پارلیمانی جماعتوں کی ذیلی کمیٹی میں فوجی عدالتوں کی مدت دو سال کرنے پر اتفاق

Image caption فوجی عدالتوں سے متعلق پارلیمانی رہنماوں کا ائندہ اجلاس اب 28 فروی کو ہوگا

وفاقی وزیر قانون زاہد حامد کی سربراہی میں پارلیمانی جماعتوں کی ذیلی کمیٹی کے اجلاس میں فوجی عدالتوں کی مدت تین سال کے بجائے دو سال کرنے پر اتفاق ہو گیا ہے تاہم اس کا حتمی فیصلہ پارلیمانی جماعتوں کے سربراہ کریں گے۔

اس سے پہلے قومی اسمبلی کے سپیکر سردار ایاز صادق کی سربراہی میں جمعے کو ہونے والے پارلیمانی رہنماؤں کے اجلاس میں 23 ویں آئینی ترمیم کے مسودے پر اتفاق نہ ہوسکنے کی صورت میں یہ معاملہ ذیلی کمیٹی کو بھجوا دیا گیا تھا۔

* فوجی عدالتیں کتنی مؤثر؟

* فوجی عدالتیں اور انصاف کے تقاضے

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق وفاقی وزیر قانون کے مطابق مولانا فضل الرحمن کے اصرار پر 23ویں آئینی ترمیم کے مجوزہ مسودے میں کچھ الفاظ کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔ اس مسودے میں ریاست کے خلاف سنگین اور پُرتشدد کارروائیوں کے الفاظ شامل کیے گئے ہیں۔

جمیعت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ دینی مدارس اور طبقات کو ریاست کے خلاف کھڑا کرنے کی سازش کی جارہی ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ اُن کی جماعت نے 21 ویں ترمیم میں دہشت گردی کو مذہب اور فرقے سے الگ کرنے کی بات کی تھی۔

حزب مخالف کی سب سے بڑی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما سید نوید قمر کا کہنا ہے کہ حکومت نے 23 ویں آئینی ترمیم کے مجوزہ مسودے میں ترامیم جمعت علمائے اسلام کے سربراہ کو خوش کرنے کے لیے کی ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی فوجی عدالتوں کے معاملے پر آل پارٹیز کانفرنس بلانے پر قائم ہے جس میں حکومت کی طرف سے مجوزہ مسودے کو پیش کیا جائے گا۔ فوجی عدالتوں سے متعلق پارلیمانی رہنماوں کا آئندہ اجلاس اب 28 فروی کو ہوگا جس میں فوجی عدالتوں کے قیام سے متعلق 23 ویں آئینی ترمیم کے مسودے کی حمتی منظوری دیے جانے کا امکان ہے جس کے بعد اس کو قومی اسمبلی کے آئندہ اجلاس میں پیش کیا جائے گا۔

اسی بارے میں