لاہور کے علاقے ڈیفنس کی کمرشل مارکیٹ میں دھماکہ، نو ہلاک

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
’لاہور ڈیفنس میں دھماکہ کے بعد کی ویڈیو‘

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں جمعرات کی صبح ہونے والے دھماکے میں ہلاکتوں کی تعداد نو ہوگئی ہے جبکہ 32 افراد زخمی ہیں۔

یہ دھماکہ شہر کے متمول علاقے ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی کی کمرشل مارکیٹ میں واقع ایک ریستوران کی عمارت میں سوا گیارہ بجے کے قریب ہوا۔

* لاہور میں دھماکہ، جائے وقوع کی تصاویر

* لاہور ایک بار پھر نشانہ

بی بی سی کے نامہ نگار عمر دراز کے مطابق پنجاب حکومت کے ترجمان ملک احمد خان نے تصدیق کی ہے نو افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ چار افراد کی حالت تشویش ناک ہے۔ انھوں نے بتایا کہ 32 افراد زخمی ہیں۔

پنجاب کے وزیرِ قانون رانا ثنا اللہ نے پاکستانی ذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ دھماکہ جس عمارت میں ہوا وہاں تعمیراتی کام جاری تھا۔

محکمۂ انسدادِ دہشت گردی کے ایس ایس پی ڈاکٹر اقبال نے جائے وقوع پر موجود صحافیوں کو بتایا ہے کہ جس جگہ دھماکہ ہوا وہاں سے بارودی مواد کے شواہد ملے ہیں تاہم تاحال یہ واضح نہیں کہ یہ مواد وہاں نصب تھا یا یہ کسی اور مقام پر نصب کرنے کی تیاری کے دوران پھٹا۔

اس سے قبل حکومتِ پنجاب کی جانب سے ٹوئٹر پر جاری کیے گئے پیغام میں دھماکے کی وجہ جنریٹر کا پھٹنا بتائی گئی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption دھماکے کا نشانہ بننے والی عمارت کے آس پاس واقعے عمارتوں اور وہاں کھڑی گاڑیوں کو بھی اس واقعے میں نقصان پہنچا

ریسکیو 1122 کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر رضوان کا کہنا ہے کہ امدادی آپریشن مکمل کر لیا گیا ہے اور دھماکے کے نتیجے میں عمارت کی ایک منزل کی چھت نیچے آ گری تھی۔

دھماکے کے بعد بم ڈسپوزل سکواڈ اور شعبۂ انسدادِ دہشت گردی کے اہلکار اور افسران بھی جائے وقوعہ پر پہنچ گئے۔

دھماکے کا نشانہ بننے والی عمارت کے آس پاس واقعے عمارتوں اور وہاں کھڑی گاڑیوں کو بھی اس واقعے میں نقصان پہنچا اور ان کے شیشے ٹوٹ گئے۔

Image caption دھماکے کے بعد بم ڈسپوزل سکواڈ اور شعبۂ انسدادِ دہشت گردی کے اہلکار اور افسران بھی جائے وقوعہ پر پہنچ گئے

یہ لاہور میں گذشتہ دس دن کے دوران ہونے والا دوسرا دھماکہ ہے۔

اس سے قبل مال روڈ پر چیئرنگ کراس کے مقام پر ایک خودکش حملے میں اعلیٰ پولیس افسران سمیت افراد ہلاک ہوئے تھے۔

خیال رہے کہ پاکستان میں حالیہ چند ہفتوں کے دوران دہشت گردی کے واقعات میں اچانک اضافے دیکھا گیا ہے جس میں اب تک 100 سے زیادہ افراد مارے جا چکے ہیں۔

ان واقعات کے بعد پاکستانی فوج نے بدھ کو ہی ملک میں شدت پسندوں کے خلاف ’رد الفساد‘ کے نام سے نیا آپریشن شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔

اسی بارے میں