پر یہ بھی چاہتی ہوں تیرا گھر بسا رہے!

عمران خان، نواز شریف

سوشل میڈیا پر کبھی کبھار ایسے افکار بھی نظر آ جاتے ہیں کہ ان کی داد دیے اور حسبِ مقدور اضافہ کیے بغیر رہا نہیں جاتا۔ جیسے آج ہی یہ پوسٹ دیکھنے کو ملی کہ عجیب لوگ ہیں جلسے عمران خان کے بھرتے ہیں اور جتاتے نواز شریف اور آصف زرداری کو ہیں اور پھر چیف آف آرمی سٹاف کی طرف دیکھتے ہیں۔

عجیب لوگ ہیں قرضہ چین کا اچھا لگتا ہے اور اسلحہ امریکی ساختہ پسند ہے۔ سدا بہار دشمنی بھارت سے ہے مگر طالبان اور داعش کو سب سے بڑا خطرہ سمجھتے ہیں۔ لیکن اپنی شعیت اور سنّیت پر ناز کرنا اور مشکوک نگاہوں سے ایک دوسرے کو دیکھنا بھی نہیں چھوڑتے۔

عجیب لوگ ہیں مغربی جمہوریت سے بھی نالاں ہیں، مگر سیاسی پناہ کے لیے بہترین ملک برطانیہ کو سمجھتے ہیں۔ حکومت ترکی جیسی چاہتے ہیں مگر قوانین سعودی عرب جیسے۔

جب ایٹمی ہتھیار نہیں تھے تب بھی عدم تحفظ کا شکار تھے اب ایٹمی ہتھیار ہیں تو ان ہتھیاروں کے تحفظ کے لیے پریشان ہیں۔

عجیب لوگ ہیں نوکری سرکاری پسند ہے مگر خواہش بل گیٹس جتنی دولت کمانے کی لیکن بل گیٹس جیسی محنت اور لگن کے بغیر۔ تعلیم کے لیے بچوں کو امریکہ بھیجنا چاہتے ہیں اور یہ بھی چاہتے ہیں کہ واپسی پر قبیلے کا سردار بن کے کاروکاری کے فیصلے کرے یا پھر عوام کی خدمت کرنے یا اردگرد کی دنیا بدلنے کا شوق ہے تو کسٹمز، پولیس، ایف آئی اے وغیرہ میں افسر لگ کے یہ خواب پورا کرے یا کسی ملٹی نیشنل کمپنی کا نمائندہ بن کے ملک و قوم کی ترقی میں ہاتھ بٹائے۔ کم ازکم ٹیچر نہ بنے۔ لڑکیوں کو پڑھانا لکھانا بھی چاہتے ہیں اور گھر بھی بٹھانا چاہتے ہیں۔

عجیب لوگ ہیں معیشت کی زبوں حالی پر آٹھ آٹھ آنسو روتے ہیں مگر ٹیکس دینا سور برابر سمجھتے ہیں۔ پاکستان کو اکنامک ٹائیگر اور بین الاقوامی سرمایہ کاری کا مقناطیس بنانا چاہتے ہیں مگر اپنے بینکوں سے زیادہ آف شور بینکنگ پر ایمان رکھتے ہیں۔

فلم بالی وڈ کی پسند کرتے ہیں مگر فیورٹ ٹی وی اینکرز عامر لیاقت حسین، اوریا مقبول جان، مبشر لقمان وغیرہ اور فیورٹ پروگرام کرائم تھرلرز۔۔۔

عجیب لوگ ہیں جن کے نزدیک سب سے بڑا قومی مسئلہ رشوت اور کرپشن ہے مگر پوری توجہ دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے پلس مقابلوں پر ہے۔ اور چاہتے یہ ہیں کہ نظریہ سازوں اور ان کے اداروں کو بنا ہاتھ لگائے اور ذہن مسخ کرنے والوں کی جانب انگلی اٹھائے بغیر دہشت گردی کی بیخ کنی کا معجزہ ہو جائے تو کیا بات ہے۔۔ یعنی

میں یہ بھی چاہتی ہوں تیرا گھر بسا رہے

پر یہ بھی چاہتی ہوں کہ تو اپنے گھر نہ جائے

(ریحانہ روہی )

عجیب لوگ ہیں قانون کی مکمل حکمرانی اور مکمل انصاف کے لیے بھی مرے جا رہے ہیں مگر اندھا بھروسہ فوجی عدالتوں پر ہے۔

عجیب لوگ ہیں جن میں سے کسی کو یقین نہیں کہ اس فانی دنیا میں ملاوٹ کے ذریعے خلقِ خدا کو مارنے یا کسی کو ذاتی انتقام کے لیے قتل کرنے یا زیردست لوگوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑنے یا اندھا دھند دولت جمع کرنے یا حرام و حلال کی تمیز ختم کرنے یا کسی کا مال جعل سازی کے ذریعے غصب کرنے پر جہنم رسید ہونے کی پکی پکی نوید ہے۔

مگر سب کو کامل یقین ہے تو جنت الفردوس میں جانے کا۔ اور وہ بھی مکے اور مدینے میں تدفین کی آرزو لیے۔

خون تھوکے، کبھی روئے، کبھی تقریر کرے

ایسے پاگل کے لیے کیا کوئی تدبیر کرے

( احمد نوید)

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں