خواہشوں کے مطابق فیصلہ نہیں دے سکتے: سپریم کورٹ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پوری قوم یہ جاننے میں حق بجانب ہے کہ اُن کا وزیر اعظم صادق اور امین ہو: عدالت

پاناما لیکس دستاویزات سے متعلق درخواستوں کی سماعت کے دوران اٹارنی جنرل اشتر اوصاف نے کہا ہے کہ اگر وزیر اعظم نے اپنے گوشواروں میں غلط بیانی سے کام لیا ہے تو اُن کے خلاف کارروائی سپریم کورٹ میں نہیں بلکہ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کی عدالت میں ہوسکتی ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ حدیبیہ پیپرز ملز کے مقدمے کو پاناما لیکس سے نہیں جوڑا جاسکتا۔

* پاناما لیکس نہیں وزیر اعظم کی نااہلی پر اصرار

* ’پہلے ریمارک پر مسکراہٹ، دوسرے پر غائب‘

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق اٹارنی جنرل نے کہا کہ اگر حدیبہ پیپرز ملز کے مقدمے میں پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نیب کے فیصلے سے مطمین نہیں ہیں اور اگر اس سے ان کا کوئی حق مجروح ہوا ہے تو وہ اس بارے میں درخواست دے سکتے ہیں اور وہ (اشتر اوصاف) اٹارنی جنرل کی حیثیت سے اس کی مخالفت نہیں کریں گے۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ کا کہنا تھا کہ جو دستاویزات اور ثبوت سپریم کورٹ میں پیش نہیں کیے جاسکے تو وہ سیشن جج کی عدالت میں کیسے پیش کیے جائیں گے۔

بینچ میں موجود جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ’پوری قوم یہ جاننے میں حق بجانب ہے کہ اُن کا وزیر اعظم صادق اور امین ہو اور وہ آئین کے آرٹیکل 62 اور63 پر پورا اُترتا ہو۔‘

اٹارنی جنرل نے کہا کہ آئین کے یہ آرٹیکل رکن قومی اسمبلی کے لیے ہیں اور وزیر اعظم اس زمرے میں نہیں آتے جس پر بینچ کے سربراہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ’کیا وزیر اعظم عوامی عہدہ نہیں ہے اور کیا اُن کے خلاف کارروائی نہیں کی جاسکتی۔‘

جسٹس آصف سعید کھوسہ کا کہنا تھا کہ حدیبیہ پیپرز ملز کے مقدمے میں ریاست مدعی تھی اور اٹارنی جنرل وفاق کی نمائندگی کر رہے ہیں اس لیے وہ اٹارنی جنرل کی مشکلات کو سمجھتے ہیں مگر اس کے باوجود وہ عدالتی معاونت جاری رکھیں۔

اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ ارکان پارلیمنٹ کی نااہلی سے متعلق فورم موجود ہیں جن میں الیکشن کمیشن اور قومی اسمبلی کے سپیکر کا فورم موجود ہے جس پر بینچ کے سربراہ کا کہنا ہے کہ اگر درخواست گزاروں کی وہاں پر شنوائی نہ ہو تو پھر درخواست گزار کدھر جائیں۔ اشتراوصاف نے کہا کہ عدالت ان اداروں کو ہدایات جاری کرسکتی ہے۔

اُنھوں نےکہا کہ مشکوک شواہد کی بنا پر ان درخواستوں پر فیصلہ نہیں دیا جاسکتا۔ اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ معاملے کی تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ کسی بھی ادارے کو احکامات جاری کرسکتی ہے۔

جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ عدالت متعدد بار کہہ چکی ہے کہ اگر ادارے اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے ادا نہ کریں تو عدالت اس میں مداخلت کرسکتی ہے۔

پاکستا ن تحریک انصاف کے وکیل نعیم بخاری نے جواب الجواب میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ لندن فلیٹس کی ملکیت وزیر اعظم کے بچوں کی نہیں بلکہ نواز شریف کی ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ ’عدالت وزیر اعظم کے بچوں کی ملکیت کے دعوے کو یکسر مسترد کردے اور اس بات کو تسلیم کرے کہ یہ فلیٹس وزیر اعظم کی ملکیت ہیں۔‘

اس پر بینچ کے سربراہ نے نعیم بخاری کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ پہلے تو وہ یہ کہہ رہے تھے کہ مریم نواز شریف ان فلیٹوں کی بینیفشل اونر ہیں اور اب آپ یہ کہہ رہے کہ یہ فلیٹس وزیر اعظم کی ملکیت ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ وزیر اعظم نے کہاں کہا ہے کہ لندن کے فلیٹس اُن کے بچوں کی ملکیت ہیں۔

بینچ میں شامل جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ درخواست گزار کی یہ خواہش ہے کہ صرف اُن کی بات کو تسلیم کیا جائے جبکہ دیگر فریق کی بات کو مسترد کر دیا جائے تو ایسا نہیں ہوگا۔

عدالت نے درخواست گزاروں کو جمعرات تک اپنے دلائل مکمل کرنے کا حکم دیا ہے۔

اسی بارے میں