’ہمارے لیے نیب وفات پا گیا‘

پاناما لیکس دستاویزات سے متعلق درخواستوں کی سماعت بدھ کے روز جب دوبارہ شرو ع ہوئی تو ایسا محسوس ہوتا تھا کہ ان درخواستوں کی سماعت کرنے والا سپریم کورٹ کا پانچ رکنی بینچ قومی احتساب بیورو یعنی نیب کے چیئرمین کے بیان سے بظاہر خوش نہیں ہے۔

٭پاناما لیکس میں مدعی سست؟

٭پاناما لیکس کے بعد کیا ہوا؟

منگل کے روز اپنے بیان میں چوہدری قمر زمان نے کہا تھا کہ وہ حدیبیہ پیپرز ملز کے مقدمے میں ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج نہ کرنے کے فیصلے پر قائم ہیں۔

سماعت کے دوران اٹارنی جنرل اشتر اوصاف نے اپنے دلائل کا آغاز کیا اور کہا کہ حدییبہ پیپرز ملز اور پاناما کا معاملہ مختلف ہے لہذا ان کو ایک دوسرے سے نہیں جوڑا جاسکتا۔ اس پر سپریم کورٹ کے اس پانچ رکنی بینچ میں شامل جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ اگر حدیبیہ پیپرز ملز کا مقدمہ غلط تھا تو پھر وہ اس پر انحصار کیوں کرر ہے ہیں اور اگر یہ حقیقت تھا تو پھر اسے دفن کیوں کیا گیا؟

اُنھوں نے کہا کہ اگر ادارے اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے ادا کرتے تو یہ معاملہ سپریم کورٹ تک نہ پہنچتا۔

بینچ کے سربراہ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ عدالت میں ایسا کچھ نہ کہیں جس طرح کل نیب کے سربراہ نے کہا تھا۔

جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ نیب نے کوئی عملی اقدامات نہیں کیے۔ اُنھوں نے کہا کہ کل جو کچھ ہوا اس کے بعد ’ہمارے لیے نیب وفات پاگیا۔‘

ان درخواستوں کی سماعت سے متعلق عدالتی دائرہ اختیارات سے متعلق اٹارنی جنرل جب اپنے دلائل دے رہے تھے تو جسٹس عظمت سعید نے اشتر اوصاف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس میں پارٹی نہ بنیں بلکہ ملک کے چیف لا افسر کی حثیت سے عدالت کی معاونت کریں۔

بینچ کے سربراہ نے ریمارکس دیے کہ عدالت اُن کی مجبوریوں کو سمجھتی ہے اس لیے وہ اپنے دلائل جاری رکھیں۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ سپریم کورٹ کی طرف سے اُنھیں نوٹس جاری کیا گیا تھا اس لیے وہ دلائل دے رہے ہیں اور اگر عدالت دلائل نہیں سننا چاہتی تو وہ دلائل نہیں دیں گے۔

وزیر اعظم کی نااہلی کا ذکر کرتے ہوئے اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدالت نے ایک وزیر اعظم (یوسف رضا گیلانی) کو گھر بھیجا ہوا ہے۔ اس پر پاکستان تحریک انصاف کے وکیل نعیم بخاری نے کہا کہ عدالت نے یوسف رضا گیلانی کو گھر ضرور بھیجا لیکن 65 ملین ڈالر واپس نہیں آئے۔

جسٹس عظمت سعید نے پی ٹی آئی کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ رقم تو آپ نے لیکر آنی تھی‘ جس پر کمرہ عدالت میں قہقہ بلند ہوا۔

سماعت کے دوران جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ اتنے دنوں سے ان درخواستوں کی سماعت کر رہے ہیں لیکن جب ثبوت کی بات کرتے ہیں تو وکلا کہانیاں سنانا شروع کر دیتے ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ وکلا عدالت کو کنفیوژڈ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور عدالت اتنے بڑے الزامات کو لیکر کہاں جائے۔

سماعت کے دوران اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدالت محض ایک عدد بیان حلفی اور چند فوٹو کاپیوں پر اتنے بڑے الزامات پر فیصلہ نہیں دے سکتی۔ اس پر جسٹس عظمت سعید کا کہنا تھا کہ محض مفروضوں اور الزامات پر فیصلہ نہیں دیا جاسکتا۔

جج کے اس ریمارکس پر کمرہ عدالت میں موجود پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان شاید مطمعین نہ ہوئے اور انھوں نے نفی میں سر ہلا دیا جبکہ ان کے دائیں طرف بیٹھے ہوئے پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل جہانگیر ترین نے دونوں ہاتھ جوڑ کر منہ میں کچھ پڑھ کرآسمان کی طرف دیکھا۔

پی ٹی آئی کے وکیل نعیم بخاری نے جواب الجواب میں اپنے دلائل شروع کیے تو اُنھوں نے کہا کہ لندن کے فلیٹس کی ملکیت سے متعلق وزیراعظم میاں نواز شریف کے بچوں کے دعوے کو تو ایک سائیڈ پر رکھیں اور ان فلیٹوں کے مالک وزیر اعظم ہیں۔ اس پر بینچ کے سربراہ نے کہا کہ پہلے تو وہ یہ کہہ رہے تھے کہ مریم نواز شریف ان فلیٹوں کی بینیفیشل اونر ہیں اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ آپ اپنے دلائل کی خود ہی نفی کر رہے ہیں۔

جسٹس عظمت سعید نے نعیم بخاری کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ یہ سمجھتے ہیں کہ عدالت صرف ان کے دلائل کو درست تسلیم کرلے اور دوسری پارٹی کے دلائل کو یکسر مسترد کردے تو ایسا نہیں ہوگا اور عدالت انصاف پر مبنی فیصلہ دے گی۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ نے پی ٹی آئی کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ جمعرات کو گیارہ بجے تک اپنے دلائل مکمل کرلیں کیونکہ اس کے بعد اُنھوں نے ایک اور درخواست گزار شیخ رشید کو بھی سننا ہے۔بینچ کے سربراہ کے اس ریمارکس پر کمرہ عدالت میں ایک اور قہقہ بلند ہوا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں