پاکستانی سفیر کی افغان وزارتِ خارجہ طلبی، پاک فوج کی فائرنگ اور نقل و حرکت پر خدشات کا اظہار

تصویر کے کاپی رائٹ Ministry of Foreign Affairs of Afghanistan
Image caption کابل میں افغان ڈپٹی وزیر خارجہ ناصر احمد اندیشا نے پاکستانی سفیر سید ابرار حسین کو افغان حکومت کے خدشات سے آگاہ کیا

افغانستان کے ڈپٹی وزیر خارجہ ناصر احمد اندیشا نے پاکستانی سفیر سید ابرار حسین سے ملاقات میں پاک افواج کی پاک افغان سرحدی علاقوں پر فائرنگ کی مذمت کی اور وضاحت طلب کی ہے۔

افغان وزارتِ خارجہ کے فیس بک پیچ پر ایک بیان کے مطابق اتوار کے روز پاکستان سفیر کو وزارت خارجہ طلب کیا گیا جہاں ناصر احمد اندیشا نے ان کو پاکستانی فوج کی فائرنگ پر افغان حکومت کے خدشات سے آگاہ کیا اور جواب طلب کیا۔

’سرحد پار کارروائی نہ کرنے کی پالیسی کا امتحان نہ لیا جائے‘

پاکستان افغان سرحد کے اندر گولہ باری کی وضاحت کرے: افغانستان

افغان وزیر کے مطابق پاکستان کی فوج کی جانب سے افغانستان کے صوبہ کنہڑ کے علاقے شانگڑائی اور ننگرہار صوبے کے علاقے گوشتہ میں گولہ بارود کی شیلنگ کی گئی جس کی وجہ سے ان علاقوں میں بسنے والے لوگوں کو بھاگنا پڑا۔

ناصر احمد اندیشہ نے پاکستانی افواج کی افغان سرحد کے ساتھ نقل و حرکت، پاکستان بھر میں افغان پناہ گزین کے ساتھ امتیازی سلوک اور طورخم اور چمن بارڈر کی بندش پر اپنے خدشات کا بھی اظہار کیا۔

انھوں نے مزید مطالبہ کیا کہ پاکستان سرحدی راستوں کو دوبارہ کھولے۔

پاکستانی سفیر سید ابرار حسین نے کہا کہ پاکستانی فوجی دستوں کی سرحد پر نقل و حرکت دہشت گردوں اور ان کی انتہاپسند سرگرمیوں خلاف کی جا رہی ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ افغان حکومت کے خدشات پاکستانی حکومت تک پہنچا دیے جائیں گے۔

بی بی سی کے رابطے پر پاکستانی وزارت خارجہ کے ترجمان نفیس ذکریا نے اس ملاقات سے لاعلمی کا اظہار کیا۔

اسی بارے میں