پنجاب میں رینجرز کے اختیارات پولیس کی معاونت تک محدود

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان کی وفاقی وزارتِ داخلہ نے پنجاب میں رینجرز کی تعیناتی اور انھیں انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیوں میں شامل کرنے کی باقاعدہ طور پر منظوری دے دی ہے۔

وزارتِ داخلہ کے مطابق رینجرز کو یہ اختیارات انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت 60 دن کے لیے دیے جا رہے ہیں اور وہ دہشت گردوں کے خلاف کارروائی میں پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی معاونت کریں گے۔

٭’کن علاقوں میں رینجرز کو اختیارات ہوں گے، فیصلہ ہونا باقی‘

٭پنجاب میں کارروائیاں جاری، رینجرز سے مدد لینے کا فیصلہ

رینجرز کی تعیناتی اور اختیارات کے حوالے سے یہ فیصلہ بدھ کو وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کی زیر صدارت ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس ہوا جس میں قومی سلامتی کے مشیر لیفٹیننٹ جنرل (ر) ناصر جنجوعہ، سیکریٹری داخلہ، چیف سیکریٹری پنجاب، ہوم سیکریٹری، آئی جی پنجاب اور دیگر سینئر افسران نے شرکت کی۔

خیال رہے کہ پنجاب میں رینجرز کو اختیارات دینے کی سفارش صوبے کی ایپکس کمیٹی کی جانب سے کی گئی تھی۔

پنجاب کے وزیرِ قانون رانا ثنا اللہ نے بی بی سی اردو کو بتایا ہے کہ صوبائی حکومت نے وفاقی حکومت سے پنجاب میں رینجرز کے مزید پانچ ونگز تعینات کرنے کے لیے کہا ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار عمر دراز ننگیانہ سے بات کرتے ہوئے وزیرِ قانون کا کہنا تھا کہ رینجرز کے دو ونگز پہلے ہی سے صوبے میں موجود ہیں۔

رانا ثنا اللہ نے بتایا کہ 'ایک ونگ میں چار کمپنیاں ہوتی ہیں اور ہر کمپنی ہیں ایک سو کے قریب جوان ہوتے ہیں اس طرح نئی تعیناتی کے بعد پنجاب میں رینجرز کی کل تعداد تقریباً 3000 ہو جائے گی۔'

رینجرز کو صوبے میں پولیس کے اختیارات دینے کے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ صوبہ سندھ میں تو رینجرز کو امن و امان کے قیام کے لیے بھی اختیار دیے گئے ہیں تاہم پنجاب میں وہ ایسا نہیں کر رہے۔

'رینجرز کو پولیس پاورز دینے کا فیصلہ نہیں ہوا اور نہ ہی انھیں پولیس پاورز کی ضرورت ہے۔'

ان کا کہنا تھا کہ سی آر پی سی کے تحت پولیس کو تو امن وامان کے قیام کے لیے حاصل اختیارات بہت وسیع ہیں۔

'ہم رینجرز کو امن و امان کے قیام والے اختیارات نہیں دے رہے۔ ہم ان کو صرف دہشت گردوں کے خلاف آپریشنز کے اختیارات دے رہے ہیں جس کے لیے ضروری تھا کہ رینجرز کو تلاشی اورگرفتار کرنے کا اختیار دیا جائے۔'

تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ گرفتار کرنے کے بعد ملزم کو پولیس کے حوالے ہی کیا جائے گا اور مقدمہ بھی مذکورہ تھانے میں درج ہو گا۔

رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ دہشتگردی کے خلاف آپریشن میں بھی رینجرز مشترکہ آپریشن میں ہی حصہ لیں گے۔

'ایک جوائنٹ آپریشن کمیٹی بنے گی جس میں تمام ایجنسیوں کے لوگ ہوں گے، بشمول رینجرز اور سی ٹی ڈی یعنی کاؤنٹر ٹیرررزم ڈیپارٹمنٹ۔ کمیٹی جو فیصلہ کرے اور دہشت گردی یا دہشت گردوں کے خلاف آپریسن کے لیے جہاں جانا چاہے جا سکے گی۔'

خیال رہے کہ پاکستان میں شدت پسندوں کے خلاف ملک بھر میں جاری کارروائیوں میں اب تک 1100 سے زائد مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ملک بھر اب تک 100 سے زیادہ دہشت گردوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ بھی کیا ہے۔

اسی بارے میں