پنجاب میں رینجرز کو تلاشی اور گرفتاری کے اختیارات دینے کا فیصلہ: رانا ثنا اللہ

رینجرز تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption وزیرِ قانون کے مطابق اپیکس کمیٹی فیصلہ کرے گی کہ کن علاقوں میں رینجرز کو تلاشی اور گرفتاری کے اختیارات دیے جائیں

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے وزیر قانون رانا ثنا اللہ کا کہنا ہے کہ صوبے میں رینجرز کو تلاشی اور گرفتاری کے اختیارات دینے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے تاہم ایپکس کمیٹی ہی تعین کرے گی کہ انھیں یہ اختیارات صوبے کے کن علاقوں میں حاصل ہوں گے۔

بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ پنجاب میں رینجرز کو انتہاپسندوں اور شدت پسندوں کے خلاف آپریشن کے لیے کراچی سے زیادہ اختیارات دیں گے۔

* پاکستان میں نیم فوجی فورسز کہاں کہاں تعینات؟

* ’ملک میں سیکیورٹی ایمرجنسی کی ضرورت‘

وزیرِ قانون کا یہ بھی کہنا تھا ’رینجرز پنجاب میں پہلے ہی موجود ہیں، صرف ان کی تعداد بڑھانے اور انھیں موثر بنانے کی ضرورت ہےـ‘

رانا ثنا اللہ نے کہا کہ جب قانون نافذ کرنے والے اداروں، پولیس یا سی ٹی ڈی کو رینجرز کی ضرورت پڑتی ہے تو وہ ان کی مدد کرتے ہیں۔

ملک کی موجودہ سکیورٹی صورت حال کے حوالے سے رانا ثنا اللہ نے بتایا ’اب جو دہشت گردی کی ایک نئی لہر کا سامنا ہے اور اس میں سرحد پار سے دہشت گرد خود کو منظم کر کے کارروائیاں کر رہے ہیں تو اب وزیراعظم پاکستان اور چیف آف آرمی سٹاف نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ دہشت گردوں کے ان اڈوں کو سرحد کی دوسری جانب بھی نشانہ بنایا جائے گا اور ان کو ان کے منطقی انجام تک پہنچایا جائے گاـ‘

ان کے مطابق ’اس صورت حال میں یہ ضرورت محسوس کی گئی ہے کہ ان آپریشنز کو، جو دہشت گردوں کی خلاف جاری ہیں، انھیں مزید موثر بنایا جائےـ اسی لیے رینجرز کو مزید موثر اور با اختیار بنایا گیا ہے تاکہ وہ ان آپریشنز میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔ پنجاب میں رینجرز کو کراچی سے زیادہ اختیارات حاصل ہوں گے۔‘

Image caption رانا ثنا اللہ نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے تمام ادارے انفرادی اور مشترکہ طور پر کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں

ان کا کہنا تھا کہ اپیکس کمیٹی فیصلہ کرے گی کہ کن علاقوں میں رینجرز کو تلاشی اور گرفتاری کے اختیارات دیے جائیں۔

ان کا مزید کہنا تھا ’جو کارروائیاں پہلے ہو رہی ہیں رینجرز سی ٹی ڈی کے ساتھ مل کر ان میں مزید تیزی لا کر انھیں موثر بنائیں گے تاکہ وہ نہ صرف پوسٹ انسیڈنٹ گرفتاریاں کریں بلکہ وہ واقعے سے پہلے بھی گرفتاریاں عمل میں لا سکیں تاکہ بھر پور طریقے سے موثر کارروائیاں کی جا سکیں‘

رینجرز کی تعیناتی کی مدت اور نوٹیفیکیشن کے متعلق صوبائی وزیر قانون نے کہا کہ اس حوالے سے نوٹیفیکیشن بھی جاری کیا جائے گا لیکن ’اس میں مدت جو ہے اس میں توسیع کی جا سکتی ہے، وہ جب تک ضرورت ہو گی تب تک توسیع کرتے رہیں گےـ‘

رانا ثنا اللہ نے کہا ’رینجرز کے اختیارات منتخب علاقوں تک ہوں گے لیکن اس میں یہ بات پیش نظر رہے کہ دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرنے میں کسی قسم کی قانونی رکاوٹ کو حائل نہیں ہونے دیا جائے گا کیونکہ یہ ایک قومی مسئلہ ہے اس میں کوئی فرق نہیں رینجرز کا، پولیس کا، سکیورٹی فورسز کا، عسکری فورسز کا، انٹیلی جنس ایجنسیز کا بلکہ عام سول اداروں کا، عوام کا، سب کو مل کر اسے کامیاب بنانا ہے۔‘

پنجاب میں دہشت گردی کے خلاف کریک ڈاؤن سے متعلق آگاہ کرتے ہوئے وزیرِ قانون نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے تمام ادارے انفرادی اور مشترکہ طور پر کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاکستان میں شدت پسندوں کے خلاف ملک بھر میں جاری کارروائیوں میں اب تک 1100 سے زائد مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے

’جس دن سے لاہور کا واقعہ ہوا ہے، اس دن سے فورسز، رینجرز، سی ٹی ڈی اور پولیس بہت موثر طریقے سے ان کارروائیوں میں تیزی لائی ہے اور سینکڑوں دہشت گرد ہلاک اور گرفتار ہو چکے ہیں۔‘

ان کے مطابق ’پنجاب میں اس وقت کومبنگ آپریشن میں شک کی بنا پر گرفتاریاں ہو رہی ہیں جبکہ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز رینجرز، فورسز اور سی ٹی ڈی مشترکہ طور پر بھی اور انفرادی طور پر بھی کر رہے ہیں۔ اسی طرح صوبے کے سرحدی علاقے جو خیبر پختونخواہ یا فاٹا کی طرف ہیں وہاں مانیٹرنگ سسٹم چلانے کی کوشش کی جا رہی ہےـ‘

خیال رہے کہ پاکستان میں شدت پسندوں کے خلاف ملک بھر میں جاری کارروائیوں میں اب تک 1100 سے زائد مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔

قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ملک بھر اب تک 100 سے زیادہ دہشت گردوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ بھی کیا ہے۔

اسی بارے میں