آپریشن 'ردالفساد' جاری، چاروں صوبوں میں چھاپے، گرفتاریاں

سکیورٹی آپریشن تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

پاکستان میں دہشت گردی کی حالیہ لہر کے بعد شروع کردہ سکیورٹی آپریشن 'ردالفساد' کے تحت ملک کے چاروں صوبوں میں تلاشی کی کارروائیاں کی گئی ہیں جن میں سینکڑوں افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ پاکستان فوج کے ادارے آئی ایس پی آر نے ایک ہیلپ لائن کے نمبر عام کیے ہیں اور عوام سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ کسی بھی مشکوک سرگرمی کی اطلاع ان نمبروں پر دیں۔

خیبر پختونخوا

سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق اتوار کی صبح صوبہ خیبر پختونخوا کے قصبوں بنوں اور چارسدہ کے تنگی سرکل کے علاقے سے 81 افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔

اس کے علاوہ رینجرز نے خیبرپختونخوا کے ایک اور شہر ڈیرہ اسماعیل خان میں چھاپہ مار کر چار مزید افراد کو گرفتار کر لیا۔ اس کے علاوہ ان افراد کے قبضے سے بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا ہے۔

لکی مروت کے گاؤں سرائے نورنگ میں سکیورٹی فورسز کی ایک مشترکہ کارروائی کے دوران اشتہاریوں سمیت 120 افراد گرفتار کر لیے گئے۔

سکیورٹی فورسز نے اتوار کی صبح شمالی وزیرستان کے علاقے شیرانی اور دتہ خیل میں آپریشن کیا جس کے دوران ہتھیاروں اور گولہ بارود کی ایک بڑی کھیپ قبضے میں لے لی گئی۔

پنجاب

اس کے علاوہ ہفتے اور اتوار کی درمیانی رات کو جنوبی پنجاب کے ضلع وہاڑی میں بھی سکیورٹی فورسز نے کارروائی کی اور اس دوران 45 افراد کو گرفتار کر لیا۔

ضلع اوکاڑہ میں بھی چھاپہ مار کر آٹھ افغانی باشندوں کو حراست میں لے لیا گیا، جب کہ لیّہ سے 22 افراد پکڑے گئے۔

ادھر اتوار کو پنجاب کے وزیراعلیٰ شہبازشریف اور کور کمانڈر لاہور لیفٹننٹ جنرل صادق علی کے درمیان ملاقات ہوئی ہے۔ پاکستان ٹیلی ویژن کے مطابق اس ملاقات میں آپریشن ردالفساد پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔

سندھ

دریں اثنا کراچی میں بھی پولیس نے گلبرگ، جوہر آباد، نیو کراچی اور ملیر کے علاقوں میں 'کومبنگ آپریشن' کیا جس کے دوران کم از کم 70 افراد کو حراست میں لیا گیا۔ ان میں افغان اور ازبک شہری بھی شامل ہیں۔

کورنگی کے علاقے میں ایک مشتبہ شخص پولیس سے فائرنگ کے تبادلے میں مار گیا۔

بلوچستان

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

ادھر بلوچستان کے چاغی ضلعے میں بھی سکیورٹی آپریشن ہوا جس کے دوران دالبندین قصبے میں بغیر دستاویزات کے رہنے والے چار افغان شہریوں کو حراست میں لے لیا۔

یاد رہے کہ گذشتہ دو ہفتوں میں پاکستان کے مختلف حصوں میں دہشت گردی کی وارداتوں میں سو سے زیادہ شہری ہلاک ہو گئے تھے، جس کے بعد منگل کو فوج نے ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس میں دہشت گردوں اور انتہا پسندوں کے خلاف دہشت گردی کے خلاف ’رد الفساد‘ کے نام سے نیا آپریشن شروع کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔

یہ اعلان ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب ملک میں ضربِ عضب کے نام سے پہلے ہی ایک سکیورٹی آپریشن جاری ہے۔

شمالی وزیرستان میں جون 2014 میں شروع کیے جانے والے فوجی آپریشن ضربِ عضب کا دائرہ دسمبر 2014 میں پشاور کے آرمی پبلک سکول پر طالبان کے حملے کے بعد ملک کے دیگر علاقوں تک پھیلانے کا اعلان کیا گیا تھا۔

فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ آپریشن 'رد الفساد' کا مقصد ملک میں بچے کچھے دہشت گردوں کا بلاتفریق خاتمہ کرنا ہے۔

فوج کا کہنا ہے کہ ’رد الفساد‘ کا مقصد نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کرنا ہے اور یہ کہ اس آپریشن سے سرحد کی سکیورٹی بھی یقینی بنائی جائے گی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں