پی ایس ایل فائنل لاہور میں کرانا پاگل پن ہے: عمران خان

کرکٹ تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption لاہور کے قذافی سٹیڈیم میں پانچ مارچ کو ہونے والے پی ایس ایل کے فائنل سے قبل تیاریاں جاری ہیں

پاکستان تحریک انصاف کے چئیرمین عمران خان نے لاہور شہر میں پاکستان سپر لیگ سیزن ٹو کا فائنل کرانے کے فیصلہ کو 'پاگل پن ' قرار دیا ہے۔

نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ شہر میں جو حالات ہیں ان کو مد نظر رکھتے ہوئے کرکٹ بالکل نہیں ہونی چاہیے۔

'اگر سارے شہر میں سیکورٹی ہو اور فوج کی نگرانی میں پی ایس ایل کا میچ کرانا ہے، نہ کہ کوئی انٹرنیشنل میچ، تو کیا اس سے لوگوں کو پتا چلے گا کہ لاہور میں امن ہو گیا ہے؟ '

پاکستان سپر لیگ کا فائنل لاہور میں ہی ہو گا

فائنل لاہور میں ہوگا یا نہیں، فیصلہ وزیر اعظم کریں گے

’فوج فائنل کے لاہور میں انعقاد میں مکمل تعاون کرے گی‘

پی ایس ایل کے فائنل کا لاہور کے قذافی سٹیڈیم میں ہونے کے فیصلے کی تنقید کرتے ہوئے سابق کرکٹر عمران خان نے مزید کہا کہ 'خدا نخواستہ اگر کوئی دھماکہ ہو گیا تو انٹرنیشنل کرکٹ کے پاکستان واپس آنے کے بجائے کرکٹ اگلے دس سال تک واپس نہیں آئے گی۔'

یاد رہے کہ پی ایس ایل سیزن ٹو کا فائنل پانچ مارچ کو کھیلا جائے گا۔

دوسری جانب پاکستان کے سابق صدر جنرل (ریٹائرڈ ) پرویز مشرف کا کہنا ہے کہ پاکستان سپر لیگ کا فائنل لاہور میں ہی ہونا چاہیے اور اسی صورت میں دہشت گردوں کو موثر جواب دیا جاسکتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

پرویز مشرف نے دبئی میں بی بی سی اردو کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ اگر ہم یہ فائنل لاہور میں نہیں کراتے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم دہشت گروں کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں۔اگر اس فائنل کے لیے بھرپور سکیورٹی فراہم کی جاسکتی ہے تو اسے ہر حال میں لاہور میں ہی ہونا چاہیے۔

پرویز مشرف نے کہا کہ حالیہ دہشت گردی کا مقصد اسی فائنل کو روکنا تھا اور اگر ہم لاہور میں فائنل نہیں کراتے تو ہم دہشت گردوں کا مقصد پورا کردیں گے۔

پرویز مشرف نے پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ نہ ہونے پر سخت افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اس کا سب سے بڑا نقصان پاکستانی شائقین کو ہوا ہے جو ملک میں کرکٹ دیکھنے سے محروم ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مارچ 2009 میں سری لنکن ٹیم قذافی سٹیڈیم کے باہر حملے کے بعد سے زمبابوے کے علاوہ کوئی اور غیر ملکی ٹیم پاکستان کا دورہ کرنے نہیں آئی ہے

انہوں نے سری لنکا کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں دہشت گردی کے باوجود کرکٹ نہیں رکی لیکن پاکستان میں صرف ایک واقعے کو بنیاد بناکر اسے کئی برسوں سے انٹرنیشنل کرکٹ سے محروم کردیا گیاہے ۔ یہ سراسر پاکستان کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے اور اس میں ہمارے دشمن ملوث ہیں جو دباؤ ڈال کر دوسروں کو بھی ہمارے خلاف بہکا رہے ہیں۔ اس صورتحال میں حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنا موثر کردار ادا کرے۔

پرویز مشرف نے کہا کہ ہم کراچی اور لاہور کے درمیان صحت مندانہ مقابلہ دیکھتے آئے ہیں لیکن اب ایسا دکھائی دیتا ہے کہ جیسے یہ غیرصحت مندانہ مقابلہ ہوگیا ہے۔ یقیناً اس بار یہ فائنل لاہور میں ہورہا ہے لیکن پاکستان کرکٹ بورڈ آئندہ کراچی میں بھی فائنل کرائے کیونکہ کراچی اور لاہور کرکٹ کے نقطہ نظر سے دو بڑے شہر ہیں۔

واضح رہے کہ متحدہ عرب امارات میں پی ایس ایل کے سیزن ٹو کے مقابلے اب ناک آؤٹ مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں جہاں کل کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کا پشاور زلمی سے مقابلہ ہوگا جبکہ بدھ کے روز اسلام آباد یونائیٹڈ اور کراچی کنگز ایک دوسرے کا سامنا کریں گے۔

اسی بارے میں