کیا مریم اپنے والد کی جانشین بن سکتی ہیں؟

  • 17 فروری 2017
نواز شریف اور مریم نواز تصویر کے کاپی رائٹ Maryam Sharif
Image caption مریم نواز شریف کو اپنے والد وزیرِاعظم نواز شریف کا قریبی مشیر قرار دیا جاتا ہے

مریم شریف کو مستقل کا سیاسی ستارہ قرار دیا جا رہا ہے، لیکن اس وقت وہ پاناما پیپرز کیس میں گھر کر رہ گئی ہیں۔ بی بی سی اردو کی شمائلہ جعفری نے اس بات کا جائزہ لینے کی کوشش کی ہے کہ آیا اس سے ان کا سیاسی کریئر کس حد تک متاثر ہو سکتا ہے؟

مجھے آج بھی یاد ہے جب میں نے مریم شریف کو پہلی بار دیکھا تھا۔ یہ 1991 کی بات ہے جب میں نے لاہور میں کالج جانا شروع کیا تھا اور میں کالج کی راہداری میں کھڑی تھی کہ اچانک وہ آ گئیں۔

انھیں لڑکیوں کے ایک گروہ نے گھیر رکھا تھا۔ ان کے ہاتھوں میں ایک فولڈر تھا جس پر انھوں نے اپنے والد کی تصویر چسپاں کر رکھی تھی۔

وزیرِاعظم کی بیٹی ہونے کے ناتے انھیں کالج میں 'سیلیبرٹی' کی حیثیت حاصل تھی۔

1990 کی دہائی میں شریف خاندان نے پنجاب میں خود کو ایک سیاسی خاندان کے طور پر منوا لیا تھا۔ یہ دور سیاسی طور پر خاصا ہنگامہ خیز تھا، اور اس دور میں چار جمہوری حکومتیں جن میں خود نواز شریف کی حکومت بھی تھی مدت پوری کرنے سے قبل ہی ختم کر دی گئی تھیں۔

اس وقت مریم زیادہ تر عوامی نظروں سے دور اپنے دو بچوں کی پرورش میں مصروف رہیں۔

باپ کے لیے لڑائی

تاہم اکتوبر 1999 میں جب فوجی آمر پرویز مشرف نے نواز شریف کی حکومت کا تختہ الٹ دیا اور خاندان کے تمام مردوں کو جیل میں ڈال دیا گیا تو مریم اور ان کی والدہ نے اپنے خاندان کی رہائی کے لیے مہم چلائی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP

سینیئر صحافی سلمان غنی کہتے ہیں کہ اس دوران انھیں مریم کی طرف سے کال آئی اور انھوں نے ملاقات کی خواہش ظاہر کی۔

وہ کہتے ہیں کہ ’وہ خطرناک دور تھا اور ہر چیز کی نگرانی کی جا رہی تھی تاہم جب میری ان سے ملاقات ہوئی تو 'مجھے حیرت ہوئی کہ وہ بہت جارحانہ انداز میں پرویز مشرف کی حکومت پر تنقید کر رہی تھیں۔'

مریم اور ان کی والد کلثوم نواز نے سعودی شاہ کی مدد سے نواز شریف اور پرویز مشرف کے درمیان معاہدہ کروایا جس کے تحت ان کا خاندان ملک چھوڑ کر سعودی عرب جا کر آباد ہوا۔

2007 میں یہ خاندان واپس آیا اور عام انتخابات جیت کر پنجاب میں حکومت بنا لی۔

نوجوان ووٹ

2011 میں عمران خان نے پاکستان کے سیاسی منظرنامے کو ہلا کر رکھ دیا۔ ان کے مداحوں کی بڑی تعداد نوجوانوں پر مشتمل تھی جس نے سیاسی ایوانوں میں خطرے کی گھنٹیاں بجا دیں۔

اس وقت مریم دوبارہ نمودار ہوئیں اور انھوں نے بغیر کسی سیاسی یا حکومتی عہدے کے سکولوں اور کالجوں کے دورے شروع کر دیے۔

جب وہ لاہور کے ہوم اکنامکس کالج گئیں تو میں نے اس دورے کی رپورٹنگ کی تھی۔ میں نے انھیں 20 برس بعد دیکھا تھا۔ اب ان میں خاصی خوداعتمادی آ چکی تھی اور وہ ایک مختلف خاتون دکھائی دے رہی تھیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption 2013 کے عام انتخابات کی مہم کے دوران مریم نواز لاہور میں سرگرم رہیں

سلمان غنی کہتے ہیں: ’مریم کو ن لیگ کا نوجوان چہرہ دکھانے کے لیے سامنے لایا گیا تھا تاکہ عمران خان کی نوجوانوں میں مقبولیت کا توڑ کیا جا سکے۔'

اس دوران مریم سوشل میڈیا پر فعال ہو گئیں اور کچھ ہی عرصے میں ان کے لاکھوں فالوورز بن گئے۔

جب 2013 میں نواز شریف وزیرِ اعظم بنے تو مریم ایوانِ وزیراعظم میں منتقل ہو گئیں اور وہاں سے 'سٹریٹیجک میڈیا کمیونیکیشن سیل' چلانا شروع کر دیا۔

پاناما پیپرز

تاہم ان کا یہ ’ہائی پروفائل‘ کردار تنازعات سے خالی نہیں رہا۔

2016 میں ان کا اور ان کے بھائیوں کا نام پاناما پیپرز سکینڈل میں آ گیا جس میں الزام لگایا گیا تھا کہ ان کی آف شور کمپنیاں ہیں۔ اس وقت یہ مقدمہ عدالت میں ہے۔

صحافی سلمان غنی کہتے ہیں کہ ملک کی حزبِ اختلاف مریم شریف کو خطرہ سمجھتی ہے۔ 'وہ جانتے ہیں کہ وہ نواز شریف کا متبادل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ انھیں ان کے والد سے زیادہ نشانہ بنا رہے ہیں۔'

مریم کے پاس کوئی عہدہ نہیں ہے لیکن بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ نواز شریف کے بعد ان کی حکومت میں دوسری طاقتور ترین شخصیت ہیں۔

سیاسی مبصر سہیل وڑائچ کہتے ہیں: وہ اپنے والد کی سب سے قریبی ساتھی اور ان کی سب سے قابلِ اعتماد مشیر ہیں۔ دونوں روزانہ بہت سا وقت اکٹھے گزارتے ہیں۔ نواز شریف کی سیاست اور خیالات کو مریم سے بہتر کوئی نہیں سمجھ سکتا۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption مریم نواز شریف اپنی والدہ کلثوم نواز کے ہمراہ انتخابی مہم میں بھی سرگرم دکھائی دیں

والد کی جانشین؟

کیا مریم اپنے والد کی جانشین بن سکتی ہیں؟ کیا انھیں 2018 کے انتخابات کے بعد اگلے وزیرِ اعظم کے طور پر تیار کیا جا رہا ہے؟

سہیل وڑائچ کا خیال ہے کہ مریم کے چچا شہباز شریف مضبوط ترین امیدوار ہیں۔ 'شریف خاندان بہت قدامت پرست ہے۔ اگر مریم سیاست میں داخل ہوتی ہیں تو ان کا وہ تحفظ ختم ہو جائے گا جو انھیں زندگی بھر حاصل رہا ہے۔ اس پر ان کے خاندان کا کیا ردِ عمل ہو گا؟'

پاکستان میں اس سے پہلے بےنظیر بھٹو خاتون وزیرِ اعظم رہ چکی ہیں لیکن صحافی سلمان غنی دونوں میں فرق دیکھتے ہیں: 'عدالت جو بھی فیصلہ کرتی ہے، مریم اگر سیاست میں داخل ہوتی ہیں تو ان پر الزامات کا سایہ منڈلاتا رہے گا۔'

وہ کہتے ہیں: 'حزبِ اختلاف شریف خاندان کو پاناما پیپرز کے ذریعے سیاسی نقصان شاید نہ پہنچا سکے، لیکن اس کا ان کی اخلاقی ساکھ پر گہرا اثر پڑا ہے۔ اور سیاست میں اخلاقیات ہی سب کچھ ہے۔'

لیکن پاکستان جیسے ملک میں، جہاں جمہوریت ابھی تک شخصیات اور سیاسی خانوادوں سے وابستہ ہے، بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ مریم کا سیاسی کردار ناگزیر ہے۔

اسی بارے میں