’میرا موازنہ نواز شریف سے ہرگز نہ کریں‘

عمران خان تصویر کے کاپی رائٹ Bloomberg

پاکستان تحریک انصاف کا کیمپ سپریم کورٹ میں فیصلے سے قبل تک وزیر اعظم نواز شریف اور ان کے خاندان کے تین نسلوں کے اثاثوں پر عدالتی کھنچائی سے بہت مطمئن ہے۔ میڈیا پر مہینوں تک جاری رہنے والے اس ہائی پروفائل قومی ٹرائل نے یقیناً مستقبل کے وزرائے اعظم کے لیے ایک سبق چھوڑ دیا ہے اور وہ ہے کہ اپنے اثاثوں کا حساب کتاب درست رکھیں ورنہ اس قسم کی پوچھ گچھ اور ایک ایک پیسے کا حساب دینا پڑسکتا ہے۔

یہی وہ ’بڑی کامیابی‘ ہے جو عمران خان کو اس موضوع پر جذباتی انداز میں بات کرتے ہوئے فخر کا احساس دلاتی ہے۔

تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کو عدالت عظمیٰ سے دو قسم کے فیصلوں کی توقع ہے۔ زیادہ امید اور خواہش تو ان کی نواز شریف کی نااہلی کی ہے لیکن کہیں یہ بھی امکان دیکھ رہے ہیں کہ عدالت شاید مناسب دستاویزات کی عدم دستیابی کو وجہ بنا کر کسی بھی فیصلے پر نہ پہنچ سکے۔ لیکن ایسی صورت میں ان کے خیال میں عدلیہ کے وقار کو شدید ٹھیس لگے گی۔

عمران سپریم کورٹ کے بینچ کے ججوں کے معیار کے معتقد دکھائی دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ 'جس طرح کے سوال وہ پاناما دستاویزات میں سے نکالتے ہیں وہ کوئی جہاں دیدہ شخص ہی کر سکتا ہے۔‘

عمران خان اس اہم مقدمہ کی سماعت کے دوران کسی بھی نجی نشست میں کئی کئی گھنٹے بغیر کسی وقفے کے بھرپور جذبات اور یقین کے ساتھ گفتگو کرتے تھے۔ یہ ایک ایسے شخص کی بات چیت ہوتی تھی جسے اپنے کسی اہم ترین ہدف تک پہنچنے کی واحد امید یہی مقدمہ دکھائی دیتا ہو۔ وہ ہدف ظاہر ہے نواز شریف کو اقتدار سے کسی طرح گھسیٹ کر نیچے لانا تھا۔

گذشتہ دنوں عمران خان سے اسلام آباد کے مضافاتی علاقے بنی گالا میں ایک سرسبز چوٹی پر واقع ان کی رہائش گاہ کے ایک شاندار کمرے میں ملاقات ہوئی۔ ان دنوں پاناما کا مقدمہ اپنے آخری مراحل میں تھا اور عمران خان ایک ہفتے کے اندر اندر سماعت مکمل ہونے کی پیش گوئی کر رہے ہوتے تھے۔

کمرے سے اسلام آباد اور سابق وزیر خارجہ محمود قصوری کا شاہانہ فارم ہاؤس بھی دیکھا جا سکتا تھا۔ شلوار قمیض میں ملبوس عمران اپنے دو بھاری بھرکم کتوں کے ساتھ کمرے میں داخل ہوئے تو سفید رنگ کا کتا تو مہمانوں کے انجانے بیگ سونگھ کر باہر نکل گیا لیکن موٹو نامی السیشن اس ملاقات کے دوران عمران کی کرسی کے ساتھ بیٹھا رہا۔ معلوم نہیں انسانی باتیں سمجھنے کی صورت میں اسے پاناما کی گردان سننے میں کتنی دلچسپی تھی؟ خیر پاناما اور مہمانوں سے بےخبر وہ لکڑی کے فرش پر لیٹا رہا۔

عمران خان کے ترجمان نعیم الحق بھی ان کے ہمراہ تھے اور کمرے میں داخل ہوتے ہی انھوں نے ایک سینئر غیرملکی خاتون صحافی پر واضح کر دیا کہ عمران کے ساتھ والا دوسرا سنگل صوفہ ان کے لیے اور وہ وہاں براجمان ہونے کی کوشش نہ ہی کریں۔

نواز شریف کے بارے میں بات کرتے ہوئے جیسے عمران خان کی آنکھوں میں کسی انجانے انتقام کی آگ سلگتی دکھائی دیتی ہے۔

ایک موقع پر گپ شپ کے دوران خیبر پختوخوا کا ذکر ہوا اور ان کے خود وزیر اعلیٰ بننے کی بات چھڑی تو میں نے کہا نواز شریف نے بھی یہی راستہ اپنایا تھا۔ اس پر وہ غصے میں کہنے لگے: 'میرا نواز شریف کے ساتھ ہرگز موازانہ نہ کریں۔' ان کی گفتگو سننے کے بعد یہ موازنہ کرنا مشکل ہے کہ نواز شریف کے بارے میں یہ رویہ محض سیاسی ہے یا ذاتی بھی۔

پاناما پر گفتگو کے دوران عمران خان اس کیس کی باریکی میں اتنا چلے جاتے کہ انھیں احساس ہی نہ ہوتا کہ وہ بڑے غیرملکی اخبارات اور نیوز ایجنسیوں کے نمائندوں سے بات کر رہے ہیں۔ ان لوگوں کے سر سے اکثر باتیں گزر گئی ہوں گی کیونکہ وہ اس مقدمے میں روزانہ کی پیش رفت کو اس طرح فالو نہیں کر رہے تھے جیسے کہ مقامی صحافی۔

عمران کا کہنا تھا کہ سب سے پرامید بات اس مقدمے کے بارے میں یہ تھی کہ عدالت اسے ایک غیرجانبدار ریفری کے طور پر سن رہی ہے نہ کہ تحقیقات کار کے طور پر۔ ان کے خیال میں جس طریقے سے نواز شریف جماعت چلا رہے ہیں کسی مخالف فیصلے کی صورت میں وہ حکومت ہی ختم کر دیں گے۔

تاہم ان کی باتوں سے ایسا محسوس ہوا کہ وزیر اعظم کی تبدیلی اور مسلم لیگ کے اندر ہی کسی کا اس عہدے پر آنا بھی عمران خان کے لیے شاید قابل قبول ہو۔

ایسا بھی محسوس ہوا کہ سب کچھ بھول بھلا کر عمران خان پچھلے تقریباً ایک سال سے پاناما کیس میں مصروف ہیں۔ انھیں خیبرپختونخوا میں جو اچھے کام ہو رہے ہیں ان کا تو علم ہے لیکن بظاہر جو نہیں ہو رہا اس کا نہیں۔

جب انھیں بتایا کہ قدیم پشاور میں سڑکوں کا وہ حال ہے کہ الامان الحفیظ تو انھوں نے اپنے ساتھی سے دریافت کیا کہ کیا ایسا ہی ہے؟ اثبات میں جواب ملنے پر کہنے لگے مقامی حکومتوں کو فنڈز دے دیے ہیں اور وہ پنجاب کی طرح 57 فیصد ترقیاتی فنڈز صرف دارالحکومت پر خرچ کرنے کے کسی صورت میں حق میں نہیں۔

ٹھیک اس وقت جب عمران ہم سے بات چیت کر رہے تھے ان کی پارٹی کے ایک خیرخواہ عبدالقیوم خان کنڈی ان کے فارم کے باہر ایک پریس کانفرنس کر رہے تھے یہ کہنے کے لیے کہ پارٹی کارکن ناراض ہیں ان پر توجہ دیں کیونکہ یہی کارکن کسی بھی جماعت کا اثاثہ ہوتے ہیں۔

عبدالقیوم کنڈی کے بقول کئی ناراض کارکن بھی پاناما لیکس مقدمے کے فیصلے کا انتظار کر رہے ہیں۔ اگر فیصلہ نواز شریف کے حق میں آیا تو یہ کارکن بھی عمران خان کے ہاتھ سے چلے جائیں گے۔

ان کا موقف تھا کہ پاناما کیس میں کامیابی سے تمام توقعات وابستہ رکھنا کافی بڑا جوا ہے تاہم ایک جارحانہ کھلاڑی ہونے کے ناطے عمران خان کو اس کی کوئی فکر نہیں اور مسلم لیگ ہو یا تحریک انصاف دونوں کی سیاست کا مستقبل فی الحال پاناما کیس سے ہی جڑا دکھائی دیتا ہے۔

جاتے جاتے عمران خان سے پوچھا کہ اگر سپریم کورٹ تھک ہار کر آخر میں کہے کہ وہ اس معاملے کی تہہ تک پہنچنے کے لیے اب کمیشن بنا دیتی ہے تو کیا ہو گا؟ اس پر عمران خان نے مسکراتے ہوئے کہا 'یہ تو اچھا ہوگا، روز اسی طرح میڈیا پر یہ معاملہ چلاتے رہیں گے۔'

اسی بارے میں