حفیظ بروہی کون ہے؟

سیہون تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption سیہون میں خودکش حملے میں 80 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے تھے اور اس حملے کی ذمہ داری داعش نے قبول کی ہے

سیہون میں لعل شہباز قلندر کے مزار پر ہونے والے خودکش بم حملے کی ذمہ داری تو داعش نے قبول کی ہے لیکن سندھ پولیس کے اعلیٰ حکام کے خیال میں اس کے تانے بانے ماضی میں صوبے کے شمالی علاقوں میں شدت پسندی کی وارداتوں سے منسلک رہنے والے حفیظ بروہی گروپ سے بھی جڑ سکتے ہیں۔

یہ پہلا موقع ہے کہ اس گروپ کا نام وسطی سندھ میں ہونے والی کسی واردات میں سامنے آ رہا ہے جس سے یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ گروپ کا نیٹ ورک مضبوط ہو رہا ہے۔

آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ کا کہنا ہے کہ 'حفیظ بروہی انتہائی مطلوب ملزم ہے جو اندرون سندھ میں خاص طور پر شکارپور ، جیکب آباد، کافی جگہوں پر سرگرم ہے۔ اس کا نیٹ ورک کافی پھیلا ہوا ہے اس (سیہون حملہ) واقعے میں بھی اس کے ملوث ہونے کے امکان کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔'

شکارپور میں تعینات رہنے والے ایک سابق ایس ایس پی کے مطابق کہ حفیظ بروہی کے تعقلقات اور ماضی کی سرگرمیوں اور مہارت کی بنیاد پر تفتیش کاروں کے پاس وہ شک کی پہلی وجہ ہیں اور اس کے علاوہ اندرون سندھ میں ایسا اور کوئی متحرک گروپ موجود نہیں۔

34 سالہ حفیظ عرف علی شیر بروہی کا تعلق ضلع شکارپور کے گاؤں عبدالخالق پندرانی سے ہے اور سندھ پولیس کو انتہائی مطلوب ملزمان کی فہرست 'ریڈ بک' میں ان کا تعلق لشکر جھنگوی آصف چھوٹو گروپ ، تحریک طالبان اور جیش محمد سے بتایا گیا ہے۔

مدرسے سے دینی تعلیم حاصل کرنے والے حفیظ بروہی پر کالعدم تنظیموں کے دہشت گردوں کو پناہ دینے، ٹارگٹ کے لیے ریکی کرنے اور اسلحہ و بارود فراہم کرنے کے الزامات ہیں۔

پولیس کے شعبۂ انسدادِ دہشت گردی کے مطابق ملزم براہوی کے علاوہ سندھی، بلوچی اور اردو بھی بول سکتا ہے۔

شکارپور میں سابق رکن اسمبلی ابراہیم جتوئی، درگاہ حاجن شاہ ماڑی والا، شکارپور امام بارگاہ اور جیکب آباد میں ماتمی جلوس پر حملوں میں بھی حفیظ بروہی گروپ کا نام سامنے آتا رہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption شکارپور میں امام بارگاہ پر خودکش حملے میں 58 افراد ہلاک ہوئے تھے

شکارپور میں امام بارگاہ پر حملے میں 58 افراد ہلاک ہوئے تھے اور اس سلسلے میں پولیس نے غلام رسول اور خلیل بروہی نامی جن دو ملزمان کو گرفتار کیا تھا ان میں سے خلیل بروہی نے دوران تفیش بتایا تھا کہ انھوں نے درگاہ حاجن شاہ ماڑی پر حملہ کیا تھا جبکہ شکارپور دھماکے کی ریکی خود حفیظ بروہی نے کی تھی۔

بعد میں خلیل کی نشاندھی پر پولیس نے حفیظ بروہی کے گھر سے اسلحہ اور بارود برآمد کیا تھا اور اس مکان کو پولیس نے بم بنانے کی فیکٹری قرار دیا تھا۔

افغانستان سے تعلق

پولیس کے مطابق حفیظ بروہی کا ایک بھائی افغانستان میں خودکش بم حملے میں ہلاک ہو چکا ہے، گدشتہ سال ستمبر میں شکارپور میں عیدالضحی کے دن امام باگارہ پر حملے کی معاونت بھی اس نے کی تھی۔ اس حملے کے دوران ایک خودکش بمبار ہلاک اور ایک زخمی ہوگیا تھا۔

زخمی بمبار عبدالرحمان نے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کو بتایا تھا کہ اس کا اور ہلاک ہونے والے حملہ آور عثمان کا تعلق افغانستان سے ہے اور وہ کراچی میں اتحاد ٹاؤن کے مدرس میں زیر تعلیم رہے ہیں۔

دونوں مبینہ بمباروں نے بلوچستان کے علاقے وڈھ میں بھی ایک رات قیام کیا تھا، جے آئی ٹی کے مطابق حفیظ بروہی نے پہلے خودکش جیکٹس شکارپور منتقل کیں اور اس کے بعد دونوں کو ہدف تک پہنچایا بھی تھا۔

تنظیمی وابستگی

حفیظ بروہی پر پولیس جنوبی سندھ میں لشکرِ جھنگوی کے ایک گروپ کے سربراہ آصف چھوٹو کے رابطہ کار ہونے کا الزام بھی لگاتی رہی ہے۔

شکارپور پولیس نے امام بارگاہ پر حملے کے بعد کہا تھا کہ دھماکے سے قبل لشکر جھنگوی کا سربراہ شکارپور آیا تھا اور حفیظ بروہی ہی اس کا رابطہ کار تھا۔

آصف چھوٹو کو گذشتہ ماہ تین ساتھیوں سمیت ایک مبینہ مقابلے میں ہلاک کیا جا چکا ہے۔

قلندر لعل شہباز کے مزار پر حملے کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کی جانب سے قبول کیے جانے پر پاکستان انسٹیٹیوٹ آف پیس سٹڈیز کے عامر رانا کہتے ہیں کہ داعش کا یہ دعویٰ حقائق کے قریب تر ہے، کیونکہ اس تنظیم کے 'سٹریٹجک پارٹنر' سندھ اور بلوچستان میں سرگرم ہیں۔

خیال رہے کہ لشکرِ جھنگوی کا ایک دھڑا لشکر جھنگوی العالمی اور جنداللہ نامی گروہ داعش سے وفاداری کا یقین دلا چکے ہیں اور ماضی میں بھی اندرون سندھ شدت پسندی کی وارداتیں کرتے رہے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں