پاناما کیس کے وکلا

پانامہ کا مقدمہ سپریم کورٹ میں بالاخر اپنے انجام کو پہنچ گیا۔ اس دوران فریقین کی جانب سے نصف درجن سے زائد وکلا عدالت کے سامنے گھنٹوں دلائل دیتے رہے۔ بعض مواقع پر ان وکلا کو عدالت کی جانب سے سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑا اور اکثر میڈیا بھی ان قانون دانوں کے لتے لیتا رہا۔ مقدمے کے دوران ان وکلا کے بارے میں عدالت کے اندر اور باہر کہے گئے بعض جملے بھی ان کی ایک طرح سے پہچان بھی بن گئے۔ اس مقدمے میں توجہ کا مرکز بننے والے یہ لوگ کون ہیں اورکیوں انھیں عدالت اور میڈیا کی ’سختی‘ کا سامنا کرنا پڑا؟ آئیے ان سے ملتے ہیں۔

پانامہ کیس پر بی بی سی اردو کا خصوصی ضمیمہ

وکلائے صفائی

سلمان اسلم بٹ

پاناما لیکس کے مقدمے میں ابتدائی طورپر سابق اٹارنی جنرل سلمان اسلم بٹ وزیر اعظم نواز شریف کی وکالت کر رہے تھے۔

جب اُنھوں نے عدالت میں یہ بیان دیا کہ کاروبار سے متعلق وزیر اعظم کا پارلیمنٹ میں دیا گیا بیان سیاسی تھا تو اس کے بعد حکمراں جماعت کی قیادت نے وکیل کو تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا اور سلمان اسلم بٹ سے اس مقدمے کی پیروی واپس لے لی گئی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

مخدوم علی خان

سلمان اسلم بٹ کی جگہ وزیراعظم کی وکالت کا قرعہ ایک اور سابق اٹارنی جنرل مخدوم علی خان کے نام نکلا جو سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے دور میں چھ برس تک اس عہدے پر فائز رہے تھے۔

وکلا اور عدالتی کارروائیوں کی کوریج کرنے والے صحافیوں کی نظر میں مخدوم علی خان ایک 'فوکسڈ پرسن' ہیں اور کئی کئی گھنٹوں پر مشتمل دلائل دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

ان کے طویل دلائل دینے کی عادت پر پاناما کیس کی ہی ایک سماعت کے دوران عدالت میں تحریک انصاف اور حزب اختلاف کے رہنماؤں کی یہ سرگوشی خبروں کا حصہ بنی کہ 'آج بھر سونا پڑے گا‘ کیونکہ مخدوم علی خان اپنے دلائل میں جن عدالتی فیصلوں کا حوالہ دیتے تھے وہ پورے فیصلہ پڑھ کر سناتے تھے اور یہ طویل تقریر شاید کمرۂ عدالت میں موجود پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں اور کارکنوں کے لیے دلچسپ نہیں تھی۔

مخدوم علی خان کے بارے میں وکلا برادری کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ بہت کم مسکراتے ہیں اور پاناما کیس کے دوران بھی ان کے چہرے پر صرف اسی وقت مسکراہٹ دیکھی گئی جب جج صاحبان کی جانب سے ان سے ثبوتوں کے بارے میں استفسار کیا جاتا تھا۔

اکرم شیخ

والد کی طرح مقدمے میں نواز شریف کے بیٹوں حسن اور حسین نواز نے بھی آغاز میں اکرم شیخ کو اپنا وکیل مقرر کیا۔

جب جنوری میں جب جسٹس آصف کھوسہ کی سربراہی میں نئے بینچ نے اس مقدمے کی سماعت دوبارہ شروع کی تو اس سے قبل ہی اکرم شیخ سے یہ ذمہ داری واپس لے لی گئی۔

اکرم شیخ ہی وہ وکیل تھے جنھوں نے نومبر 2016 میں قطر کے شاہی خاندان کے رکن حمد جاسم کی جانب سے ایک خط عدالت میں پیش کیا جس کے مطابق شریف خاندان نے 1980 میں الثانی گروپ میں ریئل اسٹیٹ میں جو سرمایہ کاری کی تھی اس سے لندن میں بعد میں چار فلیٹ خریدے گئے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

سلمان اکرم راجہ

اکرم شیخ کی جگہ وزیراعظم کے صاحبزادوں حسن نواز اور حسین نواز کی نمائندگی سلمان اکرم راجہ نے کی۔ مقدمے کی سماعت کے دوران سلمان اکرم راجہ اور جج صاحبان کے درمیان بھی مختلف دلچسپ جملوں کا تبادلہ ماحول کی گرمی کو زائل کرتا رہا۔

ایک موقع پر سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ سماعت میں کہا گیا کہ کیا 12 ملین درہم اونٹوں کی پشت پر لاد کر قطر لے کر گئے تھے۔ یہ اتنی بڑی رقم نہیں تھی کہ اُونٹوں کی ضرورت پڑتی۔

سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ 1980 کی دہائی میں ایک ہزار درہم کا نوٹ موجود تھا۔

سماعت کے دوران ان کا ایک اور جملہ خاصا مشہور ہوا جب انھوں نے کہا کہ 'اگر اُن کے موکل نے حقائق چھپائے ہیں تو اس کی سزا ان کے مؤکل کو ہی دی جاسکتی ہے نہ کہ ان کے والد یعنی وزیر اعظم کو۔'

اس پر بینچ کے سربراہ نے انھیں مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ یہ بات کر کے بہت بڑا جوا کھیل رہے ہیں۔

اسی موقع پر سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ اُن کا اپنا ٹرائل ہو رہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

شاہد حامد

شاہد حامد پرویز مشرف کے دور میں گورنر پنجاب رہ چکے ہیں اور وہ موجودہ وفاقی وزیر قانون زاہد حامد کے بھائی ہیں۔

پاناما لیکس مقدمے میں انھوں نے وزیراعظم کی صاحبزادی مریم نواز، اُن کے شوہر کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر اور وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی وکالت کی۔

اس مقدمے میں ایک موقع پر شاہد حامد اسحاق ڈار سے متعلق کہا کہ اُن سے یہ بیان یہ کہہ کر لیا گیا کہ اگر بیان نہ دیا تو اٹک قلعے سے نہیں جانے دیا جائے گا۔سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے دور میں میاں نواز شریف، حسین نواز اور اسحاق ڈار کو اٹک قلعے میں رکھا گیا تھا۔

ان درخواستوں کی سماعت کے دوران سب سے مشہور مریم نواز کا یہ بیان ہوا جو اُن کے وکیل نے عدالت میں پڑھ کر سنایا کہ 'ان کی بیرون ملک کوئی جائیداد نہیں اور بیرون ممالک جو ہے وہ اُن کے بھائیوں کی جائیداد ہے۔'

مریم نواز شریف کے وکیل شاہد حامد نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اُن کی موکلہ شادی کے بعد اپنے والد کے ساتھ بھی رہی ہیں تو اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ ان کے زیرِ کفالت ہیں۔

مدعیان کے وکلا

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

حامد خان

مقدمے کے آغاز میں پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے پیروی پارٹی کے سینیئر نائب صدر اور وکیل رہنما حامد خان کر رہے تھے تاہم انھوں نے مبینہ طور پر میڈیا کی جانب سے اپنا تشخص خراب کرنے کو بنیاد بنا کر اس مقدمے میں مزید نمائندگی کرنے سے معذوری ظاہر کر دی۔

یہ معاملہ اس وقت پیش آیا جب دورانِ سماعت عدالت نے حامد خان سے استفسار کیا کہ وہ مقدمے سے متعلق ثبوت پیش کریں جس پر اُنھوں نے صاف صاف کہہ دیا کہ ثبوت تو ان کے پاس نہیں ہیں۔

حامد خان کی یہ بات مقامی میڈیا میں سرخیوں کیے زینت بنی اور اگلی سماعت سے قبل ہی انھوں نے میڈیا پر اپنا امیج خراب کرنے کی کوشش کا الزام لگاتے ہوئے کہہ دیا کہ وہ ان درخواستوں کی پیروی نہیں کر سکتے۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
’وکیل بھی کبھی مقدمہ ہارتا ہے‘

نعیم بخاری

حامد خان کے متبادل کے طور پر تحریکِ انصاف نے نعیم بخاری کا انتخاب کیا جو پہلے سے پی ٹی آئی کے وکلا کی ٹیم کے رکن تھے تاہم حامد خان کے جانے کے بعد اس مقدمے کی مکمل ذمہ داری ان کے کاندھوں پر آ گئی۔

نعیم بخاری کی وجہ شہرت سرکاری اور نجی ٹی وی چینلز پر ٹاک شوز کی میزبانی بھی ہے۔

سنہ 2007 میں نعیم بخاری کی جانب سے اس وقت کے چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چودہری کے خلاف تحریر کردہ کھلے خط کو اس وقت کے سربراہِ مملکت پرویز مشرف کی جانب سے افتخار چودہری کے خلاف دائر کردہ ریفرنس کا ماخذ سمجھا جاتا ہے کیونکہ ریفرنس کے بیشتر نکات اسی کھلے خط سے منقول تھے۔

پانامہ لیکس کے مقدمے کی سماعت کے دوران ایک موقعے پر جب بینچ میں موجود ججوں نے سوالات کی بوچھاڑ کی تو نعیم بخاری نے ججوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: 'مائی لارڈز اس مقدمے میں تو میں صرف سٹپنی ہوں۔ اصل وکیل تو حامد خان ہیں۔ پتہ نہیں میرے کندھوں پر کیوں اضافی بوجھ ڈال دیا گیا ہے۔‘

اسی طرح عدالت سے باہر صحافیوں سے بات چیت کے دوران انھوں نے یہ جملہ بھی کہہ دیا کہ 'مقدمہ تو موکل ہارتا ہے وکیل نہیں۔'

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

شیخ رشید

پارلیمنٹ میں اکلوتی سیٹ رکھنے والی جماعت عوامی مسلم لیگ کا شمار تحریک انصاف کے اتحادیوں میں ہوتا ہے۔

اس جماعت کے سربراہ شیخ رشید احمد نے مقدمے کی سماعت سے قبل ہی پانچ رکنی بنچ کو بتا دیا تھا وہ اپنی درخواست کی پیروی خود ہی کریں گےاور پھر انھوں نے ایسا ہی کیا۔

ان درخواستوں کی سماعت کے دوران شیخ رشید نے طنزیہ اور مزاحیہ جملے بھی کہے لیکن بینچ کی طرف سے ان جملوں کو پذیرائی نہیں ملی۔ بلکہ ایک موقع پر عدالت نے اُنھیں کہہ دیا کہ 'شیخ صاحب پاناما کا معاملہ بڑا اہم ہے لہذا سنجیدگی کا مظاہرہ کریں۔'

اس مقدمے کی سماعت کے دوران کمرۂ عدالت میں شیخ رشید احمد کو اونگھتے ہوئے بھی دیکھا گیا اور کبھی کبھار اُن کے خراٹوں کی آواز کمرہ عدالت میں سنائی دیتی رہی۔

ان درخواستوں کی سماعت کے دوران جب عدالت کی جانب سے جب یہ کہا گیا کہ وکلا کے علاوہ شیخ رشید نے بھی عدالت کی بہت معاونت کی ہے تو اس پر کمرۂ عدالت میں ایک قہقہہ بلند ہوا۔

اس مقدمے میں سماعت کے دوران بھی شیخ رشید نے 'آئندہ دو روز بہت اہم' کی پیشن گوئی بارہا کی لیکن ان پیشن گوئیوں کا نتیجہ بھی وہی نکلا جو گذشتہ دس سال سے کی جانے والی پیشنگوئیوں کا نکلتا آیا ہے۔

توفیق آصف تصویر کے کاپی رائٹ RHCBA

توفیق آصف

پاناما لیکس کے مقدمے میں توفیق آصف نے جماعت اسلامی کی وکالت کی تاہم ان کی طرف سے دلائل کچھ اس قسم کے تھے کہ ایک موقع پر تو عدالت کی طرف سے یہ بھی سوال اٹھایا گیا کہ کیا وہ واقعی جماعت اسلامی کا ہی مقدمہ لڑ رہے ہیں۔

توفیق احمد راولپنڈی ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر اور لاہور ہائی کوٹ بار ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری بھی رہ چکے ہیں۔

سماعت کے دوران دلائل دیتے ہوئے ایک موقع پر توفیق آصف کا کہنا تھا کہ اُنھیں شک ہے کہ دبئی میں لگائی گئی مل کو بیچ کر لندن میں فلیٹس خریدے گئے ہیں۔

اس پر بینچ کے سربراہ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ کیا اُنھیں معلوم ہے کہ شک کا فائدہ کس کو جاتا ہے۔

جماعت اسلامی کے وکیل اپنے دلائل میں اُن عدالتی فیصلوں کا حوالہ دیتے رہے جس میں سپریم کورٹ نے نواز شریف کے خلاف کوئی فیصلہ صادر نہیں کیا۔

اُن کے دلائل کے دوران بینچ میں بیٹھے ہوئے جج صاحبان جماعت اسلامی کے وکیل کو یہ کہنے پر مجبور ہوگئے کہ ’بھائی صاحب کچھ تو پڑھ کر آیا کریں۔‘

سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے ایک قریبی ساتھی نے سپریم کورٹ میں میڈیا کے نمائندوں کو بتایا تھا کہ جماعت اسلامی کے وکیل اپنے دلائل کی تیاری میں سابق چیف جسٹس سے رہنمائی لیتے رہے ہیں۔

توفیق آصف کے دلائل کے جواب میں ایک موقع پر جسٹس عظمت سعید نے تنبیہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ سنجیدگی کا مظاہرہ کریں۔ 'آپ نے تو اس مقدمے کو مذاق ہی بنایا ہوا ہے۔‘

اسی بارے میں