قلندر کا دالان بہت خطرناک

سیہون تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

ایسا ہی ہے لعل و لال قلندر لال جہاں قبر پر پڑی لال چادر خون کے لال اڑتے چھینٹے یوں جذب کر لے جیسے جزو کل میں شامل ہو جائے، اور پھر اگلی فجر سے دما دم مست قلندر کا نقارہ یوں بجنے لگے کہ اس کی دھمک پر رقصاں حیدریم قلندرم مستم موالیوں کے حرکتی پیروں سے زندگی کی جھنکار پھوٹنے لگے۔

جیسے گزری شام کچھ ہوا ہی نہیں۔

سیہون درگاہ کہاں ہے، راندۂ درگاہ کی جنت ہے۔ کچلے، مرے، حقیر فقیر طبقے سے زیادہ محفوظ اس کرۂ ارض کے سینے پر اور کون سا طبقہ ہے؟ ان سے کوئی کیا چھین سکتا ہے، جنت چھوڑ ان سے تو کوئی ان کا دوزخ بھی نہیں لے سکتا۔

طاعت میں تا رہے نہ مے و انگبیں کی لاگ

دوزخ میں ڈال دو کوئی لے کر بہشت کو

- غالب

چنانچہ روانہ کرنے والوں نے پہلی بار کسی خود کش کو بالکل ہی غلط ایڈریس تھما دیا۔ اس کی اپنی جان گئی، قلندریوں کا کیا گیا؟ جو نہیں رہے، کل ان سے دوگنے نازل ہو جائیں گے۔

قلندر عجیب تھا۔ اس نے ترکے میں کوئی ملفوظہ نہ چھوڑا۔ سب سینہ بسینہ چلا آ رہا ہے۔ قلندر کی ساری تعلیم اک ہُوک میں بند ہے۔ حق اللہ حق موجود۔۔

زمانے کے ٹھکرائے لوگوں کے سینوں سے نکلتی ہوک ہی اصل میں قلندر ہے۔ اس ہوک میں ہر ان کہا درد لپٹ کر پیروں کی دھمک سے ہوتا ہوا کھلے بالوں کی دیوانہ وار گردش کے راستے آسمان کی جانب کوچ کر جانے کا منظر سیہون کے ہی مقدر میں ہے۔

سب جانتے ہیں کہ سیہون میں کوئی ڈھنگ کی دنیاوی سہولت اور آرام نہیں۔ سب کو معلوم ہے کہ ہر سال درجنوں لوگ موسم کی سختیوں سے مرتے ہیں مگر رش کم ہونے کا نام ہی نہیں لیتا۔

وفاقِ پاکستان کے ہر صوبے کے افتادگانِ خاک میں سے کوئی نہ کوئی دیوانہ بارہ مہینے کے سات دن کے چوبیس گھنٹے کی ہر گھڑی یہاں آتا یا جاتا نظر آتا ہے۔ کیوں؟

میں آن لائن رسالے سکرول میں ہارون خالد کا مضمون پڑھ رہا تھا۔ لکھتے ہیں:

’قلندر کا مزار شاید اس ملک میں اپنی نوعیت کی اکلوتی جگہ ہے جس کے دالان میں ہر عقیدہ دوسرے عقیدے میں یوں گھل جاتا ہے گویا 47 میں کوئی فساد ہی نہیں ہوا، گویا کسی ہندو نے سندھ سے کبھی ہجرت ہی نہیں کی، گویا پنجاب میں توہینِ مذہب کے شبہے میں کوئی مسیحی بستی کبھی جلی ہی نہیں۔ قلندر کا دالان اس دنیا کی پناہ گاہ ہے جو کبھی اس دالان سے باہر پھیلی ہوئی تھی اور رفتہ رفتہ معدوم ہوتی ہوئی اس دالان تک سمٹ آئی۔

لہٰذا اس دالان سے زیادہ خطرناک جگہ اور کیا ہو سکتی ہے جہاں کسی بھی قومی و مذہبی نظریے یا عقیدے کی علیحدہ شناخت ہی برقرار نہیں رہ سکتی۔ یہاں بظاہر چند ہزار لوگ ہی سما سکتے ہیں مگر ان کا بےلاگ والہانہ پن بہت طاقتور لہریں پیدا کرتا ہے۔ چنانچہ یہ حملہ ایک مزار پر تھوڑی ہے۔ اس نقطۂ نظر پر ہے جو اس دنیا کو عقائد کے خانوں میں بانٹنے کے خلاف ہے۔

کیا ایک بڑے ظلم کے فوراً بعد دھمال سے بڑی مزاحمت بھی ممکن ہے؟ دما دم مست قلندر۔ حسینی لعل قلندر۔ نام عثمان مروندی اور نعرہ حسینی کربلائی۔ یہ سیہون ہی میں تو ممکن ہے۔

ہے کوئی جو ممکن کو مار ڈالے؟

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں