نیب حدیبیہ پیپرز ملز کے مقدمے میں سپریم کورٹ میں اپیل نہ کرنے کے فیصلے پر قائم

سپریم کورٹ آف پاکستان
Image caption جسٹس آصف سعید کھوسہ نے چیئرمین نیب کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ پھر وہ نتائج بھگتنے کے لیے تیار رہیں

قومی احتساب بیورو یعنی نیب کے سربراہ نے کہا ہے کہ وہ حدیبیہ پیپرز ملز کے مقدمے میں ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر نہ کرنے کے فیصلے پر قائم ہیں۔

چیئرمین نیب چوہدری قمر زمان نے یہ بیان پاناما لیکس کی دستاویز کے بارے میں درخواستوں کی سماعت کرنے والے پانچ رکنی بینچ کے سامنے دیا۔

* ’نیب کے چیئرمین اپیل دائر نہ کرنے کی تجویز سے متفق تھے‘

* حدیبیہ پیپرز ملز: ’سپریم کورٹ میں اپیل دائر کیوں نہیں کی‘

حدیبیہ پیپرز ملز کے اس مقدمے میں وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا اعترافی بیان بھی شامل ہے جس میں اُنھوں نے کہا ہے کہ اُنھوں نے شریف برادران کے لیے منی لانڈرنگ کی ہے۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق سپریم کورٹ نے چیئرمین نیب کو پاناما لیکس سے متعلق درخواستوں میں عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا تھا اور منگل کو سماعت کے دوران ان کا کہنا تھا کہ اس وقت کے پراسیکیوٹر جنرل نے رائے دی تھی کہ حدیبیہ پیپرز ملز کے مقدمے میں اگر ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی تو پھر بدنامی ہو گی۔

اس پر بینچ کے سربراہ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیے کہ ’تو اب کون سی نیک نامی کما رہے ہیں۔‘

بینچ کے سربراہ نے نیب کے چیئرمین سے استفسار کیا کہ کیا اب وہ ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرنا چاہتے ہیں جس پر چوہدری قمر زمان کا کہنا تھا کہ وہ اپنے موقف پر قائم ہیں اور اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر نہیں کریں گے۔

اس پر جسٹس آصف سعید کھوسہ نے چیئرمین نیب کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ پھر وہ نتائج بھگتنے کے لیے تیار رہیں۔

بینچ کے سربراہ کہنا تھا کہ ’حدیبیہ پیپرز ملز کے مقدمے میں ریفری جج نے اس پوائنٹ پر فیصلہ دیا جو اُسے بھیجا ہی نہیں گیا تھا۔‘

اُنھوں نے کہا کہ عدالت کو تحفظات ہیں تاہم عدالت کسی کو نظرِثانی کی اپیل دائر کرنے سے متعلق مجبور نہیں کرسکتی۔

چیئرمین نیب کا کہنا تھا کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو سنجیدگی سے لیتے ہیں۔

بینچ میں موجود جسٹس اعجاز الحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ چار سو روپے کا معاملہ ہو تو نیب عدالت کا دروازہ کھٹکٹاتا ہے اور یہاں پر تو اربوں روپے کا معاملہ ہے لیکن اپیل دائر نہیں کی گئی۔

بینچ میں موجود جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ’اسرائیلی وزیر اعظم سے پوچھ گچھ ہوتی رہے کم از کم نیب کے چیئرمین پاناما لیکس کا معاملہ منظر عام پر آنے کے بعد پانچ چھ بندوں کو بلا کر تفتیش ہی کر لیتے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption حدیبیہ پیپرز ملز کے اس مقدمے میں وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا اعترافی بیان بھی شامل ہے جس میں اُنھوں نے کہا ہے کہ اُنھوں نے شریف برادران کے لیے منی لانڈرنگ کی ہے

فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے قائم مقام سربراہ محمد ارشاد نے عدالت کو بتایا کہ ’پاناما ٹیکس بچانے والوں کے لیے جنت ہے۔‘

اُنھوں نے کہا کہ پاکستان کا پاناما کے ساتھ معلومات کے تبادلے کا کوئی معاہدہ موجود نہیں ہے۔

عدالت کے استفسار پر ایف بی آر کے چیئرمین کا کہنا تھا کہ پانامالیکس کا معاملہ سامنے آنے کے بعد 343 افراد کو نوٹسز جاری کیے گئے جن میں سے 39 افراد نے جواب دیا کہ وہ پاکستان میں نہیں رہتے۔

بینچ نے سربراہ نے ایف بی آر کے حکام سے استفسار کیا کہ کیا وزیراعظم کے صاحبزادوں حسن اور حسین اور بیٹی مریم نواز شریف کو بھی نوٹسز جاری کیے گئے تھے جس پر محمد ارشاد نے کہا کہ ایسا ہی ہے اور اُنھوں نے اس بارے میں جواب بھی جمع کروا دیے ہیں۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ نے سوال کیا کہ کیا وہ جوابات میں فراہم کردہ معلومات کی تصدیق کر رہے ہیں جس پر محمد ارشاد کا کہنا تھا کہ تصدیق کا عمل جاری ہے۔

اس پر بینچ میں موجود جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ’اس طرح اُنھیں تصدیق کا عمل مکمل کرنے میں 30 سال لگ جائیں گے۔‘

اٹارنی جنرل اشتر اوصاف نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی رکن پارلیمان کی نااہلی اور الیکشن کے معاملات کا جائزہ لینے کے لیے متعلقہ فورم موجود ہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ اس طرح کی درخواستوں کو ماضی میں ناقابل سماعت قرار دے کر مسترد کر دیا جاتا تھا۔

اُنھوں نے کہا کہ جو شکایت کنندہ ہیں ان کے بارے میں بھی عدالت کو دیکھنا ہوگا کہ اُن کے کون سے حقوق متاثر ہوئے ہیں۔

اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ براہ راست کسی بھی ادارے کے اختیارات اپنے ہاتھ میں نہیں لے سکتی جس پر بینچ کے سربراہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت سچ کی تلاش اور انصاف کے تقاضے پورے کرنے کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتی ہے۔

درخواست گزار عمران خان کی طرف سے مزید دستاویز عدالت میں جمع کروانے اور اس کے جواب میں وزیر اعظم اور اُن کے بچوں کی طرف سے درخواست دائر کرنے سے متعلق عدالت کا کہنا تھا کہ پہلے سے ہی عدالت کے پاس اتنی دستاویز ہیں کہ اب وہ مزید کوئی دستاویزات نہیں لے سکتی۔

بینچ کے سربراہ نے دورانِ سماعت اس امید کا اظہار کیا کہ اگلے دو روز میں ان درخواستوں کی سماعت مکمل ہو جائے گی۔

اسی بارے میں