’شکر ہے اس جھنجھٹ سے جان چھوٹی‘

سپریم کورٹ، پولیس تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption درخواستوں کی سماعت کی تکمیل پر شاید جو طبقہ سب سے زیادہ خوش تھا وہ سپریم کورٹ کے باہر صبح چھ بجے سے دوپہر تین بجے تک ڈیوٹی کرنے والے پولیس اہلکار تھے

سپریم کورٹ میں پاناما لیکس کی دستاویزات سے متعلق جمعرات کو 25ویں اور آخری سماعت تھی۔

سوشل میڈیا پر ان درخواستوں سے متعلق جمعرات کو فیصلہ آنے کی خبروں کی وجہ سے کمرۂ عدالت اور سپریم کورٹ کی عمارت میں لوگوں کا غیرمعمولی رش تھا۔

٭پاناما کیس میں کب کیا ہوا؟

٭’پاناما کا فیصلہ کرپشن کے تابوت میں آخری کیل ہوگا‘

ان درخواستوں کی سماعت ساڑھے نو بجے شروع ہوتی ہے لیکن کمرۂ عدالت میں صبح آٹھ بجے سے ہی تل دھرنے کی جگہ نہیں تھی۔

پاکستان تحریک انصاف کے وکیل نعیم بخاری نے جب جواب الجواب کے دلائل دینا شروع کیے تو بینچ میں موجود جسٹس عظمت سعید نے انھیں مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’آج طبیعت ٹھیک نہیں ہے اس لیے تنگ نہیں کرنا‘۔ اس پر نعیم بخاری بولے ’مائی لارڈ میں تو پہلے ہی آپ سے خوف زدہ ہوں‘ جس پر کمرہ عدالت میں قہقہہ گونجا۔

پی ٹی آئی کے وکیل کی طرف سے عدالت میں جمع کروائی گئی دستاویزات کے مستند ہونے کے معاملے پر پانچ رکنی بینچ کی طرف سے سوالات کی بوچھاڑ ہوئی تو نعیم بخاری نے یہی کہنے میں عافیت جانی کہ ’مائی لارڈز میں عدالت کا وقت بچانے کے لیے اپنے دلائل تحریری طور پر پیش کرتا ہوں۔ امید ہے کہ جج صاحبان اُن سے ناراض نہیں ہوں گے۔‘

عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید نے اپنے دلائل کے آغاز میں ہی کہا کہ بینچ کے ایک معزز رکن عظمت سعید نے وزیر اعظم اور اُن کے بچوں کے وکیلوں سے 371 سوالات کیے جن کی وجہ سے اُن کا دل زخمی ہوگیا جس پر بینچ کے سربراہ نے استفسار کیا کہ دل جواب ملنے پر زخمی ہوا ہے یا جواب نہ ملنے پر۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

شیخ رشید نے کہا کہ میاں نواز شریف کے وکلا نے اپنی دستاویزات میں اتنے زیادہ ’بلنڈرز‘ کیے ہیں کہ اتنے وہ (شیخ رشید) بھی نہ کرتے جس پر آصف سعید کھوسہ نے درخواست گزار سے استفسار کیا کہ کیا آپ کو اس کا پہلے سے تجربہ ہے؟

بینچ کے سربراہ کے اس استفسار پر کمرۂ عدالت ایک بار پھر ایک زرودار قہقہوں سے گونج اُٹھا۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ آج کل انصاف کے معنی بدل گئے ہیں اور اب انصاف اس کو کہتے ہیں جو اپنے حق میں ہو اور اگر فیصلہ خواہشات کے خلاف آئے تو کہا جاتا ہے کہ جج رشوت کھا گیا اور یہ جج اس قابل نہیں تھے کہ اُنھیں سپریم کورٹ میں تعینات کیا جاتا۔

اُنھوں نے کہا کہ ’ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا کہ لوگ کیا کہیں گے، عدالت نے تو قانون کے مطابق فیصلہ دینا ہے۔‘

درخواست گزار نے پانچ رکنی بینچ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اُنھیں اس مقدمے کا سارا علم ہے اور ہم تو ویسے ہی یہاں پر وقت ضائع کر رہے ہیں جس پر بینچ کے سربراہ نے معنی خیز الفاظ میں شکریہ کہا تو اس پر بھی ایک قہقہہ لگا۔

اپنے جواب الجواب میں شیخ رشید نے پاکستان اور دنیا بھر کی عدالتوں کے مختلف فیصلوں کا حوالہ دیا تو جسٹس آصف سعید کھوسہ نے استفسار کیا کہ شیخ صاحب جن مقدمات کا آپ حوالہ دے رہے ہیں اُن کو کبھی آپ نے پڑھا بھی ہے جس پر شیخ رشید نے اپنی خفگی مٹاتے ہوئے کہا کہ جج صاحبان تو سب کچھ جانتے ہیں۔

سماعت کے دوران شیخ رشید مختلف مقدمات کا حوالہ دیتے ہوئے غلط تاریخ بتاتے رہے تاہم کمرہ عدالت میں موجود عمران خان اُن کی تصحیح کرواتے رہے۔

ایک موقع پر درخواست گزار اپنے دلائل ختم کرنے لگے تو بینچ کے سربراہ نے شیخ رشید کا شکریہ ادا کیا مگر جب انھوں نے دوبارہ دلائل دینا شروع کر دیے جس پر جسٹس آصف سعید کھوسہ کا کہنا تھا ’تو پھر میں شکریے کے الفاظ واپس لے لوں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption عدالت نے عمران خان کو روسٹرم پر آنے کی اجازت اس شرط پر دی کہ وہ کوئی سیاسی بات نہیں کریں گے

سماعت ختم ہونے والی تھی کہ پی ٹی آئی کے وکیل نعیم بخاری روسٹرم پر آئے اور کہا کہ اُن کے موکل کچھ کہنا چاہتے ہیں جس پر بینچ میں موجود جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ کیا اُن کے موکل اُن کی کارکردگی سے خوش نہیں ہیں؟

عدالت نے عمران خان کو روسٹرم پر آنے کی اجازت اس شرط پر دی کہ وہ کوئی سیاسی بات نہیں کریں گے۔ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اپنی تقریر کے دوران جب عدالت کا مزید وقت لینے لگے تو عدالت نے شکریے کے ساتھ اُنھیں بیٹھنے کا حکم دیا جو شاید پی ٹی آئی کے سربراہ کو ناگوار گزارا۔

اس پانچ رکنی بینچ میں شامل جج صاحبان جب درخواست گزاروں سے ثبوت مانگتے تو وہ ثبوت دینے کی بجائے قوم کے مستقبل کو ان درخواستوں کے فیصلے کے ساتھ جوڑنے کی بات کرتے رہے۔

ان درخواستوں کی سماعت کی تکمیل پر شاید جو طبقہ سب سے زیادہ خوش تھا وہ سپریم کورٹ کے باہر صبح چھ بجے سے دوپہر تین بجے تک ڈیوٹی کرنے والے پولیس اہلکار تھے۔

جب اُنھیں بتایا گیا کہ پاناما لیکس سے متعلق درخواستوں کی سماعت ختم ہوگئی ہے تو اُنھوں نے کہا کہ شکر ہے کہ اس ’جھنجھٹ سے جان چھوٹی۔‘

اسی بارے میں