پنجاب میں بھی کیا رینجرز کو کراچی والے اختیارات ہوں گے؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پنجاب کی اپیکس کمیٹی نے انسدادِ دہشت گردی کے آپریشن میں رینجرز کی مدد لینے کا فیصلہ کیا ہے۔

پاکستان کے صوبے پنجاب کی حکومت نے دہشت گردی کے خلاف جاری آپریشن میں رینجرز کی مدد لینے کا فیصلہ کیا ہے لیکن مبصرین اس فیصلے پر شکوک شبہات کا اظہار کر رہے ہیں اور ان کے خیال میں پنجاب حکومت رینجرز کو کراچی والے اختیارات دینے پر تیار نہیں ہو گی۔

مبصرین جہاں رینجرز کی مدد حاصل کرنے کے فیصلے پر شکوک شبہات کا اظہار کر رہے ہیں وہیں بعض ماہرین کا خیال ہے کہ شدت پسندی کے مسئلہ کو سنجیدگی سے نمٹنے کے لیے ملک میں ’سیکیورٹی ایمرجنسی‘ نافذ کی جائے اور جس کی سربراہی یا قیادت وزیر اعظم خود کریں۔

پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار پیس سٹڈی کے تجزیہ کار عامر رانا نے بی بی سی ریڈیو کے پروگرام سیربین سے بات کرتے ہوئے ملک میں سیکیورٹی ایمرجنسی نافذ کرنے کی تجویز دی۔ انھوں نے کہا کہ قومی ایکشن پلان کا المیہ یہ رہا کہ وفاتی اور صوبائی حکومتوں نے اس پر سنجیدگی سے عملدرآمد نہیں کیا۔

پنجاب میں انسدادِ دہشت گردی کے آپریشن میں رینجرز کی مدد لینے کا فیصلہ اپیکس کمیٹی میں کیا گیا لیکن انھیں کس حد اختیارات دیے جائیں گے، اس بارے میں تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

رینجرز سے مدد لینے کے فیصلے پرعامررانا کا کہنا تھا کہ یہ ایک جلد بازی اور سیاسی دباؤ میں لیا گیا فیصلہ ہے۔

انھوں نے کہا کہ پنجاب میں دو کام کرنے کی ضرورت تھی۔ ایک تو تمام تنظیموں کی طرف عدم برداشت کی پالیسی اختیار کی جانے چاہیے تھی تو دوسری طرف خفیہ معلومات کی بنیادوں پر ٹارگٹڈ آپریشن کرنے کی ضرورت ہے۔

ان کے خیال میں پنجاب میں اس طرح کے پاکٹس یا گڑھ نہیں ہیں جہاں نیم فوجی دستوں یا فوج کی ضرورت پڑے۔

٭ پنجاب میں کارروائیاں جاری، رینجرز سے مدد لینے کا فیصلہ

حزب اختلاف کی سیاسی جماعتیں اور مبصرین پنجاب اور خاص طور پر جنوبی پنجاب کے ان علاقوں میں جہاں مبینہ طور پر پنجابی طالبان نے جنم لیا اور پروان چڑھے وہاں کراچی کی طرز پر رینجرز کا آپریشن کرنے کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔

بظاہر سیاسی مصلحتوں کی بنا پر پنجاب حکومت ان علاقوں کو رینجرز کے حوالے کرنے سے کتراتی رہی ہے لیکن ایک ہفتے کے دوران دہشت گردی کے پہ در پہ ہونے والے واقعات نے پنجاب میں رینجرز کی زیر نگرانی آپریشن کا جواز پیدا کر دیا ہے۔

تجزیہ کار ڈاکٹر حسن عسکری رضوی کے خیال میں پنجاب حکومت کے لیے رینجرز کو مکمل اختیار دینا مشکل ہے۔

انھوں نے کہا کہ 'پنجاب حکومت کبھی بھی یہ تاثر نہیں دینا چاہے گی کہ اُن کے علاوہ صوبے میں کسی اور کے پاس بھی اختیارات ہیں کیونکہ یہ اُن کی انتخابی سیاست کے لیے نقصان دہ ہے۔ اس لیے پنجاب میں رینجرز کو کراچی آپریشن کی طرز کے اختیارات ملنا مشکل ہے۔'

ڈاکٹر حسن عسکری کے مطابق پنجاب حکومت مخصوص حالات میں ہی رینجرز کو آپریشن کے لیے بلائے گی۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے پنجاب کے صدر قمر زمان کائرہ کا کہنا ہے کہ لاہور سمیت وسطی پنجاب کے علاقے میں دہشت گردوں کے سہولت کار موجود ہیں اور پنجاب بھر میں دہشت گردوں کے خلاف بھر پور آپریشن کیا جانا چاہیے۔

اُن کے مطابق پنجاب میں رینجرز کو کراچی کی طرز کا آپریشن کرنے کے اختیارات ہونا چاہیے۔

Image caption ہ مسلم لیگ نواز کی صفوں میں ایسے افراد موجود ہے جو دہشت گردوں کی حمایت کرتے ہیں: قمر زمان کائرہ

رینجرز کی مدد لینے کے فیصلے پر انھوں نے کہا کہ ’اب دیکھنا یہ ہے کہ پنجاب حکومت اپیکس کمیٹی کے فیصلے پر کیسے عمل کرتی ہے اور کیا پنجاب کی اپیکس کمیٹی بھی سندھ کی اپیکس کمیٹی کی طرح کام کرے گی یا نہیں۔‘

قمر زمان کائرہ نے کہا کہ مسلم لیگ نواز کی صفوں میں ایسے افراد موجود ہے جو دہشت گردوں کی حمایت کرتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’اپنی صفوں اور اپنی فکر میں دہشت گردی کی حمایت کا خاتمہ نہایت ضروری ہے کیونکہ دہشت گردی فکری تحریک ہے اور اس کا براہراست مسلم لیگ نواز مستفید ہوئی ہے۔‘

پنجاب میں حزب اختلاف کی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے رکنِ قومی اسمبلی شفقت محمود کے خیال میں پنجاب حکومت کو بھی دہشت گردی کے خاتمے کے لیے رینجرز سے مدد لینی چاہیے۔

انھوں نے کہا کہ رینجرز سے مدد لینے کا فیصلہ پنجاب حکومت نے مجبوری میں کیا ہے کیونکہ پولیس کی یہ صلاحیت نہیں ہے کہ وہ دہشت گردوں کے خلاف بڑے پیمانے پر آپریشن کر سکے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption کراچی میں دہشت گردوں اور جرائم پیشہ افراد کے خلاف رینجرز کی زیر نگرانی آپریشن جاری ہے

شفقت محمود کے مطابق پنجاب میں رینجرز کو کراچی جیسے اختیارات نہیں دیے جائیں گے اور ان کے پولیس جیسے اختیارات نہیں ہوں گے۔

'پنجاب میں اور خاص کر بڑے شہروں میں کارروائیوں کے لیے رینجرز کو کراچی جیسے اختیارات دینے کی ضرورت بھی نہیں ہے لیکن سکیورٹی بہتر بنانے کے لیے رینجرز کی مدد لی جائے گی۔'

یاد رہے کہ کراچی میں دہشت گردوں اور جرائم پیشہ افراد کے خلاف رینجرز کی زیر نگرانی آپریشن جاری ہے اور رینجرز کو کسی بھی وقت کارروائی کرنے کے لیے صوبائی حکومت سے اجازت لینا نہیں پڑتی ہے۔

کراچی میں رینجرز اور صوبائی حکومت کے درمیان اختیارات کے معاملے پر اختلافات بھی ہیں۔

اسی بارے میں