’اچھے اور برے طالبان کا دور ختم ہو چکا‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

پاکستان میں حالیہ دنوں شدت پسندی کی نئی لہر نے سب کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے اور عوام ایک بار پھر سے سکیورٹی اداروں کی کارکردگی پر سوالات اٹھا رہی ہے۔

ماہرین کے مطابق شدت پسندی کے بڑھتے واقعات کی سنگینی اور عوام کے دباؤ کی وجہ سے ملک کی فوجی قیادت کو غیر معمولی قدم اٹھاتے ہوئے افغان حکام کو جی ایچ کیو طلب کرنا پڑا۔

افغانستان سے متعلق فوج کو معاملات براہ راست اپنے ہاتھ میں لینے پر تجزیہ کار ڈاکٹر مہدی حسن نے کہا ہے کہ حالیہ واقعات کی وجہ سے ملکی اسٹبلشمنٹ پر خاصی تنقید شروع ہو گئی تھی اور اس وجہ سے پالیسی مرتب کرنے والوں کی رائے پر افغان حکام کو طلب کیا گیا۔

’افغانستان میں چھپے 76 دہشت گرد پاکستان کے حوالے کریں‘

سیہون میں ہلاکتیں 83، ملک بھر میں سکیورٹی آپریشن

انھوں نے کہا ہے کہ اس کا پس منظر یہ بھی ہے کہ حالیہ واقعات میں ملوث تنظیم کے بارے میں عوام کو بتایا گیا تھا کہ ان کے ٹھکانے افغانستان میں موجود ہیں۔

تاہم ڈاکٹر مہدی حسن کے مطابق فوج نے یہ قدم اس وجہ سے بھی اٹھایا کیونکہ 'میں یہ سمجھتا ہوں کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی میں بالخصوص انڈیا، کشمیر، شدت پسندی اور افغانستان کے معاملات پر فیصلہ سول حکومت نہیں کرتی بلکہ یہ فوج کے ہاتھ میں ہیں۔'

اس رائے سے کسی حد تک تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے بھی اتفاق کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح کی روایت پہلے بھی موجود ہے کیونکہ کچھ عرصہ پہلے جب افغان صدر بھی پاکستان آئے تو پہلے جی ایچ کیو گئے۔ انھوں نے مزید کہا کہ اس کے علاوہ فوج کے سابق سربراہ راحیل شریف بھی افغان حکام کے ساتھ براہ راست رابطوں میں تھے جبکہ موجودہ آرمی چیف کی بھی افغان صدر سے بات ہوئی ہے۔

'ایک سطح پر جہاں دفتر خارجہ کے افغان حکومت کے ساتھ تعلقات قائم ہیں تو جی ایچ کیو کے ذریعے بھی افغانستان سے روابط ہیں جبکہ افغان طالبان کے ساتھ بات چیت میں بھی جی ایچ کیو کا کردار رہا ہے۔'

افغانستان میں پاکستان کے سابق سفیر اور افغان امور کے ماہر رستم شاہ مہمند کے مطابق حالیہ واقعات میں بڑا جانی نقصان ہونے کے بعد صورتحال سنگین ہو گئی ہے جس کی وجہ سے اداروں کی پریشانیوں اور ان پر دباؤ پڑا ہے۔

انھوں نے کہا ہے کہ اسی وجہ سے افغان حکام کو جی ایچ کیو طلب کرنا پڑا تاکہ ان کو بتایا جائے کہ ان کی سرزمین پر موجود شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کرنے کا وقت آ گیا ہے جو پاکستان کے اندر کارروائیاں کرتی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

رستم شاہ کے مطابق یہ کہا جا سکتا ہے کہ علاقے میں در پردہ جنگ میں شدت آ رہی ہے لیکن اس کے ساتھ سوال یہ بھی ہے کہ پاکستان میں حکام کو پہلے اپنے گھر کو ٹھیک کرنا ہو گا جس میں اداروں کو بہتر کرنا، شدت پسندی کے خلاف زیادہ بہتر مصنوبہ بندی اور اس کے ساتھ ذمہ دار حکام کو جواب دے بنانا ہو گا۔

پاکستان پر اچھے اور برے طالبان میں تمیز کرنے کے الزامات کے بارے میں بات کرتے ہوئے تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے کہا کہ ’اب پاکستان میں اس بیانیے کو بھی بدلنے کی ضرورت ہے کیونکہ اچھے اور برے طالبان کا دور ختم ہو چکا ہے۔

'اب ہر وہ شخص جو ریاست کے خلاف بندوق اٹھائے اس کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے اور اس میں چاہیے اگر کوئی افغانستان میں یا پاکستان میں دہشت گرد ہے تو اسے دہشت گرد ہی سمجھا جائے اور وہ ہمارا دوست نہیں ہو سکتا کیونکہ ریاستوں کے دوست دہشت گرد بننا شروع ہو جائے تو وہ ریاستیں بھی اقوام متحدہ کے مطابق دہشت گرد تصور کی جاتی ہیں۔'

انھوں نے اس بارے میں مزید کہا کہ ’چونکہ افغانستان مستحکم ملک نہیں اور پاکستان مستحکم ملک ہے تو اس وجہ سے پاکستان کو ہی قدم اٹھانا ہو گا اور اس ہمیں دہشت گردی کے معاملے میں مرکزی کردار ادا کرنا ہو گا اور اس پر افغانستان سے معاملات طے کرنے ہوں گے۔'

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں