اسلام آباد: ’کلوز سرکٹ کیمرے چہروں کی شناخت نہیں کر سکتے‘

پاکستان

امورِ داخلہ کے وزیرِ مملکت بلیغ الرحمٰن نے سینیٹ کو بتایا ہے کہ دارالحکومت اسلام آباد کے مختلف علاقوں اور شاہراہوں پر لگائے گئے کلوز سرکٹ کیمرے وہاں سے گزرنے والے افراد کے چہروں کی شناخت نہیں کر سکتے۔

٭پشاور کے ہسپتالوں میں 700 کیمرے نصب کرنے کا منصوبہ

جمعے کے روز اجلاس کے دوران ایک سوال کے جواب میں اُنھوں نے کہا کہ سیف سٹی پروجیکٹ کے تحت اسلام آباد میں 1900 کلوز سرکٹ کیمرے لگائے گئے ہیں جبکہ اس منصوبے کے تحت مزید 200 کیمرے لگائے جائیں گے۔

اُنھوں نے کہا کہ ان کمیروں میں چہرے کی شناخت کرنے کا سافٹ ویئر ابھی انسٹال نہیں کیے گئے تاہم یہ سافٹ ویئر ان کیمروں میں لگانے کی منظوری دی جا چکی ہے۔

وزیر مملکت کا کہنا تھا کہ اسلام آباد میں کیمروں کی تنصیب سے نہ صرف امن وامان کی صورت حال میں بہتری آئی ہے بلکہ شہر سے گاڑی چھیننے کی وارداتوں میں بھی نمایاں کمی آئی ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ شہر کی مختلف مارکیٹوں کے دکانداروں سے کہا گیا ہے کہ وہ بھی سی سی ٹی وی کیمرے لگائیں تاکہ امن وامان کی صورت حال میں مزید بہتری لائی جا سکے۔

بلیغ الرحمٰن کا کہنا ہے کہ سیف سٹی منصوبے کے مثبت نتائج برآمد ہو رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption صوبائی محکمہ داخلہ کے مطابق مدارس کی اصلاحات کے لیے بھی تجاویز زیر غور ہیں

کس فرقے کے کتنے مدارس؟

آبادی کے لحاظ سے ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں مختلف فرقوں کے دینی مدارس کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں وزیر مملکت نے بتایا کہ صوبے بھر میں تمام مدارس کی جیو ٹیگنگ کر دی گئی ہے اور اب صوبے میں ایسا ایک بھی مدرسہ نہیں ہے جس کے کوائف اکٹھے نہ کیے گئے ہوں۔

ایوان میں فراہم کی گئی دستاویز کے مطابق اس وقت صوبے بھر میں مدارس کی تعداد 13798 ہے جن میں سے سب سے زیادہ تعداد بریلوی فرقے کی ہے جو کہ 6610 ہیں۔ دوسرے نمبر پر دیوبند فرقے کے مدارس ہیں جن کی تعداد 6115 ہے۔ اہل حدیث فرقے کے 843 جبکہ سب سے کم اہل تشیع کے مدارس ہیں، جن کی تعداد 230 ہے۔

ان دستاویز میں صوبے بھر میں ان فرقوں کی مساجد اور امام بارگاہوں کے بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں