فوجی عدالتوں کا معاملہ پھر کھٹائی میں؟

پاکستان تصویر کے کاپی رائٹ AAMIR QURESHI
Image caption فوجی عدالتوں سے اب تک درجنوں دہشت گردوں کو موت کی سزا سنائی گئی ہے

پاکستان پیپلزپارٹی کی طرف سے فوجی عدالتوں کو توسیع دینے کے لیے مرتب شدہ نئے ترمیمی مسودے پر تحفظات کے اظہار کے بعد، اب عوامی نیشنل پارٹی نے بھی پارلیمانی کمیٹی کے بائیکاٹ کا اعلان کردیا ہے۔ جس سے یہ معاملہ ایک بار مرتبہ پھر کھٹائی میں پڑتا نظر آرہا ہے۔

عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اور رکن قومی اسمبلی اسفندیار ولی خان نے گذشتہ روز چارسدہ میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا کہ پنجاب میں پشتونوں کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھے جانے کے ردعمل میں حکومت کے ساتھ ہر سطح پر مذاکرات ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

عوامی نیشنل پارٹی کے سینیئر نائب صدر اور سابق رکن قومی اسمبلی بشریٰ گوہر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت ایک طرف پاکستان میں یکجہتی کی بات کرتی ہے تو دوسری طرف پشتونوں کو امتیازی سلوک کا نشانہ بنا کر ملک میں بنگلہ دیش جیسے حالات پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

انھوں نے کہا کہ پارٹی کے فیصلے کے مطابق اے این پی اس وقت تک کسی حکومتی کیمٹی کے اجلاس میں شرکت نہیں کرے گی جب تک پنجاب میں پشتونوں کے خلاف نسل کی بنیاد پر تشدد کی کاروائیاں بند نہیں کی جاتیں۔

خیال رہے کہ پیر کو حقوقِ انسانی کے پاکستانی کمیشن نے بھی پنجاب میں حکام کی جانب سے شدت پسندی اور دہشت گردی پر قابو پانے کی مہم کے دوران ’بظاہر نسلی بنیادوں پر امتیازی سلوک‘ کے واقعات پر شدید تشویش ظاہر کی ہے۔

ایک بیان میں کمیشن نے کہا ہے کہ پنجاب کے کچھ اضلاع کی انتظامیہ باقاعدہ یا زبانی احکامات جاری کر رہی ہے کہ عوام ایسے مشکوک افراد پر نظر رکھیں جو پشتون یا فاٹا سے تعلق رکھنے والے دکھائی دیتے ہوں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

اس معاملے پر اے این پی کے اس تازہ اعلان کے بعد فوجی عدالتوں میں توسیع کا معاملہ ایک مرتبہ پھر تاخیر کا شکار ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔

اس سے پہلے پیپلز پارٹی نے مجوزہ ترمیمی مسودے کی بعض شقوں پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کمیٹی کے اجلاس کے بائیکاٹ کا اعلان کیا تھا۔ تاہم بعد میں حکومتی وزرا کی طرف سے آصف علی زرداری سے براہ راست رابطے کے بعد پی پی پی کے پارلیمانی رہنما نوید قمر نے سب کمیٹی کے اجلاس میں مشروط طور پر شرکت کی تھی۔

پیپلز پارٹی نے اس معاملے پر تمام سیاسی جماعتوں سے مشاورت کے لیے چار فروری کو ایک آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔ اس کے علاوہ عمران خان کی جماعت تحریک انصاف کی طرف سے بھی مجوزہ ترمیمی مسودے پر وہی اعتراضات اٹھائے گئے تھے جس کا ذکر پی پی پی کی جانب سے کیا گیا تھا۔

سیاسی جماعتوں کا موقف ہے کہ حکومت نے ان سے مشاورت کیے بغیر نئی ترمیمی مسودے سے ’مذہب اور مسلک‘ کے الفاظ حذف کر دیے ہیں جبکہ دو سال پہلے منظور کیے گئے پہلے مسودے میں یہ الفاظ شامل تھے۔

ان کے مطابق آئین کی شق 175 (3) کے تحت فوجی عدالتوں کو یہ اختیار حاصل ہے کہ کسی ایسے شدت پسند یا دہشت گرد تنظیم سے تعلق رکھنے والے شخص کے خلاف کارروائی عمل میں لائے جو مذہب اور مسلک کو استعمال کرتا ہو۔

تاہم جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی طرف سے اس کے خلاف مسلسل احتجاج کے بعد ان الفاظ کو نئے ڈرافٹ سے ہٹایا دیا گیا۔ جی یو آئی نے دھمکی دی ہے کہ وہ ایسے کسی آئینی مسودے پر دستخط نہیں کریں گے جس میں مذہب اور مسلک کے الفاظ شامل ہوں۔

ادھر دوسری طرف تقریباً تمام سیاسی جماعتوں کو خدشہ ہے کہ نئے مسودے سے ’مذہب اور مسلک‘ کے الفاظ نکالے جانے کے بعد ان عدالتوں میں اُن کے خلاف بھی مقدمے دائر کیے جا سکتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption پارلیمانی کمیٹی کا اگلا اجلاس منگل کو اسلام آباد میں طلب کیا گیا ہے جس میں توقع ہے کہ حکومت سیاسی جماعتوں کے اعتراضات دور کرنے کی کوشش کرے گی

پی پی پی نے الزام لگایا ہے کہ حکومت اس معاملے کو حل ہی نہیں کرنا چاہتی کیونکہ اصل مسودے میں اپنے ایک اتحادی کے کہنے پر ردوبدل کیا گیا۔

خیال رہے کہ پارلیمانی کمیٹی کا اگلا اجلاس منگل کو اسلام آباد میں طلب کیا گیا ہے جس میں توقع ہے کہ حکومت سیاسی جماعتوں کے اعتراضات کو دور کرنے کی کوشش کرے گی۔

پشاور میں آرمی پبلک سکول پر طالبان حملے کے بعد ملک میں فوجی عدالتوں کا قیام عمل میں لایا گیا تھا۔ ابتدائی طور پر ان عدالتوں کو دو سال کی مدت کے لیے قائم کیا گیا تھا تاہم حکومت نے اب ان میں مزید تین سال کی توسیع دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

ان عدالتوں سے اب تک درجنوں دہشت گردوں کو موت کی سزا سنائی گئی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں