’سرحد کی بندش سے پہلے وقت دیا جانا چاہیے تھا‘

طور خم تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاکستان اور افغانستان کے درمیان طورخم کے مقام پر سرحد کی بندش سے سیکڑوں خاندان متاثر ہوئے ہیں

پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحد کو بند ہوئے ایک ہفتہ ہو گیا ہے اور اس اچانک بندش سے بہت سے خاندان ایسے ہیں جو سرحد کے آرپار بٹ کر رہ گئے ہیں۔

پشاور کا بس اڈہ سات دن سے بڑی تعداد میں ایسے افغان باشندوں کی جائے رہائش بنا ہوا ہے جو سرحد کھلنے اور واپس اپنے وطن جانے کے منتظر ہیں۔

ان میں سے بیشتر افراد کا کہنا ہے کہ ان کی جیبیں خالی ہو چکی ہیں اس لیے مجبوراً وہ اس اڈے پر رات گزارتے ہیں اور دن میں سڑک کنارے اس انتظار میں بیٹھے رہتے ہیں کہ شاید سرحد کھل جائے۔

مشکلات کا شکار افغانوں میں سے ایک فضل اللہ نامی تاجر بھی ہیں جو ہمیشہ کے لیے پاکستان سے واپس افغانستان جانے کا ارادہ رکھتے تھے لیکن اب سرحد کھلنے کے منتظر ہیں۔

فضل اللہ کا سامان چھ روز سے ایک افغان بس پر لدا ہوا ہے اور وہ بس اڈے میں ہی قیام پذیر ہیں جہاں ان کے ساتھ ان کی گائے اور بچھڑا بھی موجود ہے۔ فضل اللہ کے دیگر اہلخِانہ پشاور میں رشتہ داروں کے پاس مقیم ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption افغان شہری اس اتنظار میں بیٹھے نظر آتے ہیں کہ شاید کسی بھی وقت سرحد کے کھلنے کا اعلان ہو جائے اور وہ اپنے وطن روانہ ہوں

فضل اللہ اب روزانہ کی بنیاد پر بس کے مالک کو تین ہزار روپے دینے پر مجبور ہیں کہ وہ ان کا سامان لادے رکھے اور اگر سرحد کھلنے کا اعلان ہو جائے تو وہ روانہ ہو سکیں۔

انھوں نے کہا کہ سرحد کی بندش کے اس اچانک فیصلے سے ’وہ لوگ جو افغانستان گئے ہوئے ہیں وہیں پھنس گئے جبکہ بیشتر لوگ یہاں پاکستان میں پھنس گئے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ سرحد بند کرنے سے قبل دونوں ممالک میں موجود افراد کو واپس جانے کے لیے وقت دیا جانا چاہیے تھا۔

’اعلان کر دیا جاتا کہ سرحد کل سے مکمل بند کر دی جائے گی تو جو لوگ آنا جانا چاہتے تھے اپنی منزلوں تک پہنچ جاتے جس کے بعد سرحد کی بندش پر کوئی اعتراض نہ ہوتا۔‘

پشاور میں افغانستان جانے والی گاڑیوں کا اڈہ ویران پڑا ہے اور یہاں گنی چنی بسیں، کوچز اور کاریں اڈے کے کھلے میدان دور دور کھڑی نظر آتی ہیں۔

خیبر ایجنسی کی سرحد کے قریب جمرود روڈ پر واقع اس بس اڈے کے پاس بھی بڑی تعداد میں افغان شہری اس انتظار میں بیٹھے نظر آتے ہیں کہ شاید کسی بھی وقت سرحد کے کھلنے کا اعلان ہو جائے اور وہ اپنے وطن روانہ ہوں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سرحد کھلنے کے منتظر بیشتر افراد وہ افغان مریض ہیں جو پاکستان علاج کے لیے آئے تھے

ان میں سے بیشتر افراد وہ افغان مریض ہیں جو علاج کے لیے پاکستان آئے تھے اور اب یہیں پھنس کر رہ گئے ہیں۔

ان افغان شہریوں کا کہنا ہے کہ وہ جتنے پیسے علاج کے لیے ساتھ لائے تھے وہ ختم ہو چکے ہیں اور اب ان کے پاس کچھ نہیں رہا اس لیے مجبوراً ان کے دن رات سڑک کنارے گزر رہے ہیں۔

اس بس اڈے کے ایک ڈرائیور نے بتایا کہ وطن واپس جانے کے منتظر یہ لوگ دن سڑک کنارے جبکہ رات اڈے کے ایک کونے میں بنی مسجد میں گزارتے ہیں۔

اڈے کی دیوار کے ساتھ لگی یہ افغانی بسیں اور کوچز ایسا منظر پیش کرتی ہیں جیسے خواتین روٹھی ہوئی دیوار سے لگی بیٹھی ہوں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں