دہشت گردی کے خلاف ’رد الفساد‘ کے نام سے نیا آپریشن

آرمی چیف تصویر کے کاپی رائٹ ISPR

پاکستان میں ایک ہفتے کے دوران دہشت گردی کی پے در پے وارداتوں میں سو سے زیادہ شہریوں کی ہلاکت کے بعد منگل کو فوج نے ایک اعلی سطح کے اجلاس میں دہشت گردوں اور انتہا پسندوں کے خلاف ’رد الفساد‘ کے نام سے ایک نیا سکیورٹی آپریشن شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔

یہ اعلان ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب ملک میں ضربِ عضب کے نام سے پہلے ہی ایک آپریشن جاری ہے۔

ملک کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں جون 2014 میں شروع کیے جانے والے فوجی آپریشن ضربِ عضب کا دائرہ دسمبر 2014 میں پشاور کے آرمی پبلک سکول پر طالبان کے حملے کے بعد ملک کے دیگر علاقوں تک پھیلانے کا اعلان کیا گیا تھا۔

٭دہشتگردی میں اضافے کے پیچھے کون؟

پنجاب:رینجرز کے اختیارات پولیس کی معاونت تک محدود

فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ آپریشن ’رد الفساد‘ کا مقصد ملک میں بچے کچھے دہشت گردوں کا بلاتفریق خاتمہ کرنا ہے۔

فوج کا کہنا ہے کہ آپریشن رد الفساد کا مقصد نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کرنا ہے اور یہ کہ اس آپریشن سے سرحد کی سکیورٹی بھی یقینی بنے گی۔

فوجی حکام کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے شروع ہونے والے اس آپریشن میں پاکستانی فضائیہ، بحریہ، سول فورسز اور دیگر سکیورٹی ادارے بھی حصہ لیں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption میران شاہ بازار میں فوجی کارروائی

اسی بیان میں پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں شدت پسندوں کے خلاف کارروائیوں میں نیم فوجی دستے یعنی رینجرز کی شمولیت کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔

پاکستان کی وفاقی کابینہ نے فوجی آپریشن کے اعلان سے کچھ ہی دیر قبل پنجاب میں رینجرز کو انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیوں میں پولیس کی معاونت کے اختیارات دینے کی منظوری دی تھی۔

آئی ایس پی آر کے بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان کوششوں کا مقصد ملک کو اسلحے سے پاک کرنا اور آتشیں مادے پر کنٹرول حاصل کرنا بھی ہے۔

پاکستانی فوجی ماضی میں بھی ملک کے مختلف علاقوں میں شدت پسندوں کے خلاف آپریشنز کرتی رہی ہے۔

سنہ 2007 میں صوبہ خیبر پختونخواہ کے ضلع سوات میں آپریشن راہ حق کا آغاز ہوا تھا جبکہ وادی کے بڑے علاقے پر شدت پسندوں کے قبضے کے بعد سنہ 2009 میں اسی علاقے میں آپریشن راہ راست کیا گیا تھا۔

اس آپریشن کی وجہ سے لاکھوں کی تعداد میں مقامی افراد نے ملک کے دیگر علاقوں کی جانب نقل مکانی کی تھی۔

قبائلی علاقہ جات کی بات کی جائے تو سنہ 2008 میں باجوڑ ایجنسی میں آپریشن شیر دل کا آغاز کیا گیا تھا جبکہ 2009 کے آپریشن راہِ راست میں جنوبی وزیرستان کو بھی شامل کیا گیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

اس کے علاوہ خیبر ایجنسی میں بھی گذشتہ کافی عرصے سے شدت پسندوں کے خلاف فورسز کی کارروائیاں جاری ہیں۔ ان آپریشنز کو خیبر ون، ٹو اور تھری کا نام دیا گیا ہے۔

2014 میں آپریشن ضرب عضب کے آغاز کے چند ماہ بعد پشاور کے آرمی پبلک سکول پر ہونے والے حملے کے نتیجے میں پاکستانی حکام نے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے نیشنل ایکشن پلان مرتب کیا۔

اس 20 نکاتی نیشنل ایکشن پلان میں دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے لائحہ عمل تیار کیا گیا تاہم دو برس گزر جانے کے باوجود سیاسی جماعتوں اور فوجی قیادت کی جانب سے اس منصوبے پر عملدرآمد کے حوالے سے کیے جانے والے اقدامات پر عدم اطمینان کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔

پاکستانی فورسز کی جانب میں ملک میں گذشتہ برس سے کومبنگ آپریشنز بھی کیے جا رہے ہیں جن میں ملک کے مختلف شہروں میں کارروائیاں کی گئیں اور بڑے پیمانے پر دہشت گردوں کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا گیا۔

اسی بارے میں