حافظ سعید معاشرے کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں: خواجہ آصف

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption خواجہ آصف جرمنی کے شہر میونخ میں ایک کانفرنس میں پاکستان کی نمائندگی کر رہے ہیں

پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ جماعت الدعوۃ کے امیر حافظ محمد سعید اور دیگر افراد معاشرے کے لیے خطرے کا باعث بن سکتے ہیں۔

جرمنی کے شہر میونخ میں جاری سکیورٹی کانفرنس 2017 میں حافظ سعید کی نظر بندی کے بارے میں سوال کے جواب میں خواجہ آصف نے کہا کہ انھیں فورتھ شیڈول کے تحت حراست میں لیا گیا ہے۔

’حافظ سعید کی نظربندی قومی مفاد میں کیا گیا فیصلہ ہے‘

حافظ سعید نظر بند، جماعت الدعوۃ واچ لسٹ میں شامل

انھوں نے مزید کہا کہ یہ قانون ان لوگوں پر استعمال کیا جاتا ہے جو سماج دشمن عناصر ہوں اور معاشرے کے لیے خطرے کا باعث بن سکتے ہوں۔

سنیچر کو سکیورٹی کانفرنس کے سیشن سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ پاکستان نے گذشتہ چند ماہ میں ان عناصر کے خلاف کارروائیاں کی ہیں جو دہشت گردوں کی مدد کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

یاد رہے کہ حکومت پاکستان نے اس سال جنوری میں حافظ سعید کو حراست میں لے کر نظر بند کر دیا تھا

حکومت اب ان تمام عناصر اور جماعتوں کے خلاف سخت ایکشن لے رہی ہے جو کہ براہ راست دہشت گردی میں ملوث نہیں ہیں لیکن دہشت گردوں کو مختلف طریقوں سے مدد فراہم کر رہی ہیں۔

خواجہ آصف
Getty Images

جماعت الدعوۃ کے امیر پر الزام ہے کہ وہ ممبئی میں نومبر 2008 کو ہونے والے دہشت گردی کے منصوبے کے خالق تھے۔

حافظ سعید لشکر طیبہ گروپ کے بھی بانی ہیں جس کو ممبئی حملے کا قصوروار ٹھہرایا جاتا ہے۔

حکومت پاکستان نے 2002 سے اس گروپ پر پابندی عائد کی ہوئی ہے جبکہ امریکہ اور اقوام متحدہ دونوں جماعت الدعوۃ کو لشکر طیبہ کا ’فرنٹ‘ گردانتے ہیں۔

میونخ کانفرنس میں بات کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ حکومت اب ان تمام عناصر اور جماعتوں کے خلاف سخت ایکشن لے رہی ہے جو کہ براہ راست دہشت گردی میں ملوث نہیں ہیں لیکن دہشت گردوں کو مختلف طریقوں سے مدد فراہم کر رہی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption جماعت الدعوۃ کے امیر پر الزام ہے کہ وہ ممبئی میں نومبر 2008 کو ہونے والے دہشت گردی کے منصوبے کے خالق تھے

خواجہ آصف نے مزید کہا کہ: 'ماضی میں بھی لشکر طیبہ اور جماعت الدعوۃ پر پابندی لگائی جا چکی ہے اور یہ جماعتیں پاکستان اور پاکستان سے باہر بالواسطہ دہشت گردی میں ملوث رہی ہیں۔ لیکن ہماری پوری کوشش ہے کہ دہشت گردی کو ہر جگہ سے ختم کیا جائے، چاہے وہ پاکستان ہو، افغانستان ہو، اور اس لیے ایسے اقدامات لینے ضروری تھے اور ہم آئندہ بھی لیتے رہیں گے۔'

انتہاپسندی اور دہشت گردی کے بارے میں ہونے والے سیشن میں خواجہ آصف نے سختی سے'اسلامک ٹیررازم' کے لفظ کی مذمت کی اور کہا کہ 'دہشت گردی کسی ایک مذہب سے منسلک نہیں ہے۔ دہشت گرد مسلم، عیسائی، ہندو یا بدھ مت کا پیرو کار نہیں ہوتا وہ صرف دہشت گرد ہوتا ہے۔'

خواجہ آصف نے اعتراف کیا کہ 'ماضی میں ہم سے غلطیاں ہوئی ہیں لیکن اب ہم دہشت گردی کے خلاف پرعزم ہیں اور ہماری فوج پچھلے کئی سالوں سے دہشت گردی کے خلاف بہت اعلیٰ کار کردگی دکھا رہی ہے۔ میں عالمی برادری کو یقین دلاتا ہوں کہ ہم مستقبل میں بھی ایسا ہی کرتے رہیں گے۔'

دوسری جانب جماعت الدعوۃ کے ترجمان نے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف کے بیان پر ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ معاشرے کے لیے خطرہ ان کی جماعت کے سربراہ نہیں بلکہ حکومتی صفوں میں موجود کچھ لوگ ہیں۔

ترجمان یحیی مجاہد کی جانب سے جاری کیے جانے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ان کی تنظیم حکومت کی جانب سے ایسی 'الزام تراشیوں' کی شدید مذمت کرتی ہے۔

اسی بارے میں