’مسئلہ حکومتوں کے درمیان لیکن تکلیف دونوں جانب کی عوام کو‘

Image caption پاک افغان سرحد پر پہلے سے ہی کڑی نگرانی شروع کر دی گئی تھی اور سرحد پر پاسپورٹ اور ویزے کے بغیر داخلے پر پابندی عائد تھی

پاکستان میں پے در پے تشدد کے واقعات کے بعد پاک افغان سرحد غیر معینہ مدت کے لیے بند کر دی ہے جس سے دونوں جانب بڑی تعداد میں لوگ متاثر ہوئے ہیں۔

سرحد پر صورتحال کشیدہ بتائی گئی ہے جہاں افغانستان کی جانب سے شدت پسندوں کے حملے میں ایف سی کے دو اہلکار زخمی ہوئے ہیں جبکہ پاکستان فورسز نے لوئے شلمان کے علاقے میں کارروائی کی ہے۔

٭’افغانستان میں چھپے 76 دہشت گرد پاکستان کے حوالے کریں‘

٭پاک افغان سرحد چار روز سے بند

حکام کے مطابق خیبر ایجنسی میں افغانستان کی جانب سے شدت پسندوں نے پاکستان کی چوکی پر حملہ کیا ہے جس میں ایف سی کے دو اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔ سکیورٹی فورسز نے جوابی کارروائی کی جس میں شدت پسندوں کا جانی نقصان ہوا ہے۔

پولیٹیکل انتظامیہ کے اہلکاروں نے بتایا کہ سرحد پر لوئے شلمان کے علاقے میں سکیورٹی فورسز نے شدت پسندوں کے ٹھکانوں پر حملے کیے ہیں لیکن اس میں کتنا نقصان ہوا ہے اس بارے میں تفصیل معلوم نہیں ہو سکی۔

پاک افغان سرحد طورخم کے مقام پر بندش کا فیصلہ جمعرات کی رات اچانک کیا گیا اور سنیچر کی صبح پشاور میں قائم افغانستان جانے والی گاڑیوں کے سٹینڈ پر ایک بے یقینی کی صورتحال تھی۔ افغانستان واپس جانے والے مسافر سرحد کی بندش سے فکر مند تھے۔

Image caption گھر واپس نہ جا سکنے والے افغان بزرگ ذوالفقار

ایک افغان بزرگ ذوالفقار کابل سے دو روز پہلے یہاں علاج کے لیے آئے تھے۔ بس سٹینڈ کے قریب سڑک کنارے سبزہ زار پر لیٹے ہوئے انھوں نے کہا ڈاکٹر کے معائنے کے بعد انھوں نے ادویات خریدیں اور آج واپسی ہے لیکن سرحد بند کر دی گئی ہے اب ان کے پاس اتنے پیسے نہیں ہیں کہ ہوٹل میں رہ سکیں اور یہاں ان کا کوئی رشتہ دار نہیں ہے جس کے پاس ٹھہر سکیں۔

انھوں نے کہا کہ اگر ہوٹل میں جائیں تو افغان شہریوں کو یہاں کمرے مشکل سے دیے جاتے ہیں معلوم نہیں انھوں نے اچانک کون سا اتنا بڑا قصور کر لیا ہے کہ سب کچھ الٹ گیا ہے۔

بزرگ نے ازراہ مذاق مجھ سے پوچھا کہ حکومت پاکستان نے جو فہرست افغان حکام کو دی ہے اس میں کہیں ان کا نام تو نہیں تھا۔

ان کے قریب موجود نوجوان افغان شہری نے کہا کہ مسئلہ تو حکومتوں کے درمیان ہے، اور دہشت گردوں کی تعداد بھی حکام کو معلوم ہوگی لیکن تکلیف دونوں جانب کی عوام کو ہو رہی ہے۔

ایک افغان نے کہا کہ پاکستان حکومت کو اگر یہ شکایت ہے کہ افغانستان سے دہشت گرد پاکستان میں داخل ہوتے ہیں تو پھر وہاں سے آنے والوں کے لیے سرحد بند کردیں پاکستان سے واپس جانے والے لوگوں کے لیے سرحد کیوں بند کی گئی ہے۔

ایک افغان نوجوان عظیم خان گومل یونیورسٹی میں حکومت پاکستان کے سکالر شپ پر تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ انھوں نے ایک ضروری کام کے لیے افغانستان جانا تھا لیکن سرحد کی بندش کی وجہ سے انھیں آگے نہیں جانے دیا گیا۔

پاک افغان سرحد پر پہلے سے ہی کڑی نگرانی شروع کر دی گئی تھی اور سرحد پر پاسپورٹ اور ویزے کے بغیر داخلے پر پابندی عائد تھی۔ اس سے پہلے شناختی کارڈ یا راہداری دکھا کر دونوں جانب سے لوگ سرحد عبور کرتے تھے۔ ان دنوں میں دوزانہ آٹھ سے دس ہزار افراد یہ سرحد عبور کرتے تھے لیکن اب یہ تعداد بڑی حد تک کم ہو چکی ہے۔

Image caption ان ٹرکوں میں ایسے ٹرک بھی ہیں جن میں کھانے پینے کی اشیا کے علاوہ آٹا اور مرغیوں سے لدی گاڑیاں شامل ہیں

پاک افغان سرحد کی بندش کی وجہ سے بڑی تعداد میں گاڑیاں بھی مختلف مقامات پر روک دی گئی ہیں۔ سامان سے لدی گاڑیاں سرحد کے علاوہ کارخانو مارکیٹ اور رنگ روڈ پر کھڑی ہیں اور اس انتظار میں ہیں کہ سرحد کھلنے کے بعد وہ افغانستان کا سفر شروع کریں گے۔

ان ٹرکوں میں ایسے ٹرک بھی ہیں جن میں کھانے پینے کی اشیا کے علاوہ آٹا اور مرغیوں سے لدی گاڑیاں شامل ہیں۔

پاک افغان سرحد کے قریب واقع علاقے طورخم سے مقامی صحافی ولی خان شنواری نے بتایا کہ سرحد ہر قسم کی ٹریفک اور پیدل آنے جانے والے افراد کے لیے مکمل طور پر بند ہے۔

اسی بارے میں