پاناما کیس: سپریم کورٹ نے نیب اور ایف بی آر کو طلب کر لیا

  • 16 فروری 2017
نواز شریف تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاناما لیکس کی دستاویزات سے متعلق درخواستوں کی سماعت کرنے والی سپریم کورٹ نے قومی احتساب بیورو یعنی نیب اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو یعنی ایف بی آر کو 21 فروری کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔

عدالت نے نیب کے پراسیکیوٹر جنرل وقاص قدیر ڈار کو حکم دیا ہے کہ وہ سنہ 1999 میں ختم ہونے والے دو مقدمات اور سنہ 2014 میں حدیبیہ پیپرز ملز کے مقدمے میں وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی بریت سے متعلق ریفری جج کے فیصلے کی تفصیلات پڑھ کر آئیں۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں ان درخواستوں کی سماعت کرنے والے سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے نیب کے پراسیکیوٹر جنرل سے کہا ہے کہ ان سے ان مقدمات کے ریکارڈ اور اس پر آنے والے فیصلوں کے بارے میں سوال کیے جائیں گے۔

یاد رہے کہ سابق وزیر اعظم بےنظیر بھٹو کے دوسرے دور حکومت میں ایف آئی اے نے شریف برادران کے خلاف مقدمات دائر کیے تھے۔ سابق وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک اس وقت ایف آئی اے کے ایڈیشنل ڈائریکٹر تعینات تھے۔

سنہ1993 میں درج ہونے والے مقدمات کو سنہ 1999 میں ختم کر دیا گیا تھا تاہم نواز شریف کی حکومت ختم ہونے کے بعد سابق فوجی صدر پرویز مشرف نے سنہ 2001 میں انھی مقدمات کی روشنی میں میاں نواز شریف کے خلاف حدیبیہ پیپرملز کا ریفرنس دائر کیا تھا۔

اسی مقدمے میں وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا اعترافی بیان بھی سامنے آیا تھا۔ بعدازاں اُن کا کہنا تھا کہ اُن سے یہ بیان زبردستی لیا گیا تھا۔

پاناما لیکس سے متعلق درخواستوں کی سماعت کے دوران نیب کے پراسیکیوٹر جنرل نے عدالت کو بتایا تھا کہ لاہور ہائی کورٹ کی طرف سے اسحاق ڈار کی بریت کے فیصلے کو چیلنج نہ کرنے کا فیصلہ نیب کے فل بورڈ نے کیا تھا۔

وزیر اعظم میاں نواز شریف کے صاحبزادوں حسن اور حسین نواز کے وکیل نے جمعرات کو بھی اپنے دلائل جاری رکھتے ہوئے کہا کہ اگر اُن کے موکل نے کچھ غلط بھی کیا ہے یا عدالت اُن کا موقف تسلیم نہیں کرتی تو پھر بھی اس کی سزا ان درخواستوں میں بنائے گئے پہلے فریق نمبر ایک یعنی وزیر اعظم کو کیسے اس کی سزا دی جا سکتی ہے؟

اُنھوں نے کہا کہ لندن فلیٹس اُن کے موکل کی ملکیت ہیں اور ان کا وزیر اعظم یا شریف فیملی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

بینچ کے سربراہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ نہیں کہا جا سکتا کہ یہ جائیداد بچوں کی ہے، کیونکہ دادا کے پیسوں سے ہی بیرون ملک کاروبار شروع کیا گیا تھا۔

سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ لندن کے فلیٹس سنہ 1993میں اُن کے قبضے تھے جبکہ ان فلیٹوں کی ملکیت سنہ 2006 میں حسین نواز کے نام پر آئی تھی۔

بینچ کے سربراہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ قطری نے لندن سمیت دنیا بھر میں سرمایہ کاری کی ہو گی لیکن اُن کے ساتھ کی گئی اتنی بڑی سرمایہ کاری کا ریکارڈ نہ ہونے کی دستاویزات نہ ہونا حیران کن ہے۔

سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ عدالت کسی بھی معاملے پر اس وقت رائے قائم کر سکتی ہے جب تمام حقائق اس کے سامنے موجود ہوں۔ اُنھوں نے کہا کہ اگر مفروضوں پر اور نامکمل دستاویزات پر کوئی بھی رائے یا فیصلہ کسی بھی فریق کے اپیل کے حق کو محروم کر سکتا ہے۔

سلمان اکرم راجہ نے اپنے دلائل مکمل کر لیے۔ اگلی سماعت اٹارنی جنرل اس بارے میں دلائل دیں گے۔