کوکلا چھپاکی جمعرات آئی جے!

لاہور دھماکہ
Image caption زیڈ بلاک کی کمرشل مارکیٹ کی جس عمارت میں دھماکہ ہوا وہاں تعمیراتی کام جاری تھا

بچپن بھی عجیب شے ہوتا ہے۔ ہر چیز اپنے حجم اور ہیئت سے فرق محسوس ہوتی ہے، وہی دیواریں، دروازوں کی چٹخنیاں، الماریاں اور ان پہ رکھی صندوقچیاں، جو کبھی پہنچ سے بہت دور لگتی تھیں، بچپن کے رخصت ہوتے ہی نہایت معمولی، بےحقیقت اور چھو ٹی لگنے لگیں۔ پڑوسیوں کا روسی پوڈل، جس کی بھؤوں بھؤوں سے کبھی جان نکلتی تھی، چند سال بعد دیکھنے پر ایک پستی سا کتا لگا جو، بھونکنے کی بجائے ہچکیاں سی لیتا تھا۔

انھی دنوں ایک کھیل کھیلا جاتا تھا، سب لوگ دائرے میں سر ڈال کے منہ چھپا کے بیٹھ جاتے تھے۔ ایک بچہ کوکلا (جو کہ ایک بل دیا ہوا کپڑا ہوتا تھا) لیے اس دائرے کی نگہبانی کرتا تھا۔ کوکلا گھماتے ہوئے وہ خون خشک کر دینے والی آواز میں پکارتا جاتا: ’کوکلا چھپاکی جمعرات آئی جے، جیہڑا اگڑ پچھڑ ویکھے، اوہندی شامت آئی جے۔‘

یعنی کھلی دھمکی کہ بھیا، آگے پیچھے دیکھنے والے کی شامت آنے والی ہے اور وجہ یہ کہ جمعرات ہے اور ہم کوکلا چھپاکی کھیل رہے ہیں۔

ہو سکتا ہے اس جملے کا مطلب کچھ اور، اور مقصد بالکل ہی کچھ اور ہو۔ مگر مجھے اس کھیل سے بہت خوف محسوس ہوتا تھا۔ جو سچ پوچھیں تو دہشت! جو اس وقت آج کی طرح ٹکے ٹوکری نہیں تھی۔ کسی کو دہشت زدہ کرنا خاصا مشکل کام تھا۔ لیکن مجھے اس دائرے میں یوں آنکھیں میچ کے بیٹھتے بے حد ڈر لگتا تھا۔ کھڑنجے کا فرش، ہولڈر سے لٹکتا پیلا بلب اور اس پہ منڈلاتے حشرات کی یکساں زوں زوں اور ایک بھیانک آواز، ’کوکلا چھپاکی جمعرات آئی جے۔‘ اکثر یہ ہوتا کہ میں خاموش رہنے کی اذیت سے بچنے کو دائرے سے اٹھ جاتی، تب ہی کوکلے والا، کوکلا لیے، میرے پیچھے دوڑتا اور میں اس کی مار سے بچنے کو امی کی گود میں جا چھپتی۔

خیر، بچپن کی یہ احمقانہ یاد بھی وقت کے ساتھ معمولی لگنے لگی۔ کئی جمعراتیں آئیں اور گزر گئیں، مگر اس سال فروری کے مہینے میں ایسا ہوا کہ بچپن کا یہ بھوت کہیں سے غاؤں غاؤں کرتا نمودار ہو گیا۔ ابھی پچھلی جمعرات، لعل شہباز قلندر کے مزار پہ بم پھٹا۔ دل کا بوجھ ابھی کم نہ ہوا تھا کہ اس جمعرات، صبح گیارہ سوا گیارہ بجے مجھے اپنے گھر میں بیٹھے بیٹھے ایک دبے ہوئے دھماکے کی آواز آئی اور بتی چلی گئی۔ میں باہر نکلی تو ایک عجیب سا سناٹا تھا۔ نہ چڑیوں کی آواز، نہ کوئی اور شور، بس ایک عجیب سی ہوا چلی، جس میں ایک نامانوس سی بو تھی۔ مجھے لمحے کے ہزارویں حصے میں اندازہ ہو گیا کہ زیڈ بلاک میں بم پھٹا ہے۔

مجھے یوں لگا، دہشت کا بھوت کوکلا لیے میرے پیچھے دوڑ رہا ہے۔ کچھ سمجھ نہ آیا تو سیدھے امی کے گھر کی راہ لی۔ گلی میں گاڑیاں ہی گاڑیاں، معلوم ہوا دھماکے میں امی کے پڑوسی مارے گئے ہیں۔ معظم پراچہ، جن کی چار ننھی ننھی بچیاں ہیں۔ خوف کا بھوت کوکلا لیے، امی کے دروازے پہ کھڑا تھا۔ جمعرات آئی جے، جمعرات آئی جے!

موت کا وہ کھیل جو ابھی کہیں دور دور کھیلا جا رہا تھا اور جس پہ دکھ بھری تحریر لکھ دینے کے علاوہ میرا اس سے کوئی تعلق نہ تھا، میرے گھر میں گھس آیا تھا۔ مجھے یاد آیا کہ گھر سے نکلنے کی جلدی میں میں اس جاوا چڑیا کو نظر انداز کر آئی تھی، جس کا پنجرہ پورچ میں رکھا تھا اور جو اس دھماکے کی دہشت سے مر گئی تھی۔ مجھے بھاگنے کی جلدی تھی کہ دوڑ کر جاؤں اور امی کی گود میں چھپ جاؤں، جہاں کوئی کوکلا لے کر میرے پیچھے نہ دوڑے، جمعرات آئی جے، جمعرات آئی جے!

تب ہی کسی ناشدنی نے اطلاع دی کہ گلبرگ میں بھی بم پھٹا ہے۔ مجھے دھیان آیا کہ میرے بچے بھی تو سکول میں ہیں، دیوانہ وار سکول کی طرف رخ کیا۔ سڑکوں پہ رش، خوفزدہ ماں باپ، افواہوں کا سیلاب اور سہمے ہوئے بچے۔ شام تک کچھ حالات سنبھلے اور کہا جانے لگا کہ یہ دھماکا سلنڈر پھٹنے سے ہوا۔ نئی نئی بحثیں چھڑ گئیں۔

میں اس دوران لرزتی رہی اور سوچتی رہی کہ بچپن میں بڑی لگنے والی ہر چیز بڑے ہو کر چھوٹی نہیں ہوتی۔ کچھ چیزیں اتنی بڑی ہو جاتی ہیں کہ ہمارے تصور کے کینوس میں بھی نہیں سما پاتیں۔ بچپن میں سب سے بری چیز، مردود روسیوں کے بنائے اور بچھائے گئے کھلونا بم تھے۔ سارا بچپن یہ ہی دکھ رہا کہ ظالم روسی ہمارے معصوم افغان بھائیوں کو کھلونا بموں سے معذور بنا رہے ہیں۔

کھلونا بم پھیل کر خود کش بمبار بن گئے اور جمعرات جو کبھی اگلے روز سکول سے چھٹی کی خوشخبری لے کر آتی تھی، کوکلے والے کے قبضے میں چلی گئی۔ ساری دنیا ایک بڑا سا دائرہ بن گئی، جس میں سب گھٹنوں میں سر دئے عارضی عافیت میں جی رہے ہیں، سر اٹھانے اور آگے پیچھے دیکھنے والے کی شامت آئی جے! آئی جے!

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں