’بچوں کو عربی پڑھائیں ورنہ دہشتگرد بن جائیں گے‘

تصویر کے کاپی رائٹ John Moore
Image caption لازمی عربی زبان کا بل جمعیت علما اسلام (ف) کی رکن پارلیمان نعیمہ کشور خان صاحبہ نے پیش کیا ہے۔

مجھے عربی زبان بہت تنگ کرتی تھی۔ غالباً چھٹی کلاس میں تھا جب جنرل ضیا کے حکم پر یہ زبان سکولوں میں لازمی کر دی گئی تھی اور اس کا بوجھ ہم جیسے بچوں کو اٹھانا پڑتا تھا۔

مجھے ما اسمک، ما ھٰذیٰ اور اسمی جاوید کے علاوہ عربی کا کچھ سمجھ نہیں آتا تھا۔ میرا خیال ہے باقی طالب علموں کی بھی کچھ ایسی ہی حالت تھی۔ اور کچھ کی تو اس بھی بری۔

ہمارے عربی کے استاد ویسے تو باقی عربی اور اسلامیات کے استادوں کی طرح ہر وقت غیظ و غضب میں ہی رہتے تھے لیکن جب امتحان کا وقت آتا تھا تو وہ ہمیں آکر کہتے تھے، مجھے پتہ ہے تم سب عربی کے پرچے میں فیل ہی ہو جاؤ گے اس لیے بس جو کچھ سوالات کے پرچے پر لکھا ہے اسے صاف صاف جوابی کاپی پر لکھ دینا۔ ہم ان کے حکم کو بجا لاتے ہوئے ایسا ہی کرتے تھے اور ہم سب کے اسی سے نوے فیصد تک نمبر آتے تھے۔ یہ معمہ تاہم میں آج تک حل نہیں کر پایا کہ یہ چمتکار کیسے ہوتا تھا۔

میری کلاس کے کسی لڑکے کو عربی نہیں آتی تھی لیکن اس کے باوجود ہم میں سے کسی نے دہشت گردی کا راستہ نہیں لیا۔ بلکہ وہ راستہ تک نہیں لیا جہاں سے دہشت گرد گزر ے ہوں۔ آپ سوچ رہے ہوں گے کہ یہ کیا پاگل پن کی بات ہے؟ بھلا عربی زبان کا دہشت گردی سے کیا تعلق؟

جی۔۔۔ لیکن یہ آپ کا خیال ہے۔ ہماری پارلیمان کی سٹینڈنگ کمیٹی برائے کیبینیٹ سیکریٹیرئیٹ ان دنوں عربی زبان کو سکولوں میں لازمی قرار دینے کے بل پر بحث کر رہی ہے اور نکتہ بحث یہ ہے کہ عربی زبان بچوں کو نہ پڑھانے کی وجہ سے کیا شدت پسندی میں اضافہ ہو رہا ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ Robert Nickelsberg
Image caption متوسط اور نچلے طبقے کے بچے ویسے ہی بہت ذہنی اور معاشی دباؤ کا شکار رہتے ہیں۔ فائل فوٹو

لازمی عربی زبان کا بل پیش کیا ہے جمعیت علما اسلام (ف) کی رکن پارلیمان نعیمہ کشور خان صاحبہ نے۔ جب کمیٹی میں اس پر بحث شروع ہوئی تو اخباری اطلاعات کے مطابق مسلم لیگ نون کی رکن پروین مسعود بھٹی نے بل کی حمایت کی اور کہا کہ سکولوں میں عربی زبان کی کمی کی وجہ سے ملک میں دہشت گردی بڑہی ہے۔ انھوں نے تو یہاں تک دعویٰ کر ڈالا کہ کیونکہ پاکستانی والدین اپنے بچوں کو انگریزی میڈیم سکولوں میں پڑھا رہے ہیں اس لیے ملک میں دہشت گردی بڑھ رہی ہے!

یہ کوئی بات ہوئی بھلا؟ اگر ایسا ہوتا تو پھر کوئی بھی عربی زبان ہولنے یا پڑھنے والا شدت پسند نہ ہوتا، حالانکہ حقیقت ایسی نہیں۔

اب تک دنیا میں جتنے بھی شدت پسند پکڑے یا مارے جاتے ہیں ان میں سے بہت سے افراد کی یا تو مادری زبان ہی عربی ہوتی ہے یا پھر ان کو عربی آتی ہے۔

نعیمہ کشور خان صاحبہ کی جماعت کے زیر انتظام چلنے والے تمام مدرسوں اور باقی بیشتر مدرسوں میں عربی پڑھائی جاتی ہے۔ وہ بتانا پسند کریں گی کہ ملک بھر میں ہونے والی شدت پسندی میں کتنے لوگ ان مدرسوں سے فارغ التحصیل تھے؟

پاکستان میں بچوں کی تعلیم اور خاص طور پر سرکاری سکولوں کی تعلیم پہلے ہی ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔ متوسط اور نچلے طبقے کے بچے ویسے ہی بہت ذہنی اور معاشی دباؤ کا شکار رہتے ہیں ان کو برائے مہربانی عربی کے مزید دباؤ میں مت الجھائیں۔ اور خاطر رکھیے کہ عربی نہ آنے سے بچے دہشت گرد نہیں بن جائیں گے۔

اسی بارے میں