فوجی عدالتیں: آئینی ترمیم کے مسودے پر پارلیمنٹ میں موجود سیاسی جماعتوں کی اکثریت متفق

ملک میں فوجی عدالتوں کے قیام میں توسیع سے متعلق آئینی ترمیم کے مسودے پر پارلیمنٹ میں موجود سیاسی جماعتوں کی اکثریت متفق ہوگئی ہے اور اس ضمن میں 23 ویں آئینی ترمیم چھ مارچ کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں پیش کی جائے گی۔

منگل کے روز پارلیمانی رہنماؤں کے اجلاس میں پارلیمنٹ میں موجود حزب مخالف کی سب سے بڑی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی شریک نہیں ہوئی تھی۔

فوجی عدالتوں کی ایک اور بیساکھی

فوجی عدالتوں پر کل جماعتی کانفرنس بلانے کا مطالبہ

تاہم وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے اس اُمید کا اظہار کیا ہے کہ چونکہ چار مارچ کو پاکستان پیپلز پارٹی نے فوجی عدالتوں کے معاملے پر آل پارٹیز کانفرنس طلب کررکھی ہے اس لیے جب اس آئینی ترمیم کو قومی اسمبلی کے آئندہ اجلاس میں پیش کیا جائے گا اس وقت اُن کی طرف سے پیش کی گئی قابل عمل تجاویز کو بھی شامل کیا جائے گا۔

پارلیمانی رہنماؤں کے اجلاس کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے حزب مخالف کی دوسری بڑی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے پارلیمانی لیڈر شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ اختلافات کے باوجود اُن کی جماعت قومی معاملات پر حکومت کے ساتھ ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ پاکستان میں حالات غیر معمولی ہیں اس لیے فوجی عدالتوں کے قیام میں توسیع ناگزیر ہے۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ فوجی عدالتوں کی مدت دو سال ہوگی اور اس میں توسیع سات جنوری سنہ 2017سے تصور کی جائے گی تاکہ کوئی قانونی پیچیدگی پیدا نہ ہو۔

پی ٹی آئی کے رہنما کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ کی تشکیل کردہ نیشنل سکیورٹی کمیٹی نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد اور ان فوجی عدالتوں میں بھیجے گئے مقدمات میں ہونے والی پیش رفت کی نگرانی کرے گی۔

اُنھوں نے کہا کہ دو سال کی مدت مکمل ہونے کے بعد فوجی عدالتوں میں زیر التوا مقدمات کو واپس انسداد دہشت گردی کی عدالتوں میں منتقل کردیا جائے گا۔

عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما حاجی غلام احمد بلور کا کہنا تھا کہ اگرچے فوجی عدالتوں کا قیام بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے لیکن پاکستان میں امن وامان سے متعلق جیسے حالات ہیں اُن کو مدنظر رکھتے ہوئے فوجی عدالتوں کا قیام ناگزیر ہے۔

اُنھوں نے صوبہ پنجاب میں پختونوں کو نشانہ بنانے اور اُن کا استحصال کرنے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے بعد ملک میں لسانیت پھیلانے کی کوشش کی جارہی ہے جو کو روکنا ہوگا۔

حاجی غلام احمد بلور کا کہنا تھا کہ اگر حکومت نے گذشتہ دو سال کے دوران شدت پسندی سے نمٹنے کے لیے مناسب اقدامات کیے ہوتے تو آج شاید فوجی عدالتوں کے قیام میں توسیع کی نوبت نہ آتی۔

جماعت اسلامی کے رہنما طارق اللہ کا کہنا تھا کہ مذہب کو شدت پسندی کے ساتھ جوڑنا کسی طور پر بھی مناسب نہیں ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ ایسا کرنے سے یہ تاثر دینے کی کوشش کی جائے گی کہ جیسے دینی جماعتیں شدت پسندی کو پروان چڑھاتی ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں