مہمند ایجنسی میں خود کش حملہ آوروں کے داخل ہونے کی اطلاع تھی۔

بیان کے مطابق سکیورٹی فورسز نے ایک خود کش حملہ آور کو مہمند ایجنسی کے سرکاری دفاتر کے گیٹ پر فائرنگ کر کے ہلاک کردیا جب کہ دوسرے نے خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔

بیان کے مطابق دھماکے میں ہلاک ہونے والوں میں تین خاصہ دار اور دو عام شہری ہیں۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ علاقے میں سرچ آپریشن جاری ہے۔

تاحال کسی تنظیم نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے لیکن مہمند ایجنسی کو کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان سے الگ ہونے والے دھڑے جماعت الاحرار کا مرکز قرار دیا جاتا ہے۔

جماعت الاحرار وہی شدت پسند تنظیم ہے جس نے پیر کو لاہور میں ہونے والے خودکش حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

پاکستان میں شدت پسندی کے واقعات میں اس اچانک اضافے پر بی بی سی اردو کے رفعت اللہ اورکزئی سے بات کرتے ہوئے دفاعی امور کے تجزیہ کار بریگیڈیئر (ریٹائرڈ) محمد سعد کا کہنا تھا کہ سرحد پار افغانستان میں جب بھی پاکستان مخالف تنظیموں کے خلاف کاروائی تیز ہوتی ہے تو اس کا ردعمل سرحد کے اس پار بھی ظاہر ہوتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان میں ہونے والی حالیہ کارروائیوں سے بظاہر لگتا ہے کہ ایک مرتبہ پھر 'پراکسی جنگ' پورے خطے میں تیز ہوتی جا رہی ہے۔

ان کا یہ بھی کا کہنا تھا کہ نیشنل ایکشن پلان پر عمل درامد میں فقدان نظر آتا ہے کیونکہ کچھ حکومت کی مجبوریاں ہیں جس میں مدرسوں میں اصلاحات قابل ذکر ہے جب کہ فاٹا میں اصلاحات پر بھی پوری طرح عمل درامد نہیں کیا جارہا۔

انھوں نے مزید کہا کہ حکومت کی ' اچھے اور برے' طالبان کی پالیسی بدستور موجود ہے اور جب تک یہ تقسیم رہے گی تو ملک میں مکمل امن قائم نہیں ہو سکتا۔

پاکستان کے دفتر خارجہ نے اسلام آباد میں افغان مشن کے نائب کو طلب کر کے کالعدم شدت پسند تنظیم جماعت الاحرار کی افغانستان میں موجود پناہ گاہوں سے پاکستان کی سرزمین پر ہونے والے حملوں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔

پاکستانی دفتر خارجہ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق منگل کو ایڈیشنل سیکریٹری برائےاقوام متحدہ اور یورپی کمیشن نے افغان مشن کے نائب سید عبدل ناصر یوسیفی کو طلب کیا گیا۔

بیان کے مطابق افغان سفارت کار سے مطالبہ کیا گیا کہ افغانستان اپنی سرزمین پر دہشت گردوں اور ان کی پناہ گاہوں، مالی معاونت کرنے والوں اور سہولت کاروں کو ختم کرنے کے لیے فوری کارروائی کرے۔

بیان کے مطابق افغان مشن کے نائب سربراہ سے دہشت گرد حملوں اور اس سے متعلقہ معلومات کا تبادلہ بھی کیا گیا۔

اسی بارے میں