پرواز پر ’حد سے زیادہ‘ مسافر لے جانے کی تحقیقات

Image caption پی آئی اے کا بوئنگ 777 سیون طیارہ جس میں 400 مسافروں کے بیٹپنے کی گنجائش ہوتی ہے

پاکستان کی قومی فضائی کمپنی ایک بین الاقوامی پرواز پر اضافی مسافر سوار کرنے اور انھیں ’کھڑا کر کے لے جانے‘ کے معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے۔

یہ واقعہ 20 جنوری 2017 کو کراچی سے مدینے جانے والی پرواز پی کے 743 پر پیش آیا تھا اور حکام کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں تحقیقات ابھی حتمی مرحلے میں نہیں پہنچیں۔

اس پرواز کے لیے پی آئی اے کا بوئنگ 777 طیارہ استعمال کیا گیا جس پر 400 مسافروں کے بیٹھنے کی گنجائش ہوتی ہے تاہم اس میں عملے کے اراکین کے لیے بھی علیحدہ سے 14 نشستیں ہوتی ہیں جنھیں 'جمپ سیٹس' کہا جاتا ہے۔

بی بی سی کے پاس موجود دستاویزات کے مطابق پرواز کے کپتان انور عادل نے اپنے بیان میں طیارے میں اضافی افراد کی موجودگی کی تصدیق کی ہے تاہم کیبن اور پرواز سے متعلق ذمہ داری دیگر عملے پر ڈالی ہے۔

بیان کے مطابق ان کا کہنا ہے کہ یہ اضافی افراد ’فلائٹ سروس‘ کے شعبے سے تعلق رکھتے تھے اور وہ پہلے ہی انھیں جمپ سیٹس پر بٹھا کر لے جانے سے انکار کر چکے تھے۔

کپتان نے کہا کہ پرواز اڑنے کے بعد جب وہ کاک پِٹ سے باہر آئے تو سینیئر پرسر نے انھیں بتایا کہ طیارے پر اضافی مسافر ٹریفک کے عملے کی جانب سے سوار کروائے گئے ہیں۔ جن کے بارے میں سینیئر پرسر نے طیارے کا دروازہ بند ہونے تک انھیں مطلع نہیں کیا تھا۔

یاد رہے کہ طیارے کے دروازے بند کرنے سے پہلے طیارے کا کیبن کا عملہ مسافروں کی گنتی کر کے اسے ٹرم شیٹ سے ملا کر پھر دروازہ بند کرتا ہے۔

کپتان نے مزید لکھا ہے کہ ’ان اضافی مسافروں میں سے چند چہرے ایسے بھی تھے جنھیں میں نے چیک اِن ڈیسک پر سختی سے منع کیا تھا کہ انھیں جمپ سیٹس پر سوار نہیں کرانا کیونکہ انھوں نے مجھ سے آ کر درخواست کی تھی۔‘

انور عادل نے اس واقعے کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ ’انھوں نے ٹرمینل مینیجر سے کہا کہ طیارے پر سات جمپ سیٹوں پر سات افراد لے جائے جا سکتے ہیں اور یہی ہدایات پرواز کی سینیئر پرسر حنا تراب کو دی گئیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پی آئی اے کا بوئنگ 777 طیارہ

کپتان نے اس معاملے کا علم ہونے کے باوجود پرواز واپس کراچی لانے کی بجائے مدینے کی جانب سفر جاری رکھنے کا فیصلہ کیا تھا اور اپنے بیان میں اس فیصلے کی وجہ ’فیول ڈمپنگ‘ کے نتیجے میں کمپنی کو پہنچنے والا ممکنہ مالی نقصان بتائی ہے۔

پی آئی اے قوانین کے مطابق کپتان کے پاس اختیارات ہوتے ہیں کہ وہ کسی بھی غیر متعلقہ شخص یا شے یا کسی بھی صورتحال کی بنیاد پر طیارے کو واپس پرواز کرنے والے رن وے یا کسی بھی ہوائی اڈے پر اتار سکتا ہے۔

کپتان انور عادل نے اپنے بیان میں لکھا ہے کہ ’فوری طور پر طیارے کو کراچی واپس اتارنا ممکن نہیں تھا اور اس بات کو سمجھا جانا چاہیے کہ طیارے کو فوری اتارنے سے قبل اس کا ایندھن گرانا پڑنا تھا جو کہ فضائی کمپنی کے مفاد میں نہیں تھا۔‘

تاہم پی آئی اے کے حکام کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے طیارے اور مسافروں کا تحفظ اولین ترجیح ہوتی ہے اور کپتان کے پرواز جاری رکھنے کے فیصلے کے بارے میں تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

اہم بات یہ بھی ہے کہ طیارے کے کپتان انور عادل نے اپنے بیان میں یہ اعتراف بھی کیا ہے کہ پرواز کے مدینہ پہنچنے پر وہ یہ ساری بات اپنی ’ڈی بریف‘ میں واضح نہیں کر سکے۔

پی آئی اے کے ترجمان دانیال گیلانی نے بھی اس معاملے کی جزیات پر تبصرہ کرنے سے انکار کرتے ہوئے صرف یہ کہا کہ ’پی آئی اے میں یہ معاملہ زیرِ تفتیش ہے اور ذمہ دار افراد کے خلاف پی آئی اے کے قوانین کے حساب سے کارروائی کی جائے گی۔‘