ٹکرز کے پیچھے اندھا دھند بھاگتا سوشل میڈیا

لاہور دھماکہ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption لاہور کے علاقے ڈیفنس میں ہونے والے دھماکے میں کم سے کم پانچ افراد ہلاک ہوئے تھے۔

سوشلستان میں پاناما کا خاتمہ ہوا اور دونوں قریقین کی جانب سے ایک دوسرے کی مخالفت میں ٹرینڈز چلا کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی کہ اس مقدمے میں جیت اُن کے موقف کی ہوئی۔ نون لیگی ٹرینڈ کہتا ہے کہ ’ڈٹ کے کھڑا نواز شریف‘ اور پی ٹی آئی کا ٹرینڈ کہتا ہے کہ ’نون کی سیاسی موت۔‘ ٹوئٹر پر ان کے کچھ نیچے رد الفساد کا ٹرینڈ بھی شامل ہے۔ اب اس کا مذکورہ دو ٹرنڈز کی جانب کوئی اشارہ ہے یا نہیں، اس بحث میں پڑے بغیر بات کرتے ہیں گذشتہ روز لاہور میں ہونے والے دھماکوں کے بعد کی صورتحال پر۔

ٹکرز کے پیچھے اندھا دھند بھاگتا سوشل میڈیا

ٹی چینلز پر بریکنگ نیوز چلی کہ شہر میں دھماکے کی آواز سنی گئی ہے اور اس کے بعد سوشل میڈیا کے صارفین نے محقین، مبصرین، تجزیہ کاروں حتیٰ کہ تفتیش کاروں اور فورنزک سائنسدانوں کا روپ دھار لیا اور پھر کیا تھا۔

اس قسم کی بے یقینی اور انتشار شاید کم ہی دیکھا گیا ہوگا جہاں ایک وزیر کچھ بیان دے رہا اور دوسرا وزیر کچھ اور حکومت کا ترجمان ٹوئٹر اکاؤنٹ کہتا ہے جنریٹر پھٹا، اور شاید اسی کے پیچھے پیچھے وزیرِ قانون بھی کہتے ہیں کہ جنریٹر پھٹا۔

جائے وقوع پر موجود پولیس کی بات کوئی سننے کو تیار نہیں تھا جو کہہ رہے ہیں کہ ہمیں تفتیش کرنے دیں پھر بتائیں گے۔

اس ساری بحث میں وزیر صحت کود پڑتے ہیں اور تمام ذرائع کے درمیان میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد اور واقعے کی نوعیت پر اتفاق نہیں۔

ایک ٹوئٹر صارف نے پوچھا کہ 'کیا فائدہ ترجمانوں کی انتی بڑی فوج رکھنے کا جب ہر وزیر مشیر ایک سنگین نوعیت کے معاملے پر جو جی میں آئے بولنے کو ٹی وی پر آجاتا ہے۔‘

ایک اور نے سوال کیا کہ 'حکومتِ پنجاب کا ترجمان کون ہے؟ زعیم قادری، رانا ثنااللہ یا جو وزیر مشیر فون اٹھا لے وہ؟‘

ٹی وی چینلز نے ڈیفنس کے بعد گلبرگ میں بھی دھماکے کی خبر چلائی اور پھر ڈیوس روڈ پر دھماکہ کی اطلاع نشر کی۔ بعد میں تصدیق کرنے کی توفیق ہوئی کہ ایسا نہیں ہوا۔

ایک ڈرے سہمے ہوئے شہر کے لیے یہ کسی دھماکے سے کم نہیں کہ ٹی وی چینلز پر چیختی بریکنگ نیوز کہے کہ فلاں جگہ دھماکہ ہوا اور فلاں جگہ کیونکہ خبر تو چپکے سے ہٹا دی جاتی ہے، انتشار دیر تک رہتا ہے۔

یہاں بھی لوگ ان علاقوں میں اپنے پیاروں کی تلاش میں نکلے اور سکولوں اور کالجوں تک پہنچے۔

اور چینلز کی دیکھا دیکھی سوشل میڈیا پر خبر آگے بڑھائی گئی جس کے نتیجے میں کنفیوژن پیدا ہوئی جس کا اظہار وزیرِ قانون پنجاب نے اپنی پریس کانفرنس میں کیا کہ 'کنفیوژن زیادہ لوگوں کے بولنے کے نتیجے میں ہوئی۔'

'میڈیا گردی'

گذشتہ کئی دنوں سے پاکستانی سوشل میڈیا پر ایک نجی چینل کے پروگرام کی فلمبندی کے دوران کے مناظر گردش کر رہے ہیں جن سے یہ تاثر ملتا ہے کہ پروگرام کا عملہ فلمبندی کے لیے مختلف شواہد پلانٹ کر رہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Sarah Burke

ٹوئٹر پر 'میڈیا گردی' کے عنوان سے چلنے والے ٹرینڈ میں زبیر خان نے پیمرا کو مخاطب کر کے لکھا 'اس مافیا کو روکا جانا چاہیے۔ کیسے ایک نیوز چینل کا عملہ مسلح افراد کے ساتھ کسی کے گھر پر چھاپا مار سکتا ہے یا داخل ہو سکتا ہے۔'

سید آفتاب حیدر شاہ نے لکھا 'میڈیا کے لیے کچھ قوانین ہونے چاہیے کہ وہ کیا کر سکتے ہیں۔'

ٹوئٹر پر شیئر کی جانے والی ویڈیوز میں چینل کے متعلقہ پروگرام کی میزبان کو خواتین پر تشدد کرتے ہوئے بھی دیکھا جا سکتا ہے اور یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ 'دل چاہ رہا ہے کہ میں آپ کو کس کے تھپڑ دوں' اور پیچھے ایک باوردی خاتون اہلکار یہ سب دیکھ رہی ہیں۔

بلال علی نے لکھا کہ 'کیا پیمرا پروگرام کی میزبان کے خلاف کارروائی کرے گا جو لوگوں میں دہشت پھیلا رہی ہیں؟'

سوال یہ ہے کہ آخر کیسے اس قسم کے پروگراموں کو نشر ہونے کی اجازت دی جا رہی ہے جس میں ایسی اشخاص جن کا قانون اور انصاف سے دور کا واسطہ نہیں، خود ہی منصف، وکیل اور جلاد کا کردار کر رہے ہیں۔

اس ہفتے کا تعارف

اس ہفتے ذکر کریں گے ایک منصوبے 'پرے فارمنس' کا جس کا مطلب ہے عبادت کے ذریعے مسلمانوں کے حوالے سے رائے عامہ اجاگر کرنے کی کوشش۔

اس منصوبے میں پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو کے پوتے ذوالفقارعلی بھٹو جونیئر اور ایران سے تعلق رکھنے والی فنکار منوش زمُردینیا نے حصہ لیا۔ دونوں نے امریکہ کے چھ مختلف نمایاں مقامات پر مصلہ بچھا کر نماز پڑھی۔ اس بارے میں مزید آپ اس لنک پر پڑھ سکتے ہیں۔

اس ہفتے کی تصویر

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption وزیراعظم نواز شریف ترکی کے تین روزہ دورہ پر اس مرتبہ بھی پی آئی اے کا 777 جہاز لے کر گئے جس سے پی آئی اے کا شیڈول آپریشن متاثر ہوا۔