سیہون میں ہلاکتیں 83، ملک بھر میں سکیورٹی آپریشن

  • 17 فروری 2017
سیہون: دھماکے کے بعد

صوبہ سندھ کے شہر سیہون میں لعل شہباز قلندر کی درگاہ پر ہونے والے خودکش حملے میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 80 سے تجاوز کر گئی ہے۔

ادھر پاکستانی سکیورٹی فورسز نے ملک کے مختلف علاقوں میں کارروائیوں کے دوران کم از کم 29 شدت پسندوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا ہے۔

خودکش دھماکے میں ہلاکتوں پر جمعے سے سندھ بھر میں سرکاری سطح پر تین روزہ سوگ منایا جا رہا ہے جبکہ پنجاب اور خیبرپختونخوا میں بھی ایک دن کے سوگ کا اعلان کیا گیا ہے۔

٭ سیہون دھماکے کا اگلا دن تصاویر میں

٭ لعل شہباز کی درگاہ پر خودکش حملے میں 76 افراد ہلاک

٭ ’ایسی تباہی زندگی میں کبھی نہیں دیکھی‘

٭ پاکستان میں مزاروں پر حملوں کی تاریخ

حکومتِ سندھ کے اعلامیے کے مطابق دھماکے میں زخمی ہونے والے افراد میں سے جمعے کو مزید سات زخمیوں نے دم توڑ دیا جس کے بعد ہلاکتوں کی تعداد 83 تک پہنچ گئی ہے۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اس خودکش حملے میں 343 افراد زخمی ہوئے جن میں سے 76 شدید زخمیوں کی حالت اب بھی تشویشناک ہے۔

پاکستان کے سرکاری ٹی وی کے مطابق مرنے والوں میں سے 56 افراد کی میتیں لواحقین کے حوالے کر دی گئی ہیں۔

پاکستانی وزیرِ اعظم نواز شریف اور پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے جمعے کو نوابشاہ اور سیہون کا دورہ کیا ہے اور زخمیوں کی عیادت کی ہے۔

سیہون میں خودکش دھماکہ جمعرات کی شام درگاہ کے اندرونی حصے میں اس وقت ہوا جب وہاں زائرین کی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔اے ایس پی سیہون کے مطابق حملہ آور سنہری دروازے سے مزار کے اندر داخل ہوا اور دھمال کے موقعے پر خود کو اڑا لیا۔

اس حملے کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ نے قبول کی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

سیہون میں خودکش دھماکہ جمعرات کی شام درگاہ کے اندرونی حصے میں اس وقت ہوا جب وہاں زائرین کی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔اے ایس پی سیہون کے مطابق حملہ آور سنہری دروازے سے مزار کے اندر داخل ہوا اور دھمال کے موقعے پر خود کو اڑا لیا۔

اس حملے کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ نے قبول کی ہے۔

تحقیقاتی ٹیموں نے بھی جمعے کو دھماکے کے مقام کا دورہ کیا اور وہاں سے شواہد اکٹھے کیے ہیں۔ پاکستانی ٹی وی ڈان نیوز سے بات کرتے ہوئے ایس ایس پی انویسٹی گیشن راجا عمر خطاب نے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات میں حملہ آور کی نشاندہی کر لی گئی ہے۔

صحافی علی حسن کے مطابق سیہون میں خودکش حملے میں ہلاک ہونے والے زائرین میں سندھ کے علاوہ پنجاب اور بلوچستان سے تعلق رکھنے والے افراد بھی شامل ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ مرنے والوں کا تعلق سیہون کے علاوہ دادو، جامشورو، شکارپور، رحیم یار خان، کوئٹہ اور خضدار سے بتایا گیا ہے جبکہ ضلع جامشورو کے ایک گاؤں سے تعلق رکھنے والے ایک ہی خاندان کے 11 افراد بھی ہلاک شدگان میں شامل ہیں۔

انھوں نے بتایا ہے کہ مقامی ایدھی مرکز میں اس وقت 12 لاشیں ایسی پڑی ہوئی ہیں جن کی شناخت نہیں ہو سکی۔ ان میں سے بعض لاشوں کے صرف ٹکڑے موجود ہیں اس لیے ڈی این اے ٹیسٹ کا انتظام شروع کر دیا گیا ہے۔

جمعے کو درگاہ پر سخت سکیورٹی کے باوجود زائرین کی بڑی تعداد وہاں پہنچی اور رکاوٹیں توڑنے کے بعد مزار کے احاطے میں داخل ہو کر ماتم شروع کر دیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

مظاہرین نے سیہون میں پولیس سٹیشن کا بھی گھیراؤ کیا اور ایک گاڑی بھی نذرِ آتش کر دی۔

ان کا کہنا تھا کہ پولیس کی جانب سے مزار کی سکیورٹی کے انتظامات ناکافی تھے۔ پولیس نے ان مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے ہوائی فائرنگ بھی کی۔

سکیورٹی آپریشنز کی تفصیلات

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

سندھ رینجرز نے ایک بیان میں کہا ہے کہ جمعرات اور جمعے کی درمیانی شب صوبہ سندھ میں مختلف کارروائیوں میں 18 شدت پسند مارے گئے۔

بیان کے مطابق ان میں سے 11 شدت پسند کراچی کے منگھوپیر کے علاقے میں خفیہ اطلاعات پر ہونے والے آپریشن اور اس کے بعد تلاشی کی کارروائی کے دوران مارے گئے، جب کہ اس کارروائی میں رینجرز کے دو اہلکار زخمی بھی ہوئے۔

رینجرز کا یہ بھی کہنا ہے کہ سات شدت پسندوں کو اس وقت ہلاک کیا گیا جب سیہون میں امدادی کارروائیوں میں شرکت کے بعد واپس آنے والے رینجرز کے قافلے پر کاٹھور کے علاقے میں حملہ ہوا، اور فائرنگ کے تبادلے میں یہ افراد مارے گئے۔

سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق خیبر پختونخوا میں تین شدت پسند پشاور کے علاقے ریگی میں ہلاک ہوئے جبکہ چار بنوں کے علاقے بکاخیل میں مارے گئے۔

اس کے علاوہ سکیورٹی فورسز نے چار شدت پسندوں کو اس وقت ہلاک کیا جب انھوں نے اورکزئی ایجنسی میں ایک حفاظتی چوکی پر حملے کی کوشش کی۔

ایک سرکاری عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر خبررساں ادارے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ 'قانون نافذ کرنے والے وفاقی اور صوبائی اداروں اور پولیس نے جمعے کی علی الصباح ملک بھر میں کریک ڈاؤن شروع کیا ہے، جس کے دوران مختلف شہروں میں درجنوں لوگوں کو حراست میں بھی لیا گیا ہے۔' انھوں نے کہا کہ آنے والے دنوں میں بھی ملک میں سکیورٹی آپریشن جاری رہے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سندھ رینجرز کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ جمعرات اور جمعے کی درمیانی شب صوبہ سندھ میں مختلف کارروائیوں میں 18 شدت پسند مارے گئے

درگاہوں کی سکیورٹی سخت

اس واقعے کے بعد ملک بھر میں درگاہوں پر سکیورٹی بھی سخت کر دی گئی ہے۔

ریڈیو پاکستان کے مطابق آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ نے کہا ہے کہ درگاہ سیہون شریف پر دھماکے کے بعد صوبے بھر میں تمام مذہبی مقامات اور درگاہوں پر سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔

اس کے علاوہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں بری امام اور لاہور میں بی بی پاک دامن کے مزار بند کر دیے گئے ہیں جبکہ داتا دربار کی سکیورٹی میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔

عالمی مذمت

اقوامِ متحدہ کی جانب سے بھی اس حملے کی مذمت کی گئی ہے اور ادارے نے حکومتِ پاکستان سے کہا ہے کہ وہ اس کے ذمہ واروں کو جلد از جلد انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کرے۔

ایک بیان میں سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیرس کے ترجمان نے کہا: 'ہم متاثرین کے خاندانوں اور پاکستانی عوام سے تعزیت کرتے ہیں۔ اقوامِ متحدہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں حکومتِ پاکستان کی حمایت کرتی ہے۔'

پاکستان میں امریکی سفیر ڈیوڈ ہیل نے کہا ہے کہ ’ہمیں اس صوفی مزار پر بےرحمانہ حملے پر غم اور صدمہ ہوا ہے۔‘ انھوں نے پاکستانی حکومت کو حمایت کا یقین دلایا۔

اسی بارے میں