دیر میں خواتین کے ووٹ ڈالنے کی شرح میں اضافہ ہوا

شاہدہ کرن صوابی میں ضلع کونسل کی رکن ہیں۔ لیکن ان کےلیے صوابی جیسے علاقے سے انتخاب لڑنا آسان نہیں تھا۔ لیکن تمام تر سماجی رکاوٹوں کے باوجود انہوں نے نہ صرف الیکشن میں حصہ لیا بلکہ کامیابی بھی حاصل کی۔ ان کا کہنا ہے کہ سیاست کے اس کٹھن سفر میں ان کی یہ کامیابی ایک سنگ میل تو ہے مگر منزل ابھی دور ہے کیونکہ مشکلات اب بھی موجود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ' پشتون معاشرے میں عام طورپر عورت کا گھر سے باہر قدم رکھنا برا سمجھا جاتا ہے اور ایسے میں ان کا مردوں کے درمیان کام کرنا وغیرہ یہ سارے ایسے مسائل ہیں جن سے نمٹنا اتنا آسان نہیں جتنا کہ لگتا ہے۔'

شاہدہ کرن کے مطابق صوابی میں پہلے ایسے علاقے موجود تھے جہاں ہر الیکشن میں عورتوں کو آزادنہ طور پر ووٹ ڈالنے سے روکا جاتا تھا لیکن مجموعی طور پر ضلع بھر میں اب حالات پہلے کے مقابلے میں کافی حد تک بہتر ہیں۔

خیبر پختونخوا کے بعض علاقوں میں قدیم رسم و رواج کی وجہ سے خواتین کو انتخابات میں ووٹ ڈالنے سے محروم رکھا جاتا رہا ہے۔ ان میں صوابی اور دیر کے اضلاع قابل ذکر ہیں جہاں ہمیشہ سے عورتوں کو مقامی روایات یا جرگوں کے نام پر الیکشن کے عمل سے دور رکھنے کی کوشش کی گئی۔ اس کام میں مذہبی جماعتیں تو ایک طرف، ملک کی بڑی بڑی سیاسی جماعتوں بھی نہ صرف چپ سادھ لیتی ہیں بلکہ مقامی سطح پر عورتوں کو آزادانہ طور پر ووٹ ڈالنے سے روکنے کے لیے کیے گیے معاہدوں پر اتفاق کیا گیا۔

دیر کے دونوں اضلاع میں ہر الیکشن میں سیاسی جماعتیں آپس میں بیٹھ کر عورتوں کو ووٹنگ کے عمل سے دور رکھنے پر اتفاق کرتی رہی ہیں۔ لیکن 2015 کے بلدیاتی انتخابات میں پہلی مرتبہ عورتوں نے ان علاقوں میں گھروں سے باہر نکل کر انتخابی عمل میں حصہ لیا جہاں پہلے کبھی ان کو ووٹ کا حق نہیں دیا گیا۔

تاہم عورتوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیموں کی کوششوں سے ان علاقوں میں اب خواتین کے ووٹ ڈالنے کی شرح میں اضافہ ہوا ہے۔

ان تنظیموں میں اویئر گرل (باشعور خواتین) قابل ذکر ہے جو گذشتہ کئی سالوں سے عورتوں کی حقوق کےلیے سرگرم عمل ہے۔ اس تنظیم نے صوبے کے مختلف علاقوں میں شعور بیدار کرنے کےلیے ضلعی سطح پر خواتین کی تنظیم سازی کی اور مسلسل محنت کے اچھے نتائج سامنے آنے لگے۔

اویئر گرل کی سربراہ گلالئی اسمٰعیل کا کہنا ہے کہ ان کی تنظیم اور بعض دیگر غیر سرکاری اداروں نے صوابی اور دیر کے اضلاع پر اپنی توجہ مرکوز رکھی ہوئی ہے جس کے اب بہتر نتائج سامنے آنے شروع ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ چند سالوں کے دوران صوابی اور دیر کے اضلاع میں خواتین کی ووٹ ڈالنے کی شرح میں بتدریج اضافہ دیکھا جارہا ہے۔

تاہم انہوں نے کہا کہ حقیقی تبدیلی اس وقت آئے گی جب ملک کی بڑی سیاسی جماعتیں خواتین کو جنرل نششتوں پر پارٹی ٹکٹ دیں گے اور انہیں معاشرے کے اہم فرد کے طورپر تسلیم کریں گے۔

متعلقہ عنوانات