’یہاں کوئی فقہ نہیں سب ایک صف میں ہیں‘

Image caption دھماکے کے بعد آج بھی مزار پر عقیدت کے وہ ہی مناظر ہیں ان میں کوئی تبدیلی نہیں آئی

عروسی جوڑا پہنے ہوئے دولہا اور دلہن تلاشی کا مرحلہ پار کرتے ہوئے سیدھے مرکزی ہال میں داخل ہو جاتے ہیں اور دعا مانگنے لگتے ہیں۔

اس دوران دولہے کی والدہ کی آنکھیں بھی بھر آتی ہیں۔ محبوب علی نامی دولہا اپنی نئی نویلی دلہن کے ساتھ نکاح کے فوراً بعد حیدرآباد سے سیہون آئے ہیں، ان کا گھر لاڑکانہ میں ہے۔

’جمعرات بھری مراد‘

سیہون دھماکے کے بعد ’ 100 سے زیادہ شدت پسند ہلاک‘

محبوب علی کی والدہ یہ منت مانگ کر گئی تھیں کہ انھیں بیٹے کے لیے دلہن ملی تو وہ دونوں سمیت چادر چڑھانے آئیں گی۔ آج جب یہ منت پوری ہوگئی تو گھر جانے سے پہلے وہ یہاں حاضری پر آئے ہیں۔

مرکزی ہال کے اندر جس مقام پر یہ جوڑا دعا مانگ رہا تھا وہاں پر ہی 17 فروری کو خودکش بم حملہ ہوا تھا، جس میں 90 کے قریب افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ حملہ آور گولڈن گیٹ سے داخل ہوا اور دھمال ختم ہوتے ہی جیسے لوگ ہجوم کے ساتھ اندر آئے اس نے دھماکہ کیا۔

فقیری لباس میں ملبوس فقیر عبداللہ اس وقت دھمال کورٹ میں موجود تھے۔ انھوں نے بتایا کہ وہ دھماکے کے بعد سر پکڑ کے بیٹھ گئے کہ ’ہمارے لیے تو قیامت ہوگئی کربلا ہوگئی۔ یہ کون سا عذاب تھا یہ لعل اور رب جانتا ہے۔‘

مہدی رضا شاہ، قلندر شہباز کی گدی نشینوں میں سے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک دھماکے کے بعد دوسرے دھماکے کا بھی ڈر موجود تھا لیکن انھوں نے خطرہ مول لیا اور زخمیوں کو آدھے گھنٹے میں ہپستال پہنچایا گیا۔

Image caption شہباز قلندرکے گدی نشینوں میں سے ایک مہدی رضا شاہ کا کہنا ہے کہ ایک دھماکے کے بعد دوسرے دھماکے کا بھی ڈر موجود تھا لیکن انہوں نے زخمیوں کو آدھے گھنٹے میں ہپستال پہنچایا گیا

سیہون کے کچھ نوجوان مزار کے اندر زخمیوں کو اٹھانے تو دوسرے ہپستال میں خون دینے پہنچ گئے۔

راجہ سومرو بتاتے ہیں لوگ اپنے گھروں سے نئی رلیاں لے آئے جن میں زخمیوں کو ڈال کر چنگچی رکشہ اور نجی گاڑیوں کی مدد سے ہپستال پہنچایا گیا۔

میڈیکل سٹور والوں نے اپنی دکانیں کھول کر مفت میں دوائیں پہنچائیں جبکہ کچھ لوگ کیش رقم ہاتھ میں لے کر کھڑے ہوگئے تاکہ کوئی زخمیوں کو دوسرے شہر کے ہسپتال لے کر جانا ہے تو اس کی مدد کی جاسکے۔

دھماکے کے بعد آج بھی مزار پر عقیدت کے وہ ہی مناظر ہیں۔ ان میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ کسی کونے سے قصیدے تو کہیں سے نعت اور مرثیے کی آوازیں آتی رہتی ہیں۔

کراچی کی مسرت بلند آواز میں ’طلوع سحر میں شامل قلندر‘ گاتی رہیں۔ انھوں نے ساتھ میں جھاڑو اٹھا رکھی تھی اور خود کو لعل کی خادم قرار دیتی تھیں۔

مغرب کی اذان ہونے کے فوری بعد نقارے بجائے جاتے ہیں اور دھمال شروع ہوجاتا ہے۔ قلندر سے عقیدت، عشق اور اُلفت میں مبتلا ان لوگوں کی کوئی زبان اور رنگ و نسل نہیں۔

خواتین اور مرد دونوں ہی محو رقص ہیں۔ جیسے جیسے نقارے کی رفتار میں تیزی آتی جاتی ہے قدم زور زور سے اٹھنے لگتے ہیں اور اس ہی دوران کچھ خواتین کھلے بالوں کے ساتھ سر دھننے لگتی ہیں۔

مہدی رضا شاہ کے پاس لوگ تعزیت کے لیے آرہے ہیں۔ ساتھ میں انھیں خراج تحسین بھی پیش کر رہے ہیں کہ ملک کے دیگر مزاروں کے برعکس تخریب کاری کے بعد یہ مزار ایک روز بھی بند نہ ہوا اور دھمال کو بھی جاری رکھا گیا۔

’ہم یہ پیغام دینا چاہتے تھے کہ ہم دہشت گردوں سے ڈرتے نہیں، ہماری عدم تشدد کی جو صوفی روایت ہے اس کو برقرار رکھیں گے تاکہ دنیا کو یہ پیغام جائے کہ ہم خوفزدہ نہیں۔‘

Image caption گنبد کے اندر 17 فروری کو خودکش بم حملہ ہوا تھا جس میں 90 کے قریب افراد ہلاک ہوئے

اس دھماکے میں ہلاک ہونے والے 90 افراد میں بہت سی قومیتوں کے لوگ شامل تھے جن میں 3 غیر مسلم تھے۔ دلیپ کمار اپنے خاندان کے ساتھ کندھ کوٹ سے آئے تھے۔ انھوں نے بتایا کہ وہ بالکل خوفزدہ نہیں ہیں اور آئندہ بھی اسی طرح عقیدت کا اظہار کرنے آتے رہیں گے۔

سید واجد علی کا تعلق ملتان سے ہے۔ ان کے بیٹے نے فقیری چوغا پہن رکھا تھا جبکہ گلے میں کشکول جھول رہا تھا اور وہ دونوں ہاتھ باندھ کر مزار کا چکر لگاتا رہا۔ واجد علی کا کہنا تھا کہ جتنے بھی پیشوا ہیں انھوں نے امن کا درس دیا ہے اور لعل سائیں نے بھی امن کا پیغام دیا ہے۔

’یہاں کوئی بھی فقہ نہیں سب ایک ہی صف میں کھڑے ہوئے ہیں۔ ان بچوں اور عورتوں کا کیا لینا تھا ’آؤ ہمیں مارو لعل سائیں پر قربان ہونے کے لیے ہم حاضر ہیں۔‘

Image caption محبوب علی نامی دولہا اپنی نئی نویلی دلہن کے ساتھ نکاح کے فوری بعد حیدرآباد سے سیہون آئے ہیں

سندھ پولیس نے واقعے کی تحقیقات کے لیے تین ٹیمیں تشکیل دی ہیں، جنھوں نے درجن کے قریب مشکوک افراد کو حراست میں بھی لیا۔ قلندر شہباز کے گدی نشین مہدی رضا کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں کا جو بیانیہ ہے اس کا مقابلہ کرنے کے لیے دنیا کا کوئی بھی ادارہ متبادل بیانیہ پیش نہیں کرسکا، جس کی وجہ سے دہشت گردی کا مقابلہ بزور بازو کیا جارہا ہے تاہم وہ سمجھتے ہیں کہ اس کا مقابلہ صوفی ازم اور خانقاہ ازم ہے جس میں بین الاثقافتی، بین الامذاہب ہم آہنگی موجود ہے۔

اگر دہشت گرد اس لائف لائن کو نقصان پہنچاتے ہیں تو پھر انھیں آگے بڑھنے سے کوئی روک نہیں پائے گا۔

اسی بارے میں