’دھماکے کے بعد جو مناظر دیکھے بیان نہیں کر سکتا‘

  • 17 فروری 2017
سیہون کے زخمی تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

لعل شہباز قلندر کے مزار پر دھماکے کے عینی شاہدین کے مطابق انھوں نے زندگی میں ایسے مناظر کبھی نہیں دیکھے۔

ایک عینی شاہد باقر شیخ نے بی بی سی کو بتایا کہ دھماکے کے تقریباً دس منٹ کے بعد جب وہ درگاہ کے احاطے میں پہنچے تو ’وہاں قیامت کا منظر تھا۔‘

باقر شیخ کے بقول ہر طرف انسانی اعضا بکھرے ہوئے تھے۔

* لعل شہباز کی درگاہ پر خودکش حملہ،کم از کم

* دہشتگردی کی ’حقیقت سے فرار ‘

انھوں نے آبدیدہ آواز میں کہا ’لال قلندر پر پہلے کبھی ایسا نہیں ہوا، ہمارے شہر میں کبھی اتنی تباہی نہیں ہوئی۔ ایسی تباہی زندگی میں کبھی نہیں دیکھی۔‘

دھماکے کے ایک اور عینی شاہد غلام قادر نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ درگاہ کے سنہری گیٹ پر اپنے چار دوستوں کے ساتھ بیٹھے تھے کہ اس دوران زور دار دھماکہ ہوا اور وہ سب باہر بھاگے۔

انھوں نے مزید بتایا کہ وہ تھوڑی دور جا کر رکے تو درگاہ کے اندر سے زخمی حالت میں لوگ باہر نکل رہے تھے اور ساتھ میں چیخ و پکار کر رہے تھے کہ اندر بہت تباہی ہوئی ہے۔

غلام قادر نے کہا ہے کہ اس کے بعد اندر جا کر صورت حال دیکھی جو بیان نہیں کی جا سکتی، فرش پر ہر طرف خون تھا اور لوگ ایک دوسرے پر گرے ہوئے تھے۔

دھماکے کے وقت درگاہ میں موجود ایک خاتون نے بتایا کہ وہ درگاہ پر بیھٹی تھی کہ اچانک زور دار دھماکہ ہوا اور آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

انھوں نے بتایا ’مجھے ایسا محسوس ہوا کہ جیسے نزدیک آگ لگی ہوئی ہے، اس کے بعد مجھے ہوش نہیں رہا۔

خاتون کے مطابق انھیں سب فقیرنی کے نام سے جانتے ہیں اور وہ طویل عرصے سے درگاہ میں صفائی، ستھرائی کا کام کرتی ہیں۔

انھوں نے کہا ’میں نے اپنی ہوش میں ایسا ظلم کبھی نہیں دیکھا۔‘

سیہون ہسپتال کے باہر موجود پولیس اہلکار دوست علی کے مطابق ہسپتال کے باہر دھماکے میں زخمی اور ہلاک شدگان کے عزیز رشتہ داروں کے علاوہ متعدد شہری موجود تھے۔

انھوں نے کہا کہ ان میں کئی لوگ ایسے تھے جو دھماکے کے وقت مزار کے اندر موجود تھے لیکن جب ان سے پوچھا تو وہ صدمے کی وجہ سے کچھ بتانے سے قاصر تھے۔

دوست علی کے مطابق آج شہر میں ہر ایک کی آنکھ نم ہے۔

اسی بارے میں