پنجاب میں دوا سازوں کا احتجاج کیوں؟

ادویات تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ڈرگ ایکٹ کے مطابق ادویات کی درج شدہ مقدار کے مطابق فروخت اور اُن کی اسٹوریج کے نظام کا معیار اپنانا ضروری ہے

پاکستان ایک ایسا ملک ہے جہاں عوام کو کسی بھی بیماری کے علاج کے لیے تجویز کی جانے والی دوائیں ہسپتالوں سے فراہم کیے جانے کا باقاعدہ نظام موجود نہیں۔

تجویز کردہ دواؤں کے لیے عوام زیادہ تر میڈیکل سٹورز کا رخ کرتے ہیں۔ تین روز سے پاکستان کے صوبہ پنجاب کے زیادہ تر شہروں میں پاکستان فارماسوٹیکلز مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کی جانب سے احتجاجاً دوا سازی کا کام بند کردیا گیا ہے۔ اِس احتجاج کی وجہ حکومت پنجاب کی جانب سے پنجاب ڈرگ ایکٹ اُنیس سو چھہتر میں کی جانے والی ترامیم ہیں۔

ادویات کا اندراج: ذمہ دار کون؟

* 'ملک میں پچاس فیصد ادویات جعلی ہیں'

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے 12 سو کے قریب رجسٹرڈ دوا ساز ادارے بند ہونے سے دوا سازی کا کام معطل رہا جبکہ 60 ہزار میڈیکل سٹورز میں سے زیادہ تر بدھ کو بند رہے۔

گذشتہ تین روز سے جاری اس احتجاج کی وجہ سے نہ صرف مریضوں کو دواؤں کے حصول میں مشکلات پیش آئیں بلکہ جان بچانے والی ادویات کی مانگ بڑھ جانے کی وجہ سے بلیک ہونے کی شکایات بھی موصول ہوئی ہیں۔

لاہور کے بڑے اسپتالوں کی انتظامیہ نے جان بچانے والی ادویات کے ذخیرے میں کمی کے بارے میں خبردار کیا ہے۔ دیگر صوبوں میں قائم دوا ساز اداروں نے اپنی مصنوعات کو پنجاب کی جانب جانے سے روک دیا ہے۔ پاکستان فارماسوٹیکلز مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے احتجاج میں ہول سیلرز اور کیمسٹ ایسوسی ایشن بھی شامل ہو گئی ہے۔

پنجاب ڈرگ ایکٹ کی ترامیم

حکومت پنجاب نے عوام کو غیر معیاری اور جعلی ادویات کی فراہمی کو روکنے کے لیے پنجاب ڈرگ ایکٹ 1976میں ترامیم کی ہیں اور اِن ترامیم کی تشہیر آج بدھ کو ملک بھر کے بڑے اخبارات میں نمایاں اشتہارات کے ذریعے کی گئی ہے۔ اِن ترمیم کے چند نکات ہیں۔‘

  • ادویات کی تیاری کے مراحل کی جانچ پڑتال کی جائے گی اور اِس کام کے لیے کسی نجی ادارے کی خدمات بھی حاصل کی جا سکیں گی۔
  • وضع کیے گیے اصولوں کی خلاف ورزی پر سخت سزائیں اور بھاری جرمانے کیے جائیں گے۔
  • ہر بل یا نباتاتی ادویات سازی کے کام کو قانون کے دائرے میں لایا جائے گا۔
  • ادویات کی درج شدہ مقدار کے مطابق فروخت اور اُن کی سٹوریج کے نظام کا معیار اپنانا۔
  • دوا ساز اداروں کی ڈرگ ریگولیشن اتھارٹی آف پاکستان سے لازمی اندراج۔
  • میڈیکل سٹورز میں گندگی یا سٹور کے مالک کی ڈرگ انسپیکٹر کے ساتھ لڑائی کو قابلِ دست اندازی پولیس جرم قرار دیا گیا ہے۔ اور اِس پر 14 دن سے ایک سال قید کی سزا۔
  • تمام خلاف ورزیوں کو ناقابلِ ضمانت جرم قرار دیا گیا ہے۔
  • ڈرگ کورٹ کے فیصلے کے خلاف صوبائی حکومت کو اپیل کا حق حاصل ہوگا۔
  • پنجاب بھر میں نئے ڈرگ لائسنس کے اجرا کو روک دیا گیا ہے۔
  • نگراں ٹیم کسی بھی وقت متعلقہ اتھارٹی کو تجویز دے کر دوا سازی یا فروخت کی جگہ کا لائسنس منسوخ کرا سکتا ہے۔
  • ہر دوا ساز اور دوا فروش کی جگہ پر ہر وقت ایک ماہر فارماسسٹ موجود ہونا چاہیے۔
تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption احتجاج کرنے والوں کا کہنا ہے کہ دوا سازی اور اُس کی نگرانی کا قانون اور اصول یو ایس فارما کوپیا اور برٹش فارما کوپیا طے کرتا ہے وہی قانون یہاں نافذ ہونا چاہیے تاکہ بین الاقوامی معیار کے مطابق کام ہو سکے

پاکستان فارماسوٹیکلز مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے اعتراضات:

حکومتِ پنجاب کی جانب سے پنجاب ڈرگ ایکٹ 1976 میں ترامیم کو دوا ساز اداروں کی تنظیم پاکستان فارماسوٹیکلز مینو فیکچررز ایسوسی ایشن نے ڈرگ ریگولیشن اتھارٹی آف پاکستان ایکٹ 2012 سے متصادم قرار دیا اور اِس کے خلاف احتجاجاً دوا سازی کا کام بند کر دیا جسے بدھ کو تیسرا دن ہے۔

احتجاج میں شامل دوا سازوں اور دوا فروشوں کی ایکشن کمیٹی کے سربراہ حامد رضا نے بی بی سی کو بتایا کہ حکومت اور تمام سٹیک ہولڈرز پر مشتمل تکنیکی کمیٹی نے جس مسودے پر اتفاق کیا تھا حالیہ ترامیم میں کہیں موجود نہیں۔ اُنھوں نے اپنے اعتراضات بتائے۔

  • دوا سازی اور اُس کی نگرانی کا قانون اور اصول یو ایس فارما کوپیا اور برٹش فارما کوپیا طے کرتا ہے وہی قانون یہاں نافذ ہونا چاہیے تاکہ بین الاقوامی معیار کے مطابق کام ہو سکے۔
  • ڈرگ انسپیکٹر کے اختیارات میں بے تحاشا اضافہ کر دیا گیا ہے۔
  • ڈرگ انسپیکٹر کے ساتھ جھگڑے پر قید اور جرمانے کی سزائیں ہیں لیکن جھگڑے کی تعریف نہیں کی گئی نہ ہی اُسے ثابت کرنے کے بارے میں وضاحت کی گئی ہے۔
  • دوا میں کسی بھی قسم کی کمی کی صورت میں اُسے ’آوٹ آف سپیکس‘ کہہ کر واپس طلب کر لیا جاتا ہے اور مریضوں کو اطلاع دے دی جاتی ہے اور پھر وجوہات کے بارے میں تفتیش کے بعد جرمانے یا زرِ تلافی ادا کیا جاتا ہے جبکہ یہاں اِسے مجرمانہ مقدمے کی شکل دے دی گئی ہے جس کی نظیر عالمی سطح پر کہیں نہیں ملتی۔
  • جعلی دواؤں اور جعلی دوا سازی کے خلاف حکومت کے ساتھ بھر پور تعاون ہے۔
تصویر کے کاپی رائٹ EYE WIRE
Image caption ماہرین کے مطابق صوبے کے حالات کو مدِ نظر نہیں رکھا گیا جہاں گرمیوں میں بارہ بارہ گھنٹے لائٹ نہیں ہوتی وہاں دواؤں کو معیاری درجہ حرارت پر رکھنے کی یقین دہانی کیسے کرائی جا سکتی ہے

ماہرین کیا کہتے ہیں؟ حل کیا ہے؟

ماہرین کا کہنا ہے کہ پنجاب ڈرگ ایکٹ 1976 میں ترامیم میں چند نکات ایسے ہیں جن کی تفصیل بیان کی جانی چاہیے تھی اور اُن پر عمل درآمد کیسے کرایا جائے گا اُس کی وضاحت کی جانی چاہیے تھی جو کہ نہیں ہوئی۔ ڈرگ انسپیکٹر کے ساتھ جھگڑا کیا گیا ہے یا ایسا اُسے محسوس ہوا ہے اِس کا فیصلہ کیسے اور کون کرے گا اِس کی وضاحت نہیں کی گئی اور سزاؤں میں خاصا اضافہ کر دیا گیا ہے۔

لاہور میں گذشتہ 12 سال سے صحت سے متعلق اُمور کے سینیئر نامہ نگار زاہد چوہدری نے بتایا کہ اِن ترامیم کا مقصد عوام کی فلاح ہے لیکن اِن ترامیم میں جعلی یا غیر قانونی دوا سازوں اور لائسنس یافتہ دوا سازوں کی کوتاہی یا غفلت کے لیے ایک جیسی سزائیں مقرر کی گئی ہیں۔

اُنھوں نے نشاندہی کی کہ حکومت نے سٹوریج کی شرائط لاگو کرتے ہوئے غالباً پورے صوبے کے حالات کو مدِ نظر نہیں رکھا جہاں گرمیوں میں بارہ بارہ گھنٹے لائٹ نہیں ہوتی وہاں دواؤں کو معیاری درجہ حرارت پر رکھنے کی یقین دہانی کیسے کرائی جا سکتی ہے۔ اِس کے علاوہ اِن ترامیم کے ذریعے کسی نجی ادارے سے ڈرگ انسپیکشن کرانے کو بھی قانونی حیثیت مل گئی ہے تو اگر کوئی یہ کام ٹھیکے پر کرے گا تو اُس کی شفافیت کو کیسے یقینی بنایا جائے گا؟

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر حکومت کسی بھی میڈیکل سٹور پر ہر وقت ایک فاماسسٹ کی موجودگی پر زور دینے کے بجائے اگر اِس بات کو یقینی بنائے کہ اگر کسی سٹور کے بارے میں شکایت موصول ہوئی تو جس فارماسسٹ کے نام پر اُس سٹور کا لائسنس ہے اُس پر تا حیات پابندی لگائی جائے گی تو یہ معاملہ خود بخود حل ہو جائے گا۔