پرواز پر اضافی مسافر، کپتان سمیت تین کو نوٹس جاری

پی آئی اے تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پی آئی اے کا بوئنگ 777 طیارہ

پاکستان کی قومی فضائی کمپنی نے ایک بین الاقوامی پرواز پر اضافی مسافر سوار کرنے کے الزامات کے سلسلے میں پرواز کے کپتان، سینیئر پرسر اور کراچی کے ٹرمینل مینیجر کو اظہارِ وجوہ کے نوٹس جاری کر دیے ہیں۔

پی آئی اے کے ترجمان دانیال گیلانی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 'تمام متعلقہ اہلکاروں کے خلاف انضباطی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔'

پرواز پر ’حد سے زیادہ‘ مسافر لے جانے کی تحقیقات

٭ پی آئی اے کے بارے میں پانچ غلط فہمیاں

پی آئی اے کی 20 جنوری 2017 کو کراچی سے مدینے جانے والی پرواز پی کے 743 کے بارے میں یہ بات منظرِ عام پر آئی تھی کہ اس پر گنجائش سے زیادہ مسافر لے جائے گئے جبکہ پاکستانی ذرائع ابلاغ میں یہ خبر بھی گرم رہی کہ پرواز پر اضافی مسافروں کو کھڑا کر کے لے جایا گیا۔

بی بی سی اردو کے طاہر عمران کے مطابق دانیال گیلانی نے اس خبر کی سختی سے تردید کی اور وضاحتی بیان میں کہا کہ 'کچھ مسافروں کو پرواز پر کھڑا کر کے لے جانے کی خبر مبالغے سے بھرپور اور بے بنیاد ہے۔ ایسا ممکن ہی نہیں کہ کوئی طیارے میں کھڑا ہوکر اتنی طویل پرواز پر سفر طے کر سکے۔'

اس پرواز کے لیے پی آئی اے کا بوئنگ 777 طیارہ استعمال کیا گیا جس پر 400 مسافروں کے بیٹھنے کی گنجائش ہوتی ہے تاہم اس میں عملے کے اراکین کے لیے بھی علیحدہ سے 14 نشستیں ہوتی ہیں جنھیں 'جمپ سیٹس' کہا جاتا ہے۔

بی بی سی کے پاس موجود دستاویزات کے مطابق پرواز کے کپتان انور عادل نے اپنے بیان میں طیارے میں اضافی افراد کی موجودگی کی تصدیق کی ہے تاہم کیبن اور پرواز سے متعلق ذمہ داری دیگر عملے پر ڈالی تھی۔

پرواز کے کپتان نے اپنے بیان میں الزام لگایا کہ یہ اضافی افراد 'فلائٹ سروس' کے شعبے سے تعلق رکھتے تھے اور وہ پہلے ہی انھیں جمپ سیٹس پر بٹھا کر لے جانے سے انکار کر چکے تھے۔

تاہم کپتان نے ان اضافی مسافروں کے بارے میں معلومات ملنے کے باوجود پرواز کو واپس کراچی لانے کی بجائے مدینے کی جانب سفر جاری رکھنے کا فیصلہ کیا تھا اور اپنے بیان میں اس فیصلے کی وجہ 'فیول ڈمپنگ' کے نتیجے میں کمپنی کو پہنچنے والا ممکنہ مالی نقصان بتائی ہے۔

پی آئی اے قوانین کے مطابق کپتان کے پاس اختیارات ہوتے ہیں کہ وہ کسی بھی غیر متعلقہ شخص یا شے یا کسی بھی صورتحال کی بنیاد پر طیارے کو واپس پرواز کرنے والے رن وے یا کسی بھی ہوائی اڈے پر اتار سکتا ہے۔

تاہم پی آئی اے کے حکام کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے طیارے اور مسافروں کا تحفظ اولین ترجیح ہوتی ہے اور کپتان کے پرواز جاری رکھنے کے فیصلے کے بارے میں تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

اہم بات یہ بھی ہے کہ طیارے کے کپتان انور عادل نے اپنے بیان میں یہ اعتراف بھی کیا ہے کہ پرواز کے مدینہ پہنچنے پر وہ یہ ساری بات اپنی 'ڈی بریف' میں واضح نہیں کر سکے۔

اسی بارے میں