پاک افغان سرحد دوسرے روز بھی بند

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ابھی واضح نہیں ہے کہ سرحد کب کھولی جائے گی

پاک افغان سرحد آج دوسرے روز بھی بند رہی جبکہ پاکستان میں سیکیورٹی اہلکاروں نے سرحدی علاقوں میں گولہ باری بھی کی ہے۔

لعل شہباز قلندر کی درگاہ پر خود کش حملے کے بعد پاک افغان سرحد پر کشیدگی برقرار ہے۔

خیبر ایجنسی سے سیکیورٹی ذرائع نے بتایا ہے کہ پاک افغان سرحد پر لوئے شلمان کے علاقے میں بمباری کی گئی ہے جس میں شدت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے ۔ ایسی اطلاعات ہیں کہ سرحد پار افغانستان کے علاقے رینی پرچاؤ میں بھی شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کی گئی ہے جس میں ہلاکتوں کی اطلاع ہے ۔

لوئے شلمان کا علاقہ پاک افغان سرحد ہر وہاں واقع ہے جہاں افغانستان سے دریائے کابل پاکستان میں داخل ہوتا ہے ۔

پاک افغان سرحد خیبر ایجنسی میں طورخم کے مقام پر جنوبی وزیرستان میں انگور اڈا، اور بلوچستان میں چمن کے مقام پر بند کی گئی ہے ۔

عسکری امور کے ماہر بریگیڈیئر ریٹائرڈ سعد نے بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان کے ساتھ سرحد کی بندش یا افغانستان کی حدود میں شدت پسندوں پر حملے کرنا اس مسئلے کا حل نہیں ہے ۔ انھوں نے کہا کہ سرحد کی بندش سے نقصان پاکستان کا ہی ہوگا کیونکہ پاکستان کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ کیا حالات ایسے ہی چلتے رہیں گے یا ان کو مستقل بنیادوں پر حل کرنا ہے ۔

ان کا کہنا تھا کہ اندرونی طور جو اقدامات کیے گئے ہیں وہ ٹھیک ہیں لیکن بیرونی کارروائیاں مناسب نہیں ہیں ۔

بریگیڈیئر ریٹائرڈ سعد نے کہا ایک فوجی کی حیثیت سے انھیں معلوم ہے کہ شیلنگ سے کیا نقصان ہوتا ہے تو اس کا کوئی فائدہ نہیں ہے اور ایسا کوئی چانس نہیں ہے کہ آپ افغانستان کو فتح کریں یا اندر جا کر کوئی کارروائی کریں ۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption پاک افغان سرحد طورخم ، انگور اڈا اور چمن کے مقام پر بند کی گئی ہے

ان کا کہنا تھا کہ افغانستان اور بھارت پاکستان کے خلاف ہیں تو ایسے میں پاکستان کو چاہیے کو افغانستان کو اپنے ساتھ ملائے اور ان سے بات چیت شروع کرے تاکہ یہ مسئلہ حل کیا جا سکے ۔

ایسی اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ لاہور حملے کے ایک سہولت کار انوارالحق کو گزشتہ روز لاہور میں گرفتار کر لیا گیا تھا جبکہ ان کے بھائی کو آج باجوڑ سے حراست میں لیا گیا ہے ۔

گزشتہ روز سیکیورٹی فورسز نے پاکستان کے مختلف علاقوں میں شدت پسندوں کے خلاف کارروائیاں کی تھی جس میں سیکیورٹی حکام نے ایک سو شدت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعوی کیا تھا ۔

اسی بارے میں