سکیورٹی فورسز کے آپریشن میں 16 افراد ہلاک، سینکڑوں گرفتار

پنجاب پولیس تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

پاکستان میں حالیہ حملوں کی لہر کے بعد ملک بھر کے مختلف حصوں میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں کم از کم 16 افراد ہلاک ہو گئے ہیں جب کہ بیسیوں کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔

سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق کرم ایجنسی کے مقام پارہ چمکنی میں سکیورٹی فورسز اور شدت پسندوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس میں 11 شدت پسند ہلاک ہو گئے، جب کہ دو سکیورٹی اہلکار زخمی ہوئے۔

پنجاب کے قصبے لیہ کے قریب ہونے والے ایک پولیس مقابلے میں پانچ شدت پسند مارے گئے۔

اس کے علاوہ پنجاب پولیس کے انسدادِ دہشت گردی ڈیپارٹمنٹ نے صوبے میں مختلف کارروائیوں میں درجنوں افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔

سرکاری ذرائعِ ابلاغ کے مطابق پولیس نے سیالکوٹ میں غیرقانونی طور پر رہنے والے 42 افغان شہریوں کو گرفتار کر لیا، جب کہ گذشتہ ہفتے لاہور کے چیئرنگ کراس پر ہونے والے خودکش حملے کے سہولت کاروں کو پکڑنے کی غرض سے کیے جانے والی اسی طرح کی ایک اور کارروائی میں وزیر آباد میں 40 سے زیادہ افراد کو حراست میں لیا گیا۔

لاہور پولیس نے سوشل میڈیا ویب سائٹ ٹوئٹر پر خبر دی ہے کہ لاہور بھر میں بھی 'کومبنگ آپریشن' کیے گئے ہیں، جن کے دوران شہریوں کی شناخت بایومیٹرک آلات کی مدد سے کی جا رہی ہے۔

لاہور پولیس نے کہا ہے کہ اس دوران متعدد مشکوک افراد کو مزید تفتیش کے لیے حراست میں لیا گیا ہے۔

ریڈیو پاکستان کے مطابق اسی طرح کی ایک اور کارروائی میں پشاور میں 35 افراد کو گرفتار کر لیا گیا جن میں افغان شہری بھی شامل ہیں۔

گذشتہ روز افغان وزارتِ خارجہ نے ایک بیان میں پاکستان کی جانب سے ایک سو کے قریب افغان شہریوں کی پکڑدھکڑ پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔

ادھر پاکستان اور افغانستان کی سرحد آج تیسرے روز بھی بند اور تمام گاڑیوں کی آمد و رفت معطل ہے۔

یاد رہے کہ جمعرات کی شام صوبہ سندھ کے شہر سیہون شریف میں لعل شہباز قلندر کے مزار پر خودکش حملے میں 80 سے زیادہ افراد ہلاک اور ڈھائی سو سے زیادہ زخمی ہو گئے تھے۔ اس کے بعد سے سکیورٹی وجوہات کی بنا پر پاکستان افغانستان سرحد غیر معینہ مدت کے لیے بند کر دی گئی تھی۔

اس کے علاوہ لاہور کے مال روڈ پر واقع چیئرنگ کراس پر ایک خودکش حملے میں اعلیٰ پولیس افسران سمیت 14 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

پنجاب کے وزیرِ اعلیٰ میاں شہباز شریف نے جمعے کی شام پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ اب تک ہونے والی تفتیش کے مطابق دہشت گرد گروہ کا مرکز افغانستان میں ہے۔

'دہشت گردوں کا یہ نیٹ ورک افغانستان میں بیٹھ کر پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیاں کرتا ہے۔ لاہور میں ہونے والی دہشت گردی کا ذمہ دار بھی یہی نیٹ ورک ہے۔'

انھوں نے بتایا کہ چیئرنگ کراس میں 'ہلاک ہونے والے خودکش بمبار کا تعلق افغانستان سے ہے جب کہ دوسرے حملہ آور کا تعلق پاکستان کے علاقے باجوڑ ایجنسی سے ہے۔'

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں