لاہور: ’پاکستانی ہینڈلر گرفتار، خودکش بمبار افغان تھا‘

  • 17 فروری 2017
تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے وزیراعلیٰ شہباز شریف نے کہا ہے کہ لاہور میں 13 فروری کو ہونے والی دہشت گردی کی کارروائی میں ملوث دہشت گرد گرفتار ہو گئے ہیں اور دہشت گردوں کا مرکز افغانستان میں ہے۔

٭ لاہور ایک بار پھر نشانہ

لاہور میں جمعے کی شام پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے میاں شہباز شریف نے بتایا کہ اب تک ہونے والی تفتیش کے مطابق دہشت گرد گروہ کا مرکز افغانستان میں ہے۔

’دہشت گردوں کا یہ نیٹ ورک افغانستان میں بیٹھ کر پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیاں کرتا ہے۔ لاہور میں ہونے والی دہشت گردی کا ذمہ دار بھی یہی نیٹ ورک ہے۔‘

انھوں نے بتایا کہ ’ہلاک ہونے والے خودکش بمبار کا تعلق افغانستان سے ہے جب کہ دوسرے حملہ آور کا تعلق پاکستان کے علاقے باجوڑ ایجنسی سے تھا‘۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption شہباز شریف نے کامیابی پر پولیس اور متعلقہ اداروں کو مبارکباد دی

انھوں نے پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان کا نام لیے بغیر لاہور دھماکے کے بعد ان کی جانب سے دیے جانے والے بیان پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ ’دہشتگردی پورے پاکستان اور اس کے عوام کا مشترکہ مسئلہ ہے۔‘

انھوں نے سیاسی رہنماؤں سے اپیل کی کہ ان سانحات کو ہمیں سیاسی مسئلہ سمجھنا چاہیے۔

پریس کانفرنس کے بعد میڈیا کے اراکین کو حملے سے پہلے کی فوٹیجز بھی دکھائیں گئیں۔

بتایا کہ انوارالحق نامی دہشت گرد جو کہ اس حملے کا مبینہ طور پر سہولت کار تھا کو گرفتار کیا گیا ہے جس کے بعد اس سے ہونے والی گفتگو کو بھی میڈیا کے سامنے پیش کیا گیا۔

خیال رہے کہ پیر کی شب چیئرنگ کراس کے مقام پر ہونے والے خودکش دھماکے میں ڈی آئی جی ٹریفک احمد مبین اور ایس ایس پی آپریشنز زاہد گوندل سمیت 13 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں