ڈیفنس کا دھماکہ دہشت گردی نہیں حادثہ تھا: رانا ثنا اللہ

لاہور دھماکہ تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے وزیرِ قانون رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ لاہور کے علاقے ڈیفنس کے کمرشل پلازے میں ہونے والا دھماکہ بارودی مواد سے نہیں بلکہ ممکنہ طور پر سلنڈر پھٹنے سے ہوا تھا۔

جمعے کو لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے بتایا کہ یہ دہشت گردی کی واردات نہیں بلکہ ایک حادثہ تھا۔

ڈی ایچ اے لاہور کے زیڈ بلاک کی کمرشل مارکیٹ میں جمعرات کی صبح ایک زوردار دھماکہ ہوا تھا جس میں سات افراد ہلاک اور 35 زخمی ہوئے تھے۔

٭ لاہور میں دھماکہ، جائے وقوع کی تصاویر

٭لاہور کے علاقے ڈیفنس کے بازار میں دھماکہ، نو ہلاک

ابتدائی طور پر اس دھماکے کی وجہ سرکاری طور پر جنریٹر پھٹنا بتائی گئی تھی تاہم جمعرات کی شام محکمۂ انسدادِ دہشت گری کے ایس ایس پی ڈاکٹر اقبال نے جائے وقوع پر موجود صحافیوں کو بتایا تھا کہ جس جگہ دھماکہ ہوا وہاں سے بارودی مواد کے شواہد ملے ہیں تاہم تاحال یہ واضح نہیں کہ یہ مواد وہاں نصب تھا یا یہ کسی اور مقام پر نصب کرنے کی تیاری کے دوران پھٹا۔

رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ عمارت کا ملبہ ہٹانے میں وقت لگا جس کی وجہ سے دھماکے کی نوعیت جاننے میں مشکل پیش آئی۔ ’آج صبح فورینزک لیبارٹری سے رپورٹ موصول ہوئی ہے اور جو نمونے لیے گئے تھے ان میں سے کسی میں بھی بارودی مواد نہیں ملا۔‘

Image caption پنجاب کے وزیرِ قانون نے میڈیا سے اپیل کی کہ کسی بھی دھماکے کی خبر دیتے وقت ذمہ داری کا مظاہرہ کرے

وزیرِ قانون کے مطابق ’جتنے لوگ بھی زخمی ہوئے یا ہلاک ہوئے ان کے جسموں پر چھروں کے زخمی ہونے چاہیے تھے لیکن ان کے جسموں پر وہاں پھٹنے والے مواد کی وجہ سے زخم آئے۔‘

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ابتدائی طور پر ریسکیو 1122، پولیس، فورینزک ڈپارٹمنٹ اور دیگر اداروں کی جانب سے دھماکے کے حوالے سے دی جانے والی رائے مختلف تھی۔

تاہم ’اب یہ تصدیق کی جا رہی ہے کہ یہ ایک حادثہ تھا، کوئی دہشت گردی یا بارودی مواد سے ہونے والا دھماکہ نہیں تھا۔‘

وزیرِ قانون کے مطابق اب تک کی تحقیقات سے جو معلومات حاصل ہوئی ہیں ان کے مطابق وہاں گیس کی لیکج ہوئی اور امکان ہے کہ وہاں گیس سلنڈر موجود تھے۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
’لاہور ڈیفنس میں دھماکہ کے بعد کی ویڈیو‘

’جس نے بھی سلنڈر ناقص حالت میں فروخت کیے ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔‘

انھوں نے بعض چینلز کی جانب سے اس دھماکے کی نوعیت کی تصدیق کے بغیر اسے دہشت گردی کی کارروائی قرار دینے پر تنقید کی اور میڈیا کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی۔

’میں سمجھتا ہوں کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ ہماری قومی جنگ ہے۔ یہ میڈیا، سیاسی جماعتوں سب کی جنگ ہے، ہم سب نے اسے مل کر لڑنا ہے اور ہر قیمت پر اس جنگ کو جیتنا ہے اور دہشت گردوں کو اپنے منطقی انجام تک پہنچانا ہے۔‘

اسی بارے میں