کرّم ایحنسی: ’اعتماد کی بحالی تک بےگھر خاندانوں کی واپسی مشکل‘

Image caption عزیز اللہ اب درزی کی دکان کر کے اپنے اہلِ خانہ کا پیٹ بھرنے پر مجبور ہیں

پاکستان میں وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقے کرم ایجنسی کے صدر مقام پاڑہ چنار سے بےدخل ہونے والے عزیز اللہ اور ان کا خاندان گذشتہ نو برس سے کوہاٹ میں پناہ گزینوں کی زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔

وہ اپنے گاؤں میں ایک مکان اور دوکان کے مالک تھے جس سے ان کی زندگی اچھی گزر رہی تھی لیکن فرقہ وارانہ فسادات کی زد میں آنے کے بعد اب انھیں غربت نے جکڑا لیا ہے۔

آج کل وہ خاندان کی کفالت کپڑوں کی سلائی کر کے کر رہے ہیں۔ عزیز اللہ کا ایک بیٹا پیدائشی طورپر معذور بھی ہے جس کی دوائیوں کا خرچہ پورا کرنا بھی ان کے لیے بڑا مسئلہ بنا ہوا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ پاڑہ چنار سے بےگھر ہونے کے بعد ان کی زندگی مسلسل مشکل ہوتی جارہی ہے۔ 'گاؤں میں تھوڑی بہت زمین تھی جس سے گزر بسر ہوا کرتی تھی لیکن اب تو کئی سالوں سے بے روزگاری کا شکار ہوں اور قرضوں پر زندگی گزر رہی ہے۔'

انھوں نے کہا کہ کوئی ایسا دن یا رات نہیں گزرتی کہ گاؤں کی یاد نہ آتی ہو لیکن اب تو ساری امیدیں ٹوٹتی ہوئی نظر آ رہی ہیں اور پتہ نہیں کہ پھر سے گاؤں کی شکل دیکھ پائیں گے بھی یا نہیں۔

Image caption پاڑہ چنار سے بےگھر ہونے والے افراد کی رہائش گاہیں کھنڈرات کا منظر ہیش کرتی ہیں

کرم ایجنسی کے صدر مقام پاڑہ چنار میں دو ہزار سات اور دو ہزار آٹھ میں ہونے والے شیعہ سنی فسادات کے نتیجے میں تقریباً آٹھ سو کے قریب خاندان نقل مکانی پر مجبور ہوئے تھے۔ ان میں سے بیشتر متاثرین کوہاٹ، ہنگو ، پشاور، ایبٹ آباد اور بعض متاثرین پنجاب کے بعص علاقوں میں بدستور پناہ لینے پر مجبور ہیں۔

اس سے قبل 1980 کی دہائی میں بھی ایسی ہی جھڑپوں کی وجہ سے سینٹرل کرم ایجنسی کے علاقے صدا سے بھی کئی خاندان بےگھر ہوئے تھے جو چار عشرے گزر جانے کے باوجود اپنے اپنے علاقوں کو واپس نہیں لوٹ سکے ہیں۔

پاڑہ چنار اور صدا سے بے دخل ہونے والے خاندانوں کی واپسی کو یقینی بنانے کے لیے حکومت کی طرف سے مری کے مقام پر ایک امن معاہدہ بھی کیا گیا جس پر تمام فریقین متفق تھے لیکن اس معاہدے پر اس کی روح کے مطابق عمل درآمد نہیں کیا گیا اور یوں یہ معاملہ اب تک حل نہیں کیا جا سکا ہے۔

کوہاٹ میں کئی برس سے مقیم پاڑہ چنار کے ایک قبائلی ملک عطااللہ غلجی کا کہنا ہے کہ جب تک علاقے میں امن و امان کی صورتحال بہتر نہیں ہو جاتی اور فریقین کا اعتماد بحال نہیں ہوتا اس وقت تک بےگھر خاندانوں کی واپسی مشکل ہے۔

پاڑہ چنار شہر کے زیادہ تر باشندوں کا خیال ہے کہ ماضی میں ہونے والے بیشتر واقعات فرقہ وارانہ نوعیت کے نہیں تھے لیکن انھیں دانستہ طورپر مسلک کی بنیاد پر لڑائی کا رنگ دیا گیا جس سے علاقے میں نفرت کی ایسی دیواریں کھڑی ہوگئی ہیں جنھیں اب گرانا اتنا آسان نہیں۔

Image caption قبائلی ملک عطااللہ غلجی کا کہنا ہے کہ جب تک علاقے میں امن و امان کی صورتحال بہتر نہیں ہو جاتی اور فریقین کا اعتماد بحال نہیں ہوتا اس وقت تک بےگھر خاندانوں کی واپسی مشکل ہے۔

پاڑہ چنار میں انجمن حسینیہ کے سیکرٹری حاجی فقیر حسن کا کہنا ہے کہ کرم ایجنسی کا حسن اور امن اسی میں ہے کہ یہاں تمام فرقے موجود ہوں۔

انھوں نے کہا کہ 'پہلے پاڑہ چنار میں شیعہ سنی کا کوئی مسئلہ نہیں تھا، ہم سب ایک صدی تک بھائیوں کی طرح زندگی گزارتے آئے ہیں لیکن افغان جنگ کے بعد اس معاملے نے ایک فساد کی شکل اختیار کی جس سے یہ مسئلہ اب انتہائی پیچیدہ ہوچکا ہے۔'

ان کے مطابق پاڑہ چنار سے بے گھر ہونے افراد اب بھی ان کے بھائی ہیں اور ان کو اپنے علاقے میں ہر وقت خوش آمدید کہیں گے کیونکہ یہ ان کا اپنا وطن ہے۔

مقامی انتظامیہ کا بھی دعویٰ ہے کہ بےگھر خاندانوں کا معاملہ رواں سال کے آخر تک ہر حال میں حل کرلیا جائے گا۔ کرم ایجنسی کے پولیٹیکل ایجنٹ اکرام اللہ نے کہا کہ پاڑہ چنار شہر اور ایجنسی کے دوسرے مقامات پر امن و امان کی صورتحال پہلے کے مقابلے میں کافی حد تک بہتر ہوچکی ہے۔

Image caption انجمن حسینیہ کے سیکرٹری حاجی فقیر حسن کا کہنا ہے کہ کرم ایجنسی کا حسن اور امن اسی میں ہے کہ یہاں تمام فرقے موجود ہوں۔

ان کے بقول 'کرم ایجنسی میں حکومت کی عملداری بہت مضبوط ہوچکی ہے اور اب کوئی انتظامیہ کی رٹ کو چیلینج کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔'

انھوں نے مزید کہا کہ بدقسمتی سے کچھ عرصہ پہلے شہر میں کچھ ایسے واقعات ہوئے جس میں ہلاکتیں بھی ہوئیں لیکن اس کے نتیجے میں شہر میں کوئی گھیراؤ جلاؤ کا واقعہ پیش نہیں آیا جو اس بات کا ثبوت ہے کہ سکیورٹی کی صورتحال بہتر ہوئی ہے۔

پولییٹکل ایجنٹ نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ بےگھر خاندان پاڑہ چنار سے باہر ضرور مقیم ہیں لیکن انتظامیہ ان کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے اور وقتاً فوقتاً انھیں کرم ایجنسی کے دورے بھی کرائے جاتے ہیں تاکہ اعتماد کی فضا کو بحال کیا جا سکے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں