پاناما لیکس: حسین نواز کے ٹی وی انٹرویو کا مسودہ طلب

سپریم کورٹ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

پاناما لیکس کی دستاویزات کے بارے میں دائر درخواستوں کی سماعت کرنے والے سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے وزیر اعظم کے صاحبزادے حسین نواز کے گذشتہ برس ایک نجی ٹی وی چینل کو دیے گیے انٹرویو کا مسودہ طلب کرلیا ہے۔

عدالت نے اس اُمید کا اظہار کیا ہے کہ حسین نواز لندن کے جن فلیٹوں کے مالک ہیں ان کی دستاویزات فراہم کر سکتے ہیں جس سے بڑی حد تک ان درخواستوں پر فیصلے میں مدد ملے گی۔

پاناما لیکس، نیا سال اور پرانی بحث

عدالت نے کہا کہ ان درخواستوں کی سماعت میں ابھی تک صورت حال واضح نہیں ہوئی اور محض مفروضوں پر فیصلے نہیں دیے جا سکتے۔

بدھ کو جب دو ہفتے کے وقفے کے بعد پاناما کیس کی سماعت شروع ہوئی تو سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ کے سربراہ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے وزیراعظم کے صاحبزادوں کے وکیل سلمان اکرم راجہ سے استفسار کیا کہ وہ عدالت کو مطمئن کریں کہ حسین نواز لندن کے فلیٹس کے مالک کب بنے کیونکہ ملکیت کے بارے میں کوئی تنازعہ نہیں ہے۔

سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ اُن کے موکل سنہ 2006 میں لندن فلیٹس کے مالک بنے اور اگر اس سے پہلے کی ملکیت کے ثبوت کسی کے پاس ہیں تو وہ عدالت میں پیش کریں۔

بینچ میں شامل جسٹس عظمت سعید کا کہنا تھا کہ مسئلہ ہی یہی ہے کہ کسی طرف سے بھی کوئی ثبوت عدالت میں پیش نہیں کیے جا رہے۔

اس پر وزیراعظم کے صاحبزادوں کے وکیل کا کہنا تھا کہ اُن کے پاس جتنے دستیاب ثبوت تھے اُنھیں عدالت میں پیش کردیا گیا ہے۔

بینچ کے سربراہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سنہ 2006 میں جب فلیٹس حسین نواز کو منتقل ہوئے اس کا ریکارڈ عدالت میں پیش نہیں کیا گیا اس کے علاوہ منروا کمپنی سے سروسز لینے کا ریکارڈ بھی مہیا نہیں کیا گیا۔

اُنھوں نے کہا کہ قطر میں کی گئی سرمایہ کاری جو پھلتی پھولتی رہی اس کے بارے میں بھی کچھ نہیں بتایا گیا۔

سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ اُن کی طرف سے عدالت میں پیش کیے ریکارڈ میں کچھ خلا رہ سکتا ہے لیکن اُن کے پاس جتنے شواہد تھے وہ عدالت میں پیش کر دیے۔

اُنھوں نے کہا کہ قطر میں ہونے والی سرمایہ کاری کا 45 سال پرانا ریکارڈ کہاں سے لائیں۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مسئلہ یہ ہے کہ بیرون ملک سرمایہ کاری اور لندن فلیٹس کے بارے میں والد کا موقف کچھ اور ہے اور بچوں کا کچھ اور۔

بینچ میں شامل جسٹس اعجاز افضل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی فریق پورا سچ سامنے لانے کو تیار نہیں ہے۔

حسین نواز کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ یہ ثابت ہے کہ سنہ 1999 سے پہلے لندن فلیٹس وزیر اعظم کے صاحبزادوں یا شریف خاندان کی ملکیت نہیں تھے۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ان فلیٹوں کے بارے میں سابق وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک کی رپورٹ کا تذکرہ رہا ہے جس پر سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ سابق ایڈشنل ڈائریکٹر ایف آئی اے رحمان ملک نے ذاتی تشہیر کے لیے یہ رپورٹ اس وقت کے صدر مملکت اور میڈیا کو دی ۔

اُنھوں نے کہا کہ سرکاری طور پر مذکورہ ایف آئی اے کے افسر کو رپورٹ تیار کرنے کے بارے میں نہیں کہا گیا تھا۔ سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ جس وقت رحمان ملک نے یہ رپورٹ تیار کی اس وقت وہ معطل تھے۔

اُنہوں نے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ اس رپورٹ کو مسترد کر چکی ہے اور قانون کی نظر میں اس رپورٹ کی کوئی حثیت نہیں ہے۔

عدالت نے وزیراعظم کے صاحبزادوں کے وکیل سے کہا ہے کہ جمعرات تک اپنے دلائل مکمل کر لیں۔

اسی بارے میں