عمران فاروق کیس: تین ملزمان کے خلاف اشتہارات جاری

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کے مقدمے میں ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین بھی نامزد ملزم ہیں۔

اسلام آباد میں انسداد دہشت گردی کی ایک عدالت نے پاکستانی نژاد برطانوی شہری اور متحدہ قومی موومنٹ کے اہم رہنما ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کے مقدمے میں نامزد تین ملزمان کے اشتہارات جاری کرنے سے متعلق درخواست منطور کر لی ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک نے بتایا کہ یہ درخواست اس مقدمے کی تفتیش کرنے والے ادارے ایف آئی اے کے حکام کی طرف سے اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی کے جج کوثر عباس زیدی کی عدالت میں دائر کی گئی تھی۔

اس سے پہلے متعلقہ عدالت نے گذشتہ سال دسمبر میں ان ملزمان کے ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کیے تھے۔

جن تین ملزمان کے اشتہارات جاری کرنے کی منظوری دی گئی ہے اُن میں افتخار حسین، محمد انور اور کاشف خان کامران شامل ہیں۔

ملزم افتخار حسین ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کے بھانجھے ہیں جبکہ ملزم محمد انور کا شمار الطاف حسین کے قریب ترین ساتھیوں میں ہوتا ہے۔ ملزم کاشف کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ حساس اداروں کی تحویل کے دوران ہلاک ہوگیا تھا تاہم اس بارے میں سرکاری طور پر اس کی تصدیق نہیں ہوسکی۔

ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کے مقدمے میں ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین بھی نامزد ملزم ہیں۔

انسداد دہشت گردی کی عدالت سے اشتہارت لگانے کی درخواست منظور ہونے کے بعد ایف آئی اے کے حکام نے ان تینوں ملزمان کے پاکستان میں موجودہ گھروں کے ایڈرس کے علاوہ عام مقامات پر بھی اشتہار لگانے کا عمل شروع کردیا ہے۔

ملزمان افتخار حسین اور محمد انور کے بارے میں ایف آئی اے کے حکام کا کہنا ہے کہ یہ دونوں ملزمان برطانیہ میں مقیم ہیں۔

ایف آئی اے کے انسداد دہشت گردی ونگ کے حکام کا کہنا تھا کہ ملزمان کے گھروں اور پبلک مقامات پر اشتہارات لگانے کے علاوہ اخبارات میں بھی ملزمان کے اشتہارات جاری کیے جائیں گے اور یہ کارروائی اگلے دو ہفتوں کے دوران مکمل کرلی جائے گی۔

ایف آئی اے کے حکام کا کہنا تھا کہ یہ کارروائی مکمل ہونے پر ملزموں کو اشتہاری قرار دے کر ان کے ریڈ نوٹسز جاری کیے جائیں گے۔

اسی بارے میں