’یہ تو دہشت گردوں کی معاونت کے مترادف ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption لاہور پولیس کے ایک اعلٰی افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ بعض الرٹس تو فوری طور پر واٹس ایپ پر جاری کر دیے جاتے ہیں۔

پاکستان میں دہشتگردی کی حالیہ لہر کے ساتھ ہی ایک دوسری لہر بھی اٹھ رہی ہے۔ یہ سلسلہ ہے خطرے کے ایسے الرٹس کا جو دہشتگردی کے ممکنہ خطرے سے پولیس اور ضلعی انتظامیہ کو متنبع کرنے کیلیے مختلف ایجنسیوں کی جانب سے جاری کیے جاتے ہیں۔

مگر پچھلے کچھ روز سے پاکستان میں ایسے الرٹس وٹس ایپ اور فیس بک جیسے سوشل میڈیا کے پلیٹ فارپز پر گردش کر رہے ہیں۔ دفاعی ماہرین کے مطابق ایسے الرٹس کا سوشل میڈیا پر آ جانا بلاوجہ کا خوف و ہراس پیدا کرنے کا سبب بن رہا ہے۔

ان میں زیادہ تر الرٹس تو محض جعلی افواہ ثابت ہوتے ہیں تاہم لاہور میں پولیس کے کچھ افسران اور تجزیہ نگاروں کے مطابق حال ہی میں سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے مختلف شہروں کے حوالے سے خصوصی الرٹس جعلی تو نہیں مگر یہ خالصتاً سرکاری اداروں کی اندرونی کمیو نیکیشن ہوتی ہے، اس کو باہر نہیں آنا چاہیے۔

تجزیہ کار عامر رانا کا کہنا ہے ایسے الرٹس مستند ہو بھی سکتے ہیں اور جعل سازی سے بھی بنائے جا سکتے ہیں مگر چونکہ سرکاری طور پر ان کی کوئی تردید نہیں آتی تو ان کو مستند ہی تسلیم کر لیا جاتا ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے عامر رانا کا کہنا تھا کہ اگر ایسے الرٹس مستند ہیں اور کسے ادارے نے اس لیے لیک کیے ہیں کہ وہ بعد میں اس بات کا کریڈٹ لے سکے کہ اس نے تو پہلے سے الرٹ کیا تھا تو ایسا کرنا ایک انتہائی خطرناک عمل ہے۔

عامر رانا کا کہنا تھا کہ یہ تو دہشتگردوں کی معاونت کرنے کے مترادف ہے کیونکہ ان کا مقصد بھی ہمیشہ یہی رہتا ہے کہ خوف و ہراس پھیلایا جائے۔

اگر ایسا ہو رہا اے تو حکومت کو سختی سے اس کا نوٹس لینا چاہیے اور اگر ایسا نہیں ہو رہا تو حکومت کو سختی سے اس کی تردید کرنی چاہیے کہ یہ افواہیں غلط ہیں ورنہ خوف پھیلے گا اور یہ دہشتگردوں کی معاونت کے مترادف ہو گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption لاہور میں پولیس افسران کے مطابق جب بھی کوئی خفیہ ایجنسی یا ادارہ ایسا الرٹ جاری کرتا ہے تو وہ پولیس اور انتظامیہ کے اعلٰی افسران سے لے کر انتہائی نچلے درجے تک کے سپاہیوں تک پہنچتا ہے۔

ایسے الرٹس لیک کیسے ہوتے ہیں یا کیے جاتے ہیں؟ لاہور میں پولیس افسران کے مطابق جب بھی کوئی خفیہ ایجنسی یا ادارہ ایسا الرٹ جاری کرتا ہے تو وہ پولیس اور انتظامیہ کے اعلٰی افسران سے لے کر انتہائی نچلے درجے تک کے سپاہیوں تک پہنچتا ہے۔

لاہور پولیس کے ایک اعلٰی افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ بعض الرٹس تو فوری طور پر واٹس ایپ پر جاری کر دیے جاتے ہیں۔ اس طرح کے الرٹس پر مکمل عمل درآمد کے لیے ضروری ہے کہ افسران کے علاوہ ان سے نچلے طبقے کے سپاہی تک کو اس سے آگاہ کیا جائے۔

جب ایسا کیا جاتا ہے تو الرٹس کے لیک ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ ایسے الرٹس کتنے مستند یا قابلِ عملدرآمد ہوتے ہیں؟

پولیس کے ایک تحقیقاتی ادارے سے تعلق رکھنے والے پولیس کے ایک اور سینئر افسر نے بی بی سی کو بتایا کہ زیادہ تر الرٹس بہت ہی عمومی نعویت کے ہوتے ہیں اور یہ ایک بڑی تعداد میں روزانہ کی بنیاد پر مختلف ایجنسیاں اور خفیہ ادارے جاری کرتے ہیں۔

تاہم وقتاً فوقتاً ایسے الرٹس بھی جاری ہوتے ہیں جن میں مخصوص شہروں میں مخصوص تنصیبات کو ممکنہ خطرے کے حوالے سے تنبیح کے جاتی ہے۔

خیال رہے کہ نیشنل کاؤنٹر ٹیررزم اتھرٹی کی طرف سے لاہور میں ممکنہ دہشتگردی کے خطرے سے سول انتظامیہ کو آگاہ کرنے کے لیے جاری کیا گیا ایسا ہی ایک الرٹ مال روڈ پر ہونے والے دھماکے سے چند روز قبل سے سوشل میڈیا پر گردش کر رہا تھا۔

اس حوالے سے پولیس افسر کا کہنا تھا کہ ایسے الرٹ جاری کرنے والی ایجنسیاں زیادہ تر ایسے الرٹس کی پیروی نہیں کرتیں۔ مثال کے طور پر ایسا الرٹ جاری کرنے کے دو یا تین دن بعد یہ نہیں بتایا جاتا کہ اس کی تازہ ترین صورتحال کیا ہے۔

اگر کوئی دہشتگرد کسی شہر میں داخل ہوا تھا تو اس کے بعد وہ کہاں گیا؟ پولیس افسر کے مطابق یہ ممکن نہیں ہوتا کہ ایسے الرٹ جاری ہونے کے بعد پولیس کسی تنصیب یا شہر کو کئی دنوں تک بند کر دے۔

ان کے خیال میں الرٹ جاری کرنے والے اداروں کو یہ بھی چاہیے کہ وہ ایسے الرٹس کی مکمل پیروی کریں اور ان معلومات کو پولیس کے ساتھ بھی شیئر کیا جائے۔ مگر ایسا نہیں ہو پاتا۔

تجزیہ کار عامر رانا بھی اس سے اتفاق کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بعض ایجنسیاں محض اپنی کارکردگی ظاہر کرنے کے لیے ایسے الرٹس جاری کرتی رہتی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ایسے الرٹس کی صداقت پر بھی سوالیہ نشان لگایا جا سکتا ہے کیونکہ ان کے حصول کا ذریعہ عموماّ انٹرسیپٹ کی گئی معلومات ہوتی ہیں جو مکمل نہیں ہوتیں۔

عامر رانا کا کہنا تھا کے حکومت کو چاہیے کہ ایسا طریقہ کار ترتیب دے جس سے افواہوں کے پھیلاؤ کو بھی روکا جا سکے اور اداروں کے اندرونی الرٹس بھی سوشل میڈیا تک نہ پہنچ سکیں۔

اسی بارے میں